حالیہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے عالمی نظام ایل نینو سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو 2050 تک لاہور اور فیصل آباد دنیا کے گرم ترین شہروں میں شمار ہو سکتے ہیں، جبکہ شدید گرمی کے باعث اموات کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
تحقیق کے مطابق ایل نینو کے اثرات کے باعث پاکستان میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور موسمیاتی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت، آبی وسائل اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بھی ہیٹ ویوز کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ چیف میٹرولوجسٹ لاہور ڈاکٹر ظہیر بابر کے مطابق ایل نینو کے اثرات کے تحت درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہری مراکز میں بلند عمارتوں، گاڑیوں کے دھوئیں، سبزہ زاروں کی کمی اور تیزی سے بڑھتی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے باعث گرمی کی شدت مزید بڑھ رہی ہے۔
ماہر ماحولیات ڈاکٹر ذوالفقار احمد نے بتایا کہ عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں درجہ حرارت میں 4.5 فیصد جبکہ لاہور میں 4.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی لاہور کے حکام کا کہنا ہے کہ درخت لگانے کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سی جاری کرنے کے لیے کم از کم 7 فیصد رقبے پر شجرکاری کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ شہری علاقوں میں سبزہ بڑھایا جا سکے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر آنے والی نسلوں کو شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور موسمیاتی بحران کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے تو حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان میں بڑے پیمانے پر شجرکاری، ماحول دوست شہری منصوبہ بندی، آلودگی میں کمی اور موسمیاتی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
2050 تک لاہور دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہو سکتا ہے
