امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا مجوزہ مسودہ اسرائیل سمیت اپنے اہم اتحادی ممالک کو بھیج دیا ہے، جسے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق اہم شقیں شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو 30 روز کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معمول پر آ سکے۔
مجوزہ دستاویز کے مطابق ایران کو اس کے تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں تک مرحلہ وار رسائی دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے سفارتی مذاکرات کے لیے بھی فریم ورک وضع کرنے پر غور کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اس معاہدے کی حتمی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کرانے کا خواہاں ہے تاکہ اسے بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔
ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت جاری ہے اور دونوں فریق کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایران معاہدے کا مسودہ اتحادی ممالک کو بھجوا دیا
