Baaghi TV

دوست ہی دغا باز نکلے، معمولی رنجش پر نوجوان کو گھر سے بلا کر کھیتوں میں گولیاں مار دی

واٹس ایپ پر بھائی کو آخری کال مجھے بچانے پہنچو، دوست جھگڑا کر رہے ہیں موقع پر پہنچتے ہی فائرنگ
ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے محمد علی دم توڑ گیا، پولیس نے اقدامِ قتل کے مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر دیں
گوجرخان (قمر شہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے نگائل عمر خان میں دوستی کا بھرم خاک میں مل گیا۔ معمولی رنجش اور پرانے جھگڑے پر مبینہ طور پر دوستوں نے ہی اپنے دیرینہ ساتھی کو دھوکے سے گھر سے بلایا اور کھیتوں میں لے جا کر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقتول نوجوان بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ پولیس نے اقدامِ قتل کے درج مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ تھانہ گوجرخان میں درج ایف آئی آر مقدمہ نمبر 513/26 کے مطابق، مقتول محمد علی کے بھائی فرخ سرفراز نے پولیس کو بیان دیا کہ 26 جون کی رات تقریباً 11 بجے وہ اپنے گھر میں موجود تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر جا کر دیکھا تو فیضان ولد ممتاز اور علی ساکن ڈھوک چوہان موجود تھے، جنہوں نے محمد علی کو باہر بلانے کا کہا۔ محمد علی اپنے ان دوستوں کی نیت سے بے خبر ان کے ساتھ چلا گیا۔ کافی دیر گزرنے کے باوجود جب محمد علی گھر واپس نہ پہنچا تو اہل خانہ تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ اسی دوران مقتول محمد علی نے اپنے بھائی خرم کے واٹس ایپ پر انتہائی مخدوش حالت میں کال کی اور بتایا کہ فیضان اور علی مجھے موہڑہ سیال میں راجہ قیصر کے ڈیرے کے پیچھے کھیتوں میں لے آئے ہیں اور میرے ساتھ جھگڑا کر رہے ہیں، فوری طور پر میری مدد کو پہنچو۔ اطلاع ملتے ہی شکایت کنندہ فرخ اپنے بھائیوں خرم اور عدنان کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا، جہاں محمد علی اور ملزمان کے درمیان تلخ کلامی جاری تھی۔ بھائیوں کے سامنے ہی ملزم فیضان نے اپنے ساتھی کو للکارا کہ اسے گولی مار دو، جس پر ملزم علی نے 30 بور پستول سے سیدھی گولی چلا دی جو محمد علی کی پشت پر دائیں جانب لگی اور وہ خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر گیا، جبکہ دونوں ملزمان رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان پہنچایا گیا، جہاں تشویشناک حالت کے پیشِ نظر اسے بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ریفر کر دیا گیا۔

زخمی محمد علی نے ہسپتال میں دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں بھی عمر اور فیضان کو نامزد کیا تھا۔ تاہم، 27 جون کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے محمد علی زندگی کی بازی ہار گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی گوجرخان پولیس افسران انچارج ایچ آئی یو موقع پر پہنچے اور فرانزک ٹیم نے شواہد حاصل کیے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا پس منظر چند روز قبل ہونے والا معمولی لڑائی جھگڑا اور پرانی رنجش ہے۔ محمد علی کے جاں بحق ہونے کے بعد مقدمے میں دفعہ 302 قتل عمد شامل کر لی گئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں، جنہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا

More posts