امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر “دفاعی کارروائی” کے نام پر فضائی حملے کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی مذاکرات کار ثالثی بات چیت میں مصروف تھے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر پیش رفت جاری تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں جنوبی ایران میں موجود میزائل لانچنگ سائٹس اور ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن پر الزام ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی فوجیوں اور جنگی جہازوں کے تحفظ کے لیے کی گئیں۔سینٹ کام کے ترجمان ے بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے “ایرانی خطرات” کے خلاف اپنے دفاع میں کارروائی کی، تاہم ساتھ ہی جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے فوری طور پر ان حملوں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ایرانی ریاستی میڈیا نے امریکی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حملے ایران اور امریکا کے درمیان جاری حساس مذاکرات کو متاثر کر سکتے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک پہلے بھی جنگ بندی کے دوران ایک دوسرے پر حملے کر چکے ہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ بنیادی طور پر الفاظ اور شرائط کے تنازع میں پھنسا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اختلافات خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے مستقبل اور پابندیوں کے خاتمے کی زبان پر موجود ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے افزودہ یورینیم ذخیرے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ انتہائی افزودہ یورینیم کو یا تو امریکا منتقل کیا جائے گا، موقع پر ہی ختم کیا جائے گا یا کسی تیسرے مقام پر لے جایا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یورینیم سے متعلق مذاکرات صرف اسی صورت شروع ہو سکتے ہیں جب پہلے جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک باضابطہ یادداشت پر اتفاق ہو جائے۔
خطے میں کشیدگی صرف ایران تک محدود نہیں رہی۔ لبنان میں بھی صورتحال ایک بار پھر خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے، جن میں دارالحکومت بیروت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔امریکی حکام نے اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ اگرچہ لبنان میں کئی ہفتوں سے جنگ بندی نافذ ہے، اس کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان میں مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی راکٹ حملے جاری ہیں۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتی ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کو لازمی طور پر ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے گی۔ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور بحرین کے رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں۔ تاہم ایک سعودی ذریعے نے واضح کیا کہ ابراہم معاہدوں سے متعلق سعودی عرب کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں نے اس امید پر تیل فروخت کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی بحال ہو جائے گی۔
