Baaghi TV

واپسی اُن آنکھوں کی طرف جو آج بھی منتظر رہتی ہیں،تحریر:بینا علی

کل تقریباً سوا مہینے بعد، شہرِ اقتدار سے "شہرِ محبتاں” واپسی ہوئی۔ قادری ٹریولز اور سانگو اڈے پر بے انتہا رش تھا؛ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہجرت زدہ پرندے اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے ہوں۔ ہر چہرے پر تھکن بھی تھی بے قراری بھی اور اپنوں تک پہنچ جانے کی عجیب سی جلدی بھی۔ خیر تین گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد گاڑی ملی اور رات نو بجے سفر شروع ہوا۔ شوہرِ محترم اور بیٹابائیک پر تھے۔ راستے میں کہیں نہیں رکےاور مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ شاید محبت ہمیشہ منزل تک پہلے پہنچ جایا کرتی ہے۔

جیسے ہی گاڑی مظفرآباد شہر میں داخل ہوئی ٹھنڈی ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے استقبال کیا۔ گیلی مٹی کی سحر انگیز خوشبو فضا میں یوں بکھر رہی تھی جیسے شہر نے مجھے پہچان لیا ہو جیسے وہ خاموشی سے کہہ رہا ہو: "تم واپس آ گئی ہو!”
یہی بائیک پر مجھے اڈے سے لینے آئے تھے۔ اُس وقت بھی ہلکی پھوار برس رہی تھی اور نہ جانے کیوں اُس لمحے دل عجیب سی طمانیت سے بھر گیا۔ کچھ شہر صرف جگہیں نہیں ہوتے وہ انسان کے اندر بس جاتے ہیں۔ شوہرِ محترم کی والدہ جو بقول اِن کے میری والدہ زیادہ اور ان کی والدہ کم لگتی ہیں اور جن کا آشیانہ میرے لیے میکے کا درجہ رکھتا ہے ۔ان کو ہم سرپرائز دے رہے تھے۔ ہم نے اُنہیں پیر کا بتایا تھا حالانکہ ہم ایک دو دن پہلے بنا اطلاع پہنچ گئے۔دروازہ کھلا تو اُن کی آنکھوں میں اُتر آنے والی خوشی نے ساری تھکن اتار دی۔ تب شدت سے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی نعمت وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں آپ کے آنے سے خوشی ملتی ہے جو آپ کی راہ تکتے ہیں جنہیں آپ کے ہونے سے،نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے۔ یہ جان کر دل کو عجیب سا سکون ملا کہ آج بھی دو آنکھیں میری منتظر رہتی ہیں؛ ایسی آنکھیں، جنہیں میرے آنے، جانے، ہنسنے، بولنے، حتیٰ کہ خاموش رہنے تک سے فرق پڑتا ہے۔بیٹی حنانہ نے دسترخوان سجایا۔ مونگ کی دال، گوشتابے اور کریلے چکن۔ مجھے لگا تھا کہ شاید تھکن کے باعث کچھ نہ کھا سکوں،مگر پہلا لقمہ لیتے ہی جیسے مدتوں کی محرومی ٹوٹ گئی۔ ہاتھ رکتے ہی نہیں تھے۔مینیو میں تو صرف مونگ کی دال تھی مگر امی نے کریلے چکن اور گوشتابوں میں سے میرا حصہ الگ نکال کر فریزر میں سنبھال رکھا تھا۔ اُس لمحے دل بھر آیا کیونکہ مائیں صرف کھانا نہیں سنبھالتیں، وہ اپنے بچوں کی پسند، اُن کی عادتیں، اُن کی کمی، اور اُن کی واپسی کی امید بھی سنبھال کر رکھتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سوا مہینے میں نے صرف "پیٹ بھرا” تھا، مگر گزشتہ شب میں نے "دل بھر کر” کھانا کھایا۔
اللہ کرے، سب کی منتظر آنکھیں سلامت رہیں… آمین!

More posts