Baaghi TV

Blog

  • 
چین نے دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا

    
چین نے دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا

    ‎چین میں سمندر کے اندر تعمیر کیے گئے دنیا کے پہلے زیرِ آب ڈیٹا سینٹر نے باقاعدہ کمرشل آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جہاں ہزاروں سرورز سمندر کی گہرائی میں کام کر رہے ہیں۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید ڈیٹا سینٹر شنگھائی کے قریب لیانگانگ اسپیشل ایریا میں تعمیر کیا گیا ہے اور اسے سمندر کی سطح سے تقریباً 35 میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔
    ‎چینی حکام اور نجی کمپنی ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر 22 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل کیا۔ ڈیٹا سینٹر میں تقریباً 2 ہزار جدید سرورز نصب کیے گئے ہیں جو آرٹی فیشل انٹیلی جنس، 5 جی سروسز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ڈیجیٹل آپریشنز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    ‎اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے روایتی کولنگ سسٹمز کے بجائے سمندری پانی استعمال کیا جائے گا، جس سے توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اے آئی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل سروسز کے استعمال کے باعث ڈیٹا سینٹرز کی توانائی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عام ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں، جنہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھاری بجلی درکار ہوتی ہے۔
    ‎چین کے اس منصوبے میں آف شور ونڈ پاور کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ زیرِ آب کمپیوٹنگ انفرا اسٹرکچر کی بجلی ضروریات کو ماحول دوست انداز میں پورا کیا جا سکے۔
    ‎ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل کے گرین ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف بجلی کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ ماحول پر منفی اثرات بھی محدود کیے جا سکیں گے۔

  • 
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران میں معاہدے کا امکان 50 فیصد

    
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران میں معاہدے کا امکان 50 فیصد

    ‎متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات پچاس فیصد ہیں۔
    ‎ویب ڈیسک کے مطابق انور قرقاش نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی پیش رفت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں اس حوالے سے کئی اہم مواقع ضائع کر چکا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔
    ‎انور قرقاش کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق خطے کے استحکام اور عالمی اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی حل کی طرف بڑھیں گے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بڑی مقدار میں تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

  • 
24 گھنٹوں میں 35 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے، پاسداران انقلاب

    
24 گھنٹوں میں 35 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے، پاسداران انقلاب

    ‎ایرانی پاسداران انقلاب بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آئل ٹینکرز، کنٹینر بردار جہازوں اور دیگر تجارتی بحری جہازوں سمیت 35 جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔
    ‎ویب ڈیسک کے مطابق پاسداران بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام جہاز ایرانی حکام کی اجازت اور نگرانی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرے۔ بیان میں کہا گیا کہ بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے اور جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق گزرنے والے جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر بردار جہاز اور مختلف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہاز شامل تھے۔
    ‎پاسداران بحریہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات مزید سخت کیے گئے ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے اور عالمی بحری تجارت کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
    ‎یاد رہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز حالیہ دنوں میں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ بحری راستہ دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اہم ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے دورۂ ایران کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، خطے میں قیامِ امن اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اہم بات چیت کریں گے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ ایرانی حکام اور عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی تعاون، علاقائی سلامتی اور سفارتی پیش رفت سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔
    ‎دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس وقت ایران میں موجود ہیں۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ایران امریکا جنگ بندی سے متعلق مختلف مسودوں اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا۔
    ‎سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی آج بھی تہران میں قیام کریں گے اور امریکا ایران مذاکرات سے متعلق مزید اہم ملاقاتیں جاری رکھیں گے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت خطے میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور تہران میں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • 
ملک میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2700 روپے تک پہنچ گیا

    
ملک میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2700 روپے تک پہنچ گیا

    ‎ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بعض شہروں میں 2700 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
    ‎دستاویزات کے مطابق کراچی، بنوں اور پشاور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا سب سے مہنگا فروخت ہو رہا ہے، جہاں شہریوں کو ایک تھیلے کے لیے 2700 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2693 روپے 33 پیسے جبکہ راولپنڈی میں 2666 روپے 67 پیسے میں دستیاب ہے۔
    ‎ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گوجرانوالہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2260 روپے، سیالکوٹ میں 2200 روپے، لاہور میں 2250 روپے اور فیصل آباد میں 2350 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
    ‎اسی طرح سرگودھا میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2200 روپے، ملتان اور بہاولپور میں 2266 روپے 66 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ حیدرآباد میں اس کی قیمت 2600 روپے تک جا پہنچی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق سکھر میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2300 روپے، کوئٹہ میں 2670 روپے اور خضدار میں 2400 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
    ‎شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے سمیت روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو بجٹ شدید متاثر کر دیا ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق گندم کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور مہنگائی میں اضافے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

  • 
برطانیہ نے 17 ہزار غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر کر دیے

    
برطانیہ نے 17 ہزار غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر کر دیے

