Baaghi TV

Blog

  • بانیِ اپووا کاد ورہ تلہ گنگ، نمرہ کے بھائی وفات پر اظہارِ تعزیت،فیضان شیخ سے ملاقات

    بانیِ اپووا کاد ورہ تلہ گنگ، نمرہ کے بھائی وفات پر اظہارِ تعزیت،فیضان شیخ سے ملاقات

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے بانی و صدر ایم ایم علی کی تلہ گنگ آمد کے موقع پر انہوں نے مصنفہ نمرہ ملک کے بھائی کے انتقال پر ان کے گھر جا کر تعزیت کی۔ اس موقع پر اپووا چکوال و تلہ گنگ کے کوآرڈینیٹر فیضان شیخ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ بانیِ اپووا نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    بعد ازاں بانیِ اپووا نے اپووا کے ضلعی دفتر کا دورہ کیا، جہاں ان کی اپووا کوآرڈینیٹر فیضان شیخ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران تنظیمی امور، ادبی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ادبی خدمات کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر چکوال اور تلہ گنگ میں اپووا کے زیرِ اہتمام ایک ادبی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے بھی لائحۂ عمل طے کیا گیا۔فیضان شیخ کی جانب سے بانیِ اپووا کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا، جس میں معروف کالم نگار اور صحافی ارشد کوٹگلہ بھی شریک ہوئے۔

  • واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

    کل تقریباً سوا مہینے بعد، شہرِ اقتدار سے "شہرِ محبتاں” واپسی ہوئی۔ قادری ٹریولز اور سانگو اڈے پر بے انتہا رش تھا؛ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہجرت زدہ پرندے اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہوں۔ ہر چہرے پر تھکن بھی تھی بے قراری بھی اور اپنوں تک پہنچ جانے کی عجیب سی جلدی بھی۔ خیر تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد گاڑی ملی اور رات نو بجے سفر شروع ہوا۔ شوہرِ محترم اور بیٹابائیک پر تھے۔ راستے میں کہیں نہیں رکےاور مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ شاید محبت ہمیشہ منزل تک پہلے پہنچ جایا کرتی ہے۔

    جیسے ہی گاڑی مظفرآباد شہر میں داخل ہوئی ٹھنڈی ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ گیلی مٹی کی سحر انگیز خوشبو فضا میں یوں بکھر رہی تھی جیسے شہر نے مجھے پہچان لیا ہو جیسے وہ خاموشی سے کہہ رہا ہو: "تم واپس آ گئی ہو!”
    یہی بائیک پر مجھے اڈے سے لینے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ہلکی پھوار برس رہی تھی اور نہ جانے کیوں اُس لمحے دل عجیب سی طمانیت سے بھر گیا۔ کچھ شہر صرف جگہیں نہیں ہوتے وہ انسان کے اندر بس جاتے ہیں۔ شوہرِ محترم کی والدہ جو بقول اِن کے میری والدہ زیادہ اور ان کی والدہ کم لگتی ہیں اور جن کا آشیانہ میرے لیے میکے کا درجہ رکھتا ہے ۔ان کو ہم سرپرائز دے رہے تھے۔ ہم نے اُنہیں پیر کا بتایا تھا حالانکہ ہم ایک دو دن پہلے بنا اطلاع پہنچ گئے۔دروازہ کھلا تو اُن کی آنکھوں میں اُتر آنے والی خوشی نے ساری تھکن اتار دی۔ تب شدت سے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ کے آنے سے خوشی ملتی ہے جو آپ کی راہ تکتے ہیں جنہیں آپ کے ہونے سے،نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔ یہ جان کر دل کو عجیب سا سکون ملا کہ آج بھی دو آنکھیں میری منتظر رہتی ہیں؛ ایسی آنکھیں، جنہیں میرے آنے، جانے، ہنسنے، بولنے، حتیٰ کہ خاموش رہنے تک سے فرق پڑتا ہے۔بیٹی حنانہ نے دسترخوان سجایا۔ مونگ کی دال، گوشتابے اور کریلے چکن۔ مجھے لگا تھا کہ شاید تھکن کے باعث کچھ نہ کھا سکوں،مگر پہلا لقمہ لیتے ہی جیسے مدتوں کی محرومی ٹوٹ گئی۔ ہاتھ رکتے ہی نہیں تھے۔مینیو میں تو صرف مونگ کی دال تھی مگر امی نے کریلے چکن اور گوشتابوں میں سے میرا حصہ الگ نکال کر فریزر میں سنبھال رکھا تھا۔ اُس لمحے دل بھر آیا کیونکہ مائیں صرف کھانا نہیں سنبھالتیں، وہ اپنے بچوں کی پسند، اُن کی عادتیں، اُن کی کمی، اور اُن کی واپسی کی امید بھی سنبھال کر رکھتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سوا مہینے میں نے صرف "پیٹ بھرا” تھا، مگر گزشتہ شب میں نے "دل بھر کر” کھانا کھایا۔
    اللہ کرے، سب کی منتظر آنکھیں سلامت رہیں… آمین!

