پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں پاک فوج، ریاستی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں کا کلیدی کردار
قومی مسائل کا پائیدار حل سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے مؤثر اشتراک میں مضمر ہے
قومی اتحاد، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد ہی پاکستان کے استحکام اور ترقی کی حقیقی ضمانت ہیں
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں داخلی اور خارجی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستی پالیسیوں کا امتحان لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت کو بہتر بنانے اور خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔ اس سفر میں پاک فوج، دیگر قومی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بارے میں دنیا کے مختلف حلقوں میں مثبت تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ریاستی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داریاں بھی کسی طور کم نہیں ہوتیں۔ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں اور حکومتیں صرف قانون سازی یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور سیاسی مفاہمت پیدا کرنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک سیاسی، سفارتی اور انسانی مسئلہ بھی ہے جسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے، مؤثر سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے اور قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں سیاسی قیادت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان میں موجود احساسِ محرومی، بدامنی یا علیحدگی پسند رجحانات کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل بھی سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور سنجیدہ مذاکرات کے متقاضی ہیں۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں منتخب نمائندوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومی وحدت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور سیاسی دانش سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی ماحول میں اکثر سیاسی جماعتوں کی توجہ عوامی مسائل اور قومی چیلنجز کے بجائے ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ ریاست کو درپیش خطرات، معیشت، امن و امان، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی چیلنجز ایسے معاملات ہیں جن پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ماضی کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے رہنما نظر آتے ہیں جو اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے تھے۔ سیاسی مکالمہ، برداشت اور قومی اتفاقِ رائے ان کی سیاست کا اہم حصہ تھا۔ آج بھی پاکستان کو اسی طرزِ فکر کی ضرورت ہے تاکہ قومی مسائل کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کیا جا سکے۔
پنجاب میں امن و امان، عوامی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی بعض کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ عوام کی توقع یہی ہوتی ہے کہ منتخب قیادت محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات میں کمی لائے اور قومی استحکام میں اپنا حصہ ڈالے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ قومی ترقی اور استحکام کے لیے تمام ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کو اپنی آئینی و قومی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ جب ہر ادارہ اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دے گا تو پاکستان مزید مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا مقام بنا سکے گا۔