    ‎برطانیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جولائی 2024 سے اب تک 17 ہزار افراد کو ملک بدر کر دیا ہے۔
    ‎برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق حکومت نے امیگریشن قوانین کے نفاذ اور سرحدی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ اپیل سسٹم میں کئی خامیاں موجود تھیں جن کی وجہ سے غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی کے عمل میں تاخیر اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔
    ‎وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اب امیگریشن نظام میں فوری اور جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک بدری کے فیصلوں کو زیادہ شفاف، مؤثر اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔
    ‎برطانوی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سرحدی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور امیگریشن سسٹم پر عوامی اعتماد بحال کرنا ہے۔
    ‎حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بھی غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جو طویل عرصے سے بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہیں یا سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے مزید سخت پالیسیوں پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بعض اقدامات پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدامات برطانیہ میں امیگریشن کے مسئلے کو آئندہ انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی موضوع بنا سکتے ہیں۔

  • 
امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان ثالثی کر رہا ہے، مارکو روبیو

    
امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان ثالثی کر رہا ہے، مارکو روبیو

    ‎امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مسلسل رابطہ برقرار ہے۔
    ‎ویب ڈیسک کے مطابق مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران جا رہے ہیں اور امریکا ایران مذاکراتی عمل میں پاکستان اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکا کی پہلی ترجیح ہے اور اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے کہ وہ معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا نہیں۔ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت معاہدے پر کام کر رہا ہے تاہم واشنگٹن کے پاس متبادل حکمت عملی یعنی “پلان بی” بھی موجود ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نظام نافذ کرنے سے روکنے کے لیے عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
    ‎مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور یورینیم افزودگی سمیت آبنائے ہرمز کے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالثی کردار خطے میں اس کی سفارتی اہمیت کو مزید بڑھا سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔

  • ‎ایران امریکا مذاکراتی فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دینے کا امکان

    ‎ایران امریکا مذاکراتی فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دینے کا امکان

    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق ابتدائی معاہدہ ایک صفحے پر مشتمل ہوگا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بنیادی نکات اور آئندہ مذاکرات کے خدوخال شامل ہوں گے۔
    ‎العربیہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ابتدائی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے بعد ایک مقررہ مدت کے اندر جامع اور تفصیلی مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا، جس کے لیے باقاعدہ ٹائم فریم بھی طے کیا جائے گا۔
    ‎ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران اور امریکا مختلف متنازع امور پر مرحلہ وار بات چیت کریں گے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہو۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکراتی فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے سفارتی کردار کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کی جائے گی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پاکستان حالیہ علاقائی کشیدگی میں سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کے ذریعے اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ مختلف عالمی اور علاقائی قوتیں بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

  • 
این ڈی ایم اے کا بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا الرٹ جاری

    
این ڈی ایم اے کا بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا الرٹ جاری

    ‎نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 26 سے 31 مئی تک ملک بھر میں متوقع شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
    ‎این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
    ‎الرٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں 26 سے 31 مئی کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری متوقع ہے۔ چترال، دیر، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، ہنگو اور پاراچنار سمیت مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
    ‎گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی شدید موسمی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، نیلم ویلی، مظفرآباد، باغ، کوٹلی اور بھمبر میں بارش اور ژالہ باری متوقع ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ بھی موجود ہے۔
    ‎این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ قراقرم ہائی وے، ناران روڈ، جگلوٹ اسکردو روڈ، دیوسائی روڈ اور شگر ویلی روڈ سمیت متعدد اہم شاہراہیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متاثر ہو سکتی ہیں۔
    ‎پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی 28 سے 31 مئی کے دوران بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد، مری، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ملتان اور بہاولپور سمیت مختلف شہروں میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎بلوچستان میں کوئٹہ، ژوب، زیارت، چمن، خضدار اور تربت جبکہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین اور مٹھی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
    ‎این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ہنزہ، غذر، دیامیر، شگر، چترال، سوات اور کوہستان سمیت مختلف علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
    ‎اتھارٹی نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سیاحوں اور مسافروں کو شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال چیک کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  • 
ٹرمپ کا پولینڈ میں مزید 5 ہزار امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان

    
ٹرمپ کا پولینڈ میں مزید 5 ہزار امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پولینڈ میں مزید پانچ ہزار امریکی فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے یورپ میں امریکا کی فوجی موجودگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کے ساتھ اپنے قریبی اور دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولش صدر کو ذاتی طور پر پسند کرتے ہیں اور ماضی میں ان کی انتخابی مہم کی بھی حمایت کر چکے ہیں۔
    ‎ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور پولینڈ کے تعلقات مضبوط ہیں اور دونوں ممالک دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔
    ‎تاہم امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ پولینڈ بھیجے جانے والے اضافی فوجی پہلے سے موجود فوجی منصوبے کا حصہ ہیں یا انہیں کسی نئی فوجی حکمت عملی اور آپریشن کے تحت تعینات کیا جا رہا ہے۔
    ‎سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق اس اعلان کو یورپ میں بڑھتی سیکیورٹی صورتحال اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ امریکی تعاون کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پولینڈ پہلے ہی مشرقی یورپ میں امریکا کے اہم دفاعی اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور یورپ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