  • وزیراعظم کا دورہ چین،ملاقاتیں،معاہدے،مشترکہ اعلامیہ جاری

    وزیراعظم کا دورہ چین،ملاقاتیں،معاہدے،مشترکہ اعلامیہ جاری

    وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں، معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں سے متعلق پاکستان اور چین کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کیا اس دوران وزیراعظم شہبازشریف نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کیں، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کی تقریبات منعقد کی گئی،مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے افغانستان کے معاملے پر ایک دوسرے سے قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا اور پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا،مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور کسی گروہ کو کوئی زمین استعمال کرکےعلاقائی سلامتی کونقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کسی گروہ کو دہشتگردی کی سرگرمیاں کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی،پاکستان نے ون چائنا پالیسی پر مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان تائیوان کے معاملے پر چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

    دوسری جانب چین نے پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور سی پیک 2.0 کے اعلیٰ معیار کی ترقی اور گوادر پورٹ کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے پر اتفاق کیا گیا،اعلامیے کے مطابق قراقرم ہائی وے تھاکوٹ رائیکوٹ منصوبہ مرحلہ وار مکمل کرنے، خنجراب پاس کےذریعے پاک چین زمینی رابطے مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا، دیگر ممالک کو بھی سی پیک منصوبوں میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے جبکہ ٹیکسٹائل اور ہوم اپلائنسز کے شعبوں میں صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اور پاکستان اور چین کے درمیان معدنیات، تیل و گیس شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران چین نے پاکستانی زرعی مصنوعات کو مزید رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی، دونوں ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، چین 2025 سے 2029 تک پاکستان کیلئے 3 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرے گا، اس دوران دو پاکستانی خلا بازوں کی چین میں تربیت پر بھی اتفاق کیا گیا، اس طرح پاکستانی خلا باز چین کےاسپیس اسٹیشن جانےوالے پہلے غیر ملکی خلا باز بن سکتے ہیں،پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی اور انسداد دہشتگردی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کی سکیورٹی مزید سخت بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا، دہشتگردی کے خلاف دہرے معیار کی مخالفت سمیت پاکستان اور چین کا اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کا اعادہ کیاگیا اور دونوں ممالک نےجنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا،مزید برآں چین نے پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ صدارت کی حمایت کی اور سلامتی کونسل میں پاکستان کے کردار سمیت ایران اور امریکا جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔

  • تامل ناڈو،فلمی ہیرو وزیراعلیٰ،فلموں کے سین کو نوجوان نے حقیقت میں بدل ڈالا

    تامل ناڈو،فلمی ہیرو وزیراعلیٰ،فلموں کے سین کو نوجوان نے حقیقت میں بدل ڈالا

    بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک طرف فلمی ہیرو تھلاپتی وجے نے اداکاری سے سیاست کا سفر طے کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ہے تو دوسری طرف ان کی فلموں کے ایک سین کو ایک نوجوان نے حقیقت میں بدل دیا۔

    ریاست کے کوییمبتور ضلع میں ایک دل دکھانے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک نوجوان نے محبت کو ٹھکرا دینے پر لڑکی کے گھر پر پٹرول بم پھینک دیا۔ یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا۔تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ کوییمبتور کے تھونڈاموتھور علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے میں ایک نوجوان کی دوستی ایک لڑکی سے ہوجاتی ہے۔ لڑکا لڑکی کو شادی کی پیشکش کرتا ہے مگر لڑکی صاف صاف انکار کر دیتی ہے جس سے وہ نوجوان بدلہ لینے کی ٹھان لیتا ہے۔

