ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عمان کے خلاف امریکی حکام کے مبینہ دھمکی آمیز بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک خودمختار ریاست پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرِ خزانہ کی جانب سے عمان پر ممکنہ پابندیوں کی دھمکی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کو سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنا قابل قبول نہیں اور یہ اقوام متحدہ کے منشور کی روح کے خلاف ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق عمان خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کے خلاف دھمکی آمیز زبان کا استعمال خطے میں استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر پابندیوں کی دھمکی دینا مکمل طور پر غیر قانونی اقدام ہے اور عالمی برادری کو ایسے رویوں کا نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے بین الاقوامی اداروں اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کی خودمختاری کے اصولوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیرِ خزانہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر عمان ایران کو آبنائے ہرمز میں کسی نئے ٹولنگ یا انتظامی نظام کے قیام میں مدد فراہم کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیر بحث رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمان خطے میں کئی اہم سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اس لیے اس کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
عمان کے خلاف امریکی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردعمل
