Baaghi TV


چین نے دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا

‎چین میں سمندر کے اندر تعمیر کیے گئے دنیا کے پہلے زیرِ آب ڈیٹا سینٹر نے باقاعدہ کمرشل آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جہاں ہزاروں سرورز سمندر کی گہرائی میں کام کر رہے ہیں۔
‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید ڈیٹا سینٹر شنگھائی کے قریب لیانگانگ اسپیشل ایریا میں تعمیر کیا گیا ہے اور اسے سمندر کی سطح سے تقریباً 35 میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔
‎چینی حکام اور نجی کمپنی ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر 22 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل کیا۔ ڈیٹا سینٹر میں تقریباً 2 ہزار جدید سرورز نصب کیے گئے ہیں جو آرٹی فیشل انٹیلی جنس، 5 جی سروسز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ڈیجیٹل آپریشنز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
‎اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے روایتی کولنگ سسٹمز کے بجائے سمندری پانی استعمال کیا جائے گا، جس سے توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی۔
‎ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اے آئی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل سروسز کے استعمال کے باعث ڈیٹا سینٹرز کی توانائی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عام ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں، جنہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھاری بجلی درکار ہوتی ہے۔
‎چین کے اس منصوبے میں آف شور ونڈ پاور کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ زیرِ آب کمپیوٹنگ انفرا اسٹرکچر کی بجلی ضروریات کو ماحول دوست انداز میں پورا کیا جا سکے۔
‎ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل کے گرین ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف بجلی کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ ماحول پر منفی اثرات بھی محدود کیے جا سکیں گے۔

More posts