    ناراض نوجوان اسکوٹر پر سوار ہو کر لڑکی کے گھر پہنچا، پٹرول بم پھینکا اور بھاگ نکلا۔ بم پھٹتے ہی شدید آگ بھڑک اٹھی، گھر کے پورچ اور باہر کھڑی اسکوٹر مکمل طور پر شعلوں کی زد میں آ گئے۔ آس پاس کے لوگوں نے فوری طور پر بالٹیوں میں پانی بھر کر آگ بجھانے کی کوشش کی اور بڑے سانحے کو روک لیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان تیزی سے آتا ہے، بم پھینکتا ہے اور فرار ہو جاتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔ کوییمبتور پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور دیگر سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی چیک کی جا رہی ہیں۔ 

    وزیراعلیٰ وجے کی حکومت نے ریاست بھر میں قانون و نظم کی صورتحال پر نظر رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ واقعہ تامل ناڈو کی موجودہ سیاسی فضا کی عکاسی کرتا ہے جہاں فلمی کردار اب حقیقی طاقت کے مرکز میں ہیں اور معاشرتی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔

  • تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    کیا پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں خاموش سفارت کاری کا نیا مرکز بن رہا ہے؟
    دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ صرف دو ملکوں کو نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ، معاشی بحران اور توانائی کے طوفان میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی اختلاف نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقت، خلیجی سلامتی، تیل کی منڈیوں اور ایٹمی توازن کا حساس معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کی خاموش سفارت کاری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر عالمی مذاکرات کے پسِ پردہ اہم کردار ادا کررہاہے

    کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود تہران نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ شام، عراق، لبنان اور خلیج کی سیاست میں ایران کا کردار امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، جبکہ ایران خود کو مزاحمت، خودمختاری اور اسلامی سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    امریکا اور ایران کی کشیدگی کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ تنازع مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ کبھی خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے حرکت میں آتے ہیں، کبھی تہران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور کبھی اسرائیل کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد ایران کے ردِعمل نے دنیا کو کئی بار ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

    اس پورے منظرنامے میں موجودہ امریکی صدر Donald Trump کی شخصیت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی جارحانہ زبان، سوشل میڈیا بیانات اور طاقت کے غیر روایتی انداز نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک غیر یقینی رخ پر کھڑا کر دیا ہے۔ رات گئے سوشل میڈیا پوسٹس، مخالفین پر طنزیہ حملے اور ایران کو براہِ راست دھمکیاں اب عالمی سیاست کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہیں اے آئینی مدد سے ٹویٹ اور فوٹوز کا پوسٹ ان کی نفسیات پہ سوالیہ نشان ہے

    امریکی اداکار Robert De Niro نے ایک موقع پر ٹرمپ کو “sociopathic, psychopathic malignant narcissist” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بعض ماہرینِ نفسیات بھی ٹرمپ کی شخصیت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جون کے مطابق ٹرمپ “personality disorder” کی ایک ایسی شکل کا مظہر ہیں جسے “malignant narcissism” کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو اصل میں جرمن نژاد ماہرِ نفسیات Erich Fromm نے متعارف کرایا تھا، جو نازی جرمنی سے فرار ہو گئے تھے اور جنہوں نے Adolf Hitler کی نفسیات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔

    ڈاکٹر جون کا کہنا ہے کہ جب 2015 میں ٹرمپ امریکی سیاست میں ابھرے تو انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک “malignant narcissist” شخصیت اقتدار میں آنے کے بعد عالمی اقدار، سفارت کاری اور سیاسی توازن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق طاقت، انا اور غیر متوقع فیصلوں کا یہ امتزاج عالمی سطح پر بے یقینی کو بڑھاتا ہے، جبکہ حامی اسے “جارحانہ قیادت” کا نام دیتے ہیں۔

    اسی دوران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پاکستانی اعلیٰ شخصیات کے بار بار ایران کے دورے، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے، اور پسِ پردہ مذاکراتی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔

    پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کھلی جنگ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، سرحدی سلامتی، توانائی منصوبوں اور علاقائی استحکام پر پڑے گا۔ اسی لیے اسلام آباد اپنے میوچل انٹرسٹ کے تحت یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

    اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چین کبھی کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل گارنٹی نہیں دے گا کیونکہ بیجنگ اپنی عالمی معاشی پوزیشن اور سفارتی توازن کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ چین مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران اور امریکا کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ چین جانتا ہے کہ خلیج میں جنگ اس کی توانائی سپلائی، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں اور عالمی تجارت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    خطے کی جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس اہم گزرگاہ پر ایران اور عمان کا جغرافیائی کنٹرول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے ہر مسئلے کا حل ممکن نہیں، اور خلیجی استحکام کے لیے ایران کے کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے عالمی سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی راستہ کھولنے میں اسلام آباد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، جبکہ افغان مذاکرات میں بھی پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔ آج اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد ایک قابلِ قبول اور متوازن مقام بن سکتا ہے۔

    پاکستان کی انہی سفارتی کوششوں پر پڑوسی ملک انڈیا میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ بھارت خود کو خطے کی بڑی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے اگر ایران اور امریکا جیسے اہم فریق اسلام آباد کے ذریعے قریب آتے ہیں تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تصور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں اس حوالے سے سخت ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔

    دنیا پہلے ہی یوکرین اور غزہ کی جنگوں سے تھک چکی ہے۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے، تیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بارود کے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے وقت میں شاید سب سے بڑی ضرورت میزائلوں کی نہیں بلکہ مذاکرات کی ہے، دھمکیوں کی نہیں بلکہ تدبر کی سیاست کی ہے۔

    اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک اور جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اور اگر اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میز سجانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو کیا پاکستان اس بار صرف ثالث نہیں بلکہ خطے میں امن کی نئی سفارتی امید کے طور پر یاد رکھا جائے گا

  • وزیراعظم شہباز شریف کا بیجنگ میں آئی بی آئی کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا بیجنگ میں آئی بی آئی کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیجنگ میں آئی بی آئی کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔
    اس سے قبل آئی بی آئی پہنچنے پر فینگتائی ڈسٹرکٹ کے پارٹی سیکریٹری مسٹر وانگ شاؤفینگ اور آئی بی آئی کے صدر مسٹر چیان شیاو جون نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا پاک چین اقتصادی اور تکنیکی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انھوں نے پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ دینے کے ساتھ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان چینی کمپنیوں کو اپنے کاروبار کے فروغ اور توسیع کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور تکنیکی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پاکستان کے چار اہم ترین ترجیحی پروگراموں میں شامل ہیں، جنہیں حکومت تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہی ہے۔تقریب میں موجود نوجوان شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں باصلاحیت کاروباری شخصیات اور اپنے شعبوں کے ماہرین قرار دیا اور کہا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کو فنی تربیت اور مختلف شعبوں میں مہارتیں فراہم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت خصوصی اقتصادی زونز (SEZS) میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو کراچی میں پورٹ قاسم کے قریب قائم پہلے خصوصی اقتصادی زون کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔ چین پاکستان صنعتی تعاون کے فروغ اور سرحد پار صنعتی راہداریوں سے متعلق موضوعاتی اجلاس میں 150 سے زائد کمپنیوں اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    بیجنگ میں اکیڈمی آف ایگری کلچرل سائنسنز کے دورے کے موقع پر اکیڈمی کے صدر پروفیسر ہووانگ شان وین نے وزیراعظم محمدشہبازشریف کو پروفیسر شپ کی اعزازی ڈگری سے نوازا ۔انیس سوستاون میں قائم ہونے والی یہ اکیڈمی چین کی زرعی اورمعاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے ۔اس موقع پر وزیراعظم نے اکیڈمی کے صدر پروفیسر ہووانگ شان وین کاشکریہ ادا کرتےہوئے کہاکہ یہ نہ صرف میرے لئے بلکہ پوری قوم کیلئے ایک اعزاز ہے۔اس موقع پر وزیراعظم محمدشہبازشریف کو ادارے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔وزیراعظم کو بتایاگیاکہ اکیڈمی آف ایگری کلچرل سائنسنز نے زرعی سائنس کے ممتاز ماہرین تیار کئے ہیں جو چین کے زرعی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہےہیں ۔

    وزیراعظم محمدشہبازشریف نے چین کےشہر بیجنگ میں چائنیز اکیڈمی آف ایگری کلچرل سائنسز کے دورے کے موقع پر تقریب سےخطاب کرتےہوئے کہاہے کہ آئی ٹی اورمصنوعی ذہانت جیسے اہم ٹولز کی موجودگی کے باوجود زرعی شعبے کو ترقی دے کر ہی معاشی ترقی کے اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ مستقبل کو محفوظ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں زرعی انقلاب برپاکیاجائے۔چین کی مدد سے پاکستان زرعی تحقیقی مراکز کو جدید خطوط پراستوار کرنے کا خواہاں ہے ۔چائنیز اکیڈمی آف ایگری کلچرل سائنسز کے تعاون سے ہمارے سائنسدان ،انجینئرز اور کسان شاندار نتائج دے سکتے ہیں ۔

