گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
امریکی حکومت کے پاس جمع کرائی گئی ریگولیٹری فائلنگ کے مطابق آئندہ تین برسوں کے دوران الفابیٹ کی جانب سے سندر پچائی کو تقریباً 69 کروڑ 20 لاکھ ڈالر معاوضہ ادا کیا جائے گا جو پاکستانی کرنسی میں ایک کھرب 92 ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔
امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق اس معاوضے کا بڑا حصہ کمپنی کی کارکردگی سے منسلک ہے، یعنی اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ تین برسوں میں الفابیٹ کے مختلف منصوبے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیکج میں بڑی رقم الفابیٹ کی ذیلی کمپنیوں کی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر خودکار گاڑیوں پر کام کرنے والی کمپنی Waymo کی قدر میں اضافہ ہوا تو سندر پچائی کو حصص کی صورت میں تقریباً 26 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔
اسی طرح ڈرون ڈیلیوری کمپنی Wing کی بہتر کارکردگی کی صورت میں انہیں مزید 9 کروڑ ڈالر تک ملنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ الفابیٹ کی جانب سے تقریباً 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اسٹاک بھی دیے جائیں گے جبکہ مزید 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اس شرط پر ملیں گے کہ وہ آئندہ تین برسوں تک کمپنی کے ساتھ وابستہ رہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے پیکج کے باوجود سندر پچائی کی بنیادی سالانہ تنخواہ صرف 20 لاکھ ڈالر ہے جو 2020 سے تبدیل نہیں ہوئی۔
سندر پچائی نے 2004 میں گوگل میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد ازاں گوگل کروم اور اینڈرائیڈ جیسے اہم منصوبوں کی قیادت کی۔ 2015 میں انہیں گوگل کا سی ای او بنایا گیا جبکہ 2019 میں وہ الفابیٹ کے سربراہ بن گئے۔
Blog
-

سندر پچائی کو آئندہ 3 برس میں 69 کروڑ ڈالر سے زائد معاوضہ ملنے کا امکان
-

فتنہ الخوارج کو نہیں چھوڑیں گے، خطرہ ختم ہونے تک آپریشن جاری رہے گا: خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا تب تک آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کیے جاتے ہیں اور اس مسئلے پر افغان حکام سے دوبار ملاقات بھی کی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہر ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پہلے بھی پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ آزما چکا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ -

آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین پر اتفاق رائے، جلد نئے سپریم لیڈر کا اعلان متوقع
ایران کی مجلس خبرگان کے ایک رکن نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے حوالے سے اکثریتی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
مجلس خبرگان کے رکن میر باقری کے مطابق جانشینی کے معاملے میں اب صرف ایک یا دو تکنیکی اور آئینی امور طے ہونا باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ آئینی معاملات مکمل ہوں گے، ایران کے نئے سپریم لیڈر کے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔
میر باقری کا کہنا تھا کہ مجلس خبرگان اس عمل کو آئینی طریقہ کار کے مطابق مکمل کر رہی ہے تاکہ قیادت کی منتقلی کے حوالے سے تمام مراحل قانونی تقاضوں کے تحت انجام پائیں۔ -

امریکا کا ایرانی افزودہ یورینیم قبضے میں لینے کیلئے اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 450 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اس مواد کو حاصل کرنا چاہے تو اسے ایرانی سرزمین کے اندر کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا اور اسرائیل اس مقصد کے لیے مشترکہ آپریشن کریں گے یا نہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق اس طرح کی کسی ممکنہ کارروائی پر اس وقت غور کیا جا رہا ہے جب ایران کی جانب سے خطرہ کم ہونے کی صورت میں ایسے مشن کو انجام دینا ممکن ہو۔ -

خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی سپلائی چین فعال، سوست ڈرائی پورٹ اہم تجارتی راستہ
مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کی سپلائی چین بدستور فعال ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی کشیدگی کے باوجود چین کے ساتھ واقع سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے پاکستان کی تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور یہ راستہ ملک کے لیے قابل اعتماد تجارتی راہداری ثابت ہو رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک چین سرحد پر قائم سوست پورٹ پاکستان کو اہم تجارتی سہولت فراہم کر رہی ہے اور اس کے ذریعے سامان کی نقل و حمل بلا تعطل جاری ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان اپنی تجارتی راہداریوں کو مؤثر انداز میں فعال رکھے ہوئے ہے جس کے باعث عالمی حالات کے باوجود درآمدات اور برآمدات کا نظام متاثر نہیں ہوا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان بہتر حکمت عملی کے ذریعے خود کو ایک مضبوط عالمی تجارتی مرکز کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ -

پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید
از میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں
پاکستان ایک بار پھر اُس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جسے عوام عام طور پر “پیٹرول بم” کہتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے نے گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ایسے وقت میں جب عوام کسی ریلیف کی توقع کر رہے تھے، اس فیصلے نے لاکھوں خاندانوں پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی کھپت تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار بیرل ہے، جو تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ لیٹر یومیہ بنتی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار بیرل یعنی تقریباً 2 ارب 15 کروڑ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔
جب اچانک 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو وہ ذخائر جو پہلے کم عالمی قیمتوں پر خریدے گئے تھے، فوری طور پر کاغذی طور پر بے پناہ قدر حاصل کر لیتے ہیں۔ سادہ حساب کے مطابق یہ پہلے سے موجود ذخیرے پر تقریباً 118 ارب روپے کی اضافی مالیت پیدا کر دیتا ہے۔عام شہری کے ذہن میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے: اس غیر متوقع فائدے کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟
ایک ایسا نظام جو غیر منصفانہ دکھائی دیتا ہے،اصولی طور پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت، اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔ سرکاری وضاحت عموماً عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کے گرد گھومتی ہے۔
تاہم عوامی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ یہ نظام زیادہ تر آئل کمپنیوں، بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو ان کے پاس موجود ذخیرہ راتوں رات قیمتی ہو جاتا ہے اور انہیں بغیر کسی اضافی معاشی سرگرمی کے بھاری منافع حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری طرف عام شہری، جس کے پاس نہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت، صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔انسانی قیمت
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کے نازک معاشی ڈھانچے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک قیمت بڑھنے سے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہوتا ہے:
ٹرانسپورٹ کے کرائے فوراً بڑھ جاتے ہیں
اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے
جہاں فرنس آئل یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے
کاروباروں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے
آخرکار مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گیس کے بل، بھاری ٹیکسوں اور جمود کا شکار اجرتوں سے نبرد آزما ہیں، اس کے اثرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ پاکستان کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ان جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔ساختی مسئلہ
پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ مقامی صنعت کو پہلے ہی مہنگی توانائی، پالیسیوں کے عدم استحکام اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ایسے ماحول میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروبار کرنے کی لاگت کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ صنعت کی مسابقت کم ہو جاتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں ملک کو معاشی جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔انصاف کا سوال
عام شہریوں کے لیے شاید سب سے تکلیف دہ سوال انصاف کا ہے۔
جب عوام بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت حکومت کے بہت سے عہدیداروں اور بیوروکریسی کے مختلف طبقات کو مفت یا بھاری سبسڈی والا پیٹرول، بجلی اور دیگر سہولیات بطور سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں۔
یہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا معاشی فیصلے کرنے والے خود ان فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہیں؟
کسی بھی فعال جمہوریت میں معاشی مشکلات کا بوجھ پورے معاشرے کو، خاص طور پر اقتدار میں موجود افراد کو، مشترکہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ جب پالیسی ساز خود اپنے فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تو عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
قانونی اور حکمرانی کا پہلو
پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے:
قیمتوں میں اضافے کا اصل فارمولہ کیا ہے
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار اور منافع کی شرح کیا ہے
ہر لیٹر پیٹرول میں شامل ٹیکسوں کی مقدار کتنی ہے
قومی اسٹریٹیجک ذخائر کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے
پارلیمانی نگرانی اور آزادانہ آڈٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل بالواسطہ طور پر نجی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا رہے ہوں۔
شفافیت کے بغیر ریگولیٹرز، آئل کمپنیوں اور بااثر حلقوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شبہات مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔آگے کا راستہ
پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عدم مساوات کو بڑھائیں اور عوامی اعتماد کو کمزور کریں۔
حقیقی اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام
ریاستی ڈھانچے میں غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف
توانائی کے شعبے میں تنوع اور کارکردگی میں طویل مدتی سرمایہ کاری
سب سے بڑھ کر حکمرانی کو قلیل مدتی مالیاتی چالوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان کے عوام نے دہائیوں کی معاشی مشکلات کے باوجود غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس استقامت کو لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
کوئی بھی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب اس کے شہری یہ محسوس کریں کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔اس لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے
کون آگے بڑھے گا، ان بگاڑوں کو درست کرے گا اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کی راہ پر ڈالے گا؟ -

