لاہور: قومی اور بین الاقوامی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں طبی اور ادویاتی غلطیوں کے باعث ہزاروں مریض ہر سال اسپتالوں میں نقصان اٹھا رہے ہیں یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اور مریضوں کی حفاظت اسی وقت یقینی بنائی جا سکتی ہے جب ڈاکٹر، نرسیں، فارماسسٹ اور اسپتال انتظامیہ ہر مریض کو اپنے والدین یا بچوں کی طرح سمجھ کر علاج کریں۔
یہ بات لاہور میں شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں منعقدہ “نویں بین الاقوامی کانفرنس برائے مریضوں کا تحفظ 2026” سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہی۔ دو روزہ کانفرنس کا موضوع “Patient Safety from the Start” تھا، جس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ صحت، پالیسی سازوں، معالجین، نرسوں، فارماسسٹوں اور محققین نے شرکت کی۔کانفرنس کے دوران ماہرین نے زور دیا کہ علاج سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ مریض کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے اسپتالوں اور طبی عملے پر زور دیا کہ وہ غلطیوں کو چھپانے کے بجائے تسلیم کریں، منفی واقعات کی رپورٹنگ کریں اور ناکامیوں سے سیکھ کر نظام کو بہتر بنائیں۔سابق معاونِ خصوصی وزیرِاعظم برائے صحت اور شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک اہم سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ان سے سیکھ کر انہیں روکا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کا تحفظ طبی عملے کی اولین ذمہ داری ہے اور اسپتالوں میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ڈاکٹرز اور دیگر عملہ خوف کے بغیر غلطیوں کی نشاندہی کر سکے تاکہ مستقبل میں نقصان سے بچا جا سکے۔
کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر امپروومنٹ اینڈ سیفٹی (RIHIS) نے مختلف طبی اداروں کے تعاون سے کیا۔ کانفرنس میں مریضوں کے تحفظ، اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن، ادویاتی تحفظ، انفیکشن کنٹرول