برطانیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جولائی 2024 سے اب تک 17 ہزار افراد کو ملک بدر کر دیا ہے۔
برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق حکومت نے امیگریشن قوانین کے نفاذ اور سرحدی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ اپیل سسٹم میں کئی خامیاں موجود تھیں جن کی وجہ سے غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی کے عمل میں تاخیر اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اب امیگریشن نظام میں فوری اور جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک بدری کے فیصلوں کو زیادہ شفاف، مؤثر اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔
برطانوی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سرحدی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور امیگریشن سسٹم پر عوامی اعتماد بحال کرنا ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بھی غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جو طویل عرصے سے بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہیں یا سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے مزید سخت پالیسیوں پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بعض اقدامات پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدامات برطانیہ میں امیگریشن کے مسئلے کو آئندہ انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی موضوع بنا سکتے ہیں۔
برطانیہ نے 17 ہزار غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر کر دیے