ایران پر دباؤ بڑھا تو ردعمل بھی سخت ہوگا، صدر مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر ایران پر دباؤ بڑھایا گیا تو اس کا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران دھونس، دھمکیوں، ناانصافی اور جارحیت کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا اور دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے تاہم یہ خواہش امریکا کے مقابلے میں ایران کے حق دفاع سے دستبردار ہونے کا مطلب نہیں۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ہدف بنایا ہے۔
ان کے مطابق ایران نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے امریکی مفادات پر حملے کیے ہیں۔ -

ایران تاریخ کے سبق اور آج کا فیصلہ. تجزیہ : شہزاد قریشی
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات میں ایران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جنگی دباؤ اور داخلی چیلنجز کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران کو اپنے مستقبل کے بارے میں ایک واضح اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ عالمی طاقتیں بھی اپنے اپنے انداز میں اس صورتحال کو دیکھ رہی ہیں؛ امریکہ طاقت کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتا ہے، اسرائیل جارحانہ حکمت عملی اپناتا ہے، جبکہ روس اور چین زیادہ تر موقع کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں ایران کو اپنی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ایران پہلے ہی عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ لڑ چکا ہے جس میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا، مگر اس جنگ سے کوئی فیصلہ کن فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ طویل جنگیں اکثر قوموں کو کمزور ہی کرتی ہیں۔
آج ایران کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے دور اندیشی سے پالیسی بنائے۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو ایران کو مزید بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت صرف جنگ سے نہیں بلکہ دانشمندانہ فیصلوں سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔ -

اسلام آباد :عورت مارچ پر پولیس کارروائی، متعدد خواتین،مرد اور منتظمین گرفتار
انٹرنیشنل ویمنز ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء پر پولیس نے سخت کارروائی کی، جس کے دوران متعدد خواتین اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا،اسلام آباد پولیس نےسیکٹرایف 6 سےعورت مارچ میں شریک 11 خواتین،اور 3 مرد گرفتارکرلیے-
عورت مارچ آرگنائزیشن کی رکن نشاط مریم کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں معروف ویمن رائٹس ایکٹیویسٹ ڈاکٹر فرزانہ باری بھی شامل ہیں مارچ کے لیے این او سی کی درخواست ایک ماہ قبل جمع کروائی گئی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا، جس کی بنیاد پر پرامن اجتماع کے حق سے شرکا کو محروم کیا گیا،پولیس نے منتظمین کو گاڑی سے باہر نکلتے ہی زبردستی حراست میں لیا،قریباً 8 خواتین کو گرفتار کرکے جی-7 تھانے منتقل کیا گیا اور بعد میں مزید منتظمین اور بعض اہل خانہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔
آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ
دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت ہر قسم کے احتجاج اور اجتماعات پر پابندی ہے، اور عورت مارچ کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی کی گئی،جبکہ عورت مارچ کے منتظمین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس کارروائی کو پرامن احتجاج پر ریاستی جبر قرار دیا اور کہا کہ شہریوں کو آئین کے تحت پرامن اجتماع کا حق حاصل ہے، جسے بلا وجہ روکا جا رہا ہے۔
افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل
-

آپریشن ’غضب للحق‘:583 افغان طالبان ہلاک، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 پر قبضہ
افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن ’غضب للحق‘ سے متعلق تازہ صورتحال جاری کی ہے-
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں عطا تارڑ نے بتایا کہ اب تک 583 افغان طالبان ہلاک جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، 242 چیک پوسٹیں تباہ اور 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ کرکے انہیں بھی تباہ کیا گیا،اب تک افغان طالبان رجیم کے 213 ٹینکس، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز (توپیں) تباہ کی جاچکی ہیں، افغانستان بھر میں 64 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
افغان کرکٹر راشد خان کا خاندان کے ہمراہ پشاور میں قیام ،خواجہ آصف کا شدید ردعمل
خیال رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے،پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اور کابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقاما ت پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں 13 خوارج ہلاک