  • امریکا کے ایران کے میزائل لانچنگ مقامات اور کشتیوں پر حملے

    امریکا کے ایران کے میزائل لانچنگ مقامات اور کشتیوں پر حملے

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر “دفاعی کارروائی” کے نام پر فضائی حملے کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی مذاکرات کار ثالثی بات چیت میں مصروف تھے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر پیش رفت جاری تھی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں جنوبی ایران میں موجود میزائل لانچنگ سائٹس اور ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن پر الزام ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی فوجیوں اور جنگی جہازوں کے تحفظ کے لیے کی گئیں۔سینٹ کام کے ترجمان ے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے “ایرانی خطرات” کے خلاف اپنے دفاع میں کارروائی کی، تاہم ساتھ ہی جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی حکام نے فوری طور پر ان حملوں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ایرانی ریاستی میڈیا نے امریکی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حملے ایران اور امریکا کے درمیان جاری حساس مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک پہلے بھی جنگ بندی کے دوران ایک دوسرے پر حملے کر چکے ہیں۔

    ادھر امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ بنیادی طور پر الفاظ اور شرائط کے تنازع میں پھنسا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اختلافات خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے مستقبل اور پابندیوں کے خاتمے کی زبان پر موجود ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے افزودہ یورینیم ذخیرے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ انتہائی افزودہ یورینیم کو یا تو امریکا منتقل کیا جائے گا، موقع پر ہی ختم کیا جائے گا یا کسی تیسرے مقام پر لے جایا جائے گا۔
    ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یورینیم سے متعلق مذاکرات صرف اسی صورت شروع ہو سکتے ہیں جب پہلے جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک باضابطہ یادداشت پر اتفاق ہو جائے۔

    خطے میں کشیدگی صرف ایران تک محدود نہیں رہی۔ لبنان میں بھی صورتحال ایک بار پھر خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے، جن میں دارالحکومت بیروت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔امریکی حکام نے اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ اگرچہ لبنان میں کئی ہفتوں سے جنگ بندی نافذ ہے، اس کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان میں مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی راکٹ حملے جاری ہیں۔

    اسی دوران صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتی ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کو لازمی طور پر ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے گی۔ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور بحرین کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں۔ تاہم ایک سعودی ذریعے نے واضح کیا کہ ابراہم معاہدوں سے متعلق سعودی عرب کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

    دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں نے اس امید پر تیل فروخت کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی بحال ہو جائے گی۔

  • چین  دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے،شہباز شریف

    چین دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ چین نے گزشتہ 75 برس میں بے مثال ترقی کی اور آج وہ دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے۔

    بیجنگ میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ چین نے گزشتہ 75 برس میں بے مثال ترقی کی اور آج وہ دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اب ایسے بلند مقام پر پہنچ چکے ہیں جن کی کوئی مثال نہیں ملتی، معاشی طاقت کے لحاظ سے چین کا کوئی ثانی نہیں، جبکہ 2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی شی جن پنگ کی قیادت میں کروڑوں افراد غربت سے باہر آئے اور خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے چین کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں صدر شی جن پنگ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔

    تقریب کے اختتام پر وزیراعظم شہبازشریف اور چینی نائب صدر نے پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر یادگاری کیک بھی کاٹا۔

  • محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ،سہولتوں کا جائزہ

    محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ،سہولتوں کا جائزہ

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف انتظامات کا جائزہ لیا اور حجاج کے لیے فراہم کردہ سہولتوں کا مشاہدہ کیا۔

    دورے کے دوران وزیرداخلہ نے حجاج کرام خصوصاً بزرگوں سے ملاقات کی اور ان سے انتظامات، رہائش اور کھانے پینے کی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا،محسن نقوی خصوصی طور پر 100 برس عمر کے بزرگ حاجی سے بھی ملے، ان کی خیریت دریافت کی اور معمر ترین حاجی کی ہمت کو سراہا۔

    اس موقع پر حجاج کرام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بار انتظامات اچھے ہیں، جبکہ بعض حجاج نے بتایا کہ کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن عملے نے بہت تعاون کیا،وفاقی وزیرداخلہ نے حجاج کرام کو یقین دلایا کہ ہر حاجی ہمارے لیے بہت خاص ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملہ موجود ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور ان کی ٹیم کی محنت کو بھی سراہا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس بار حجاج کرام کی پاکستان میں امیگریشن کی بہت بڑی سہولت فراہم کی ہے انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزارت حج کا خصوصی طور پر شکریہ بھی ادا کیا۔

  • یو اے ای سے ہزاروں پاکستانیوں کی اچانک ملک بدری

    یو اے ای سے ہزاروں پاکستانیوں کی اچانک ملک بدری

    100 سے زائد ایسے محنت کش نوجوان اچانک اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں جن کے پاس نہ تو ان کی نوکریاں بچی ہیں، نہ وہ اپنا سامان ساتھ لا سکے اور نہ ہی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی نکال پائے ہیں جو انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں دن رات ایک کر کے جمع کی تھی، انسانی حقوق کی عا لمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھی اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ایسے 103 پاکستانیوں کی امیگریشن دستاویزات، ویزا اسٹیٹس کے اسکرین شاٹس اور پروازوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا ہے جنہیں وہاں سے نکالا گیا، اور ان میں سے 24 افراد کا ذاتی انٹرویو بھی کیا گیا ہے انٹرویو دینے والے ہر شخص نے بتایا کہ فلائٹ میں بٹھانے سے پہلے انہیں اپنا ذاتی سامان اٹھانے یا بینکوں میں موجود اپنی بچت کی رقم نکالنے کی بالکل اجازت نہیں دی گئی اور انہیں درجنوں دیگر ہم وطنوں کے ساتھ جہاز میں بٹھا کر واپس بھیج دیا گیا۔

    پاکستان کی سیاسی و مذہبی تنظیم ’مجلس وحدت المسلمین‘ کی جانب سے تیار کردہ ایک ڈیٹا بیس کے مطابق، 28 فروری کو جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، اس کے بعد سے اب تک خلیجی ملک یو اے ای سے کم از کم 7 ہزار 500 پاکستانیوں کو نکالا جا چکا ہےتنظیم کے ترجمان محسن عابدی نے رائٹرز کو صورتحال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس موجود فہرست میں ساڑھے سات ہزار نام ہیں لیکن حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران لوگوں کو ملک بدر کیے جانے کے واقعات میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے، کیونکہ ایران نے جواب میں یو اے ای پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جس سے پورے خلیج کے علاقے میں سخت تناؤ پھیل گیا،ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یو اے ای کی حکومت نے کس قانون یا معیار کے تحت ان پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے چنا۔

    رائٹرز کے مطابق، اس حوالے سے یو اے ای کی وزارتِ خارجہ سے جب سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا، دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای نے کسی بھی شخص کو مسلک یا فرقے کی بنیاد پر نہیں نکالا بلکہ جن لوگوں کو بھی واپس بھیجا گیا ہے انہوں نے یو اے ای کے مقامی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی تفصیلات دیے بغیر صرف اتنا کہا کہ اس سال ملک بدری کے اعداد و شمار معمول کے مطابق ہی ہیں تاہم، حکومتِ پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک مختلف حقیقت بیان کی۔

    رائٹرز کے مطابق، انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلام آباد یو اے ای سے ہزاروں کی تعداد میں واپس بھیجے جانے والے پاکستانیوں کی آمد کے بعد صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے، لیکن پاکستانی حکومت نے سفارتی وجوہات کی بنا پر اس معاملے کو یو اے ای کے سامنے کھل کر نہیں اٹھایا۔

    اس صورتحال پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ڈپٹی مڈل ایسٹ ڈائریکٹر مائیکل پیج نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانی رہائشیوں کی بے دخلی کی رپورٹیں انتہائی تشویشناک ہیں اور ہماری تنظیم ان سنگین الزامات کی مکمل انویسٹی گیشن کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اوورسیز پاکستانیز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں رہائش پذیر اور برسرِروزگار ہیں جو سالانہ 6 ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جبکہ پاکستان خود بھی ایران تنازع کو کم کرنے کے لیے ایک ثالث کے طور پر کوششیں کر رہا ہے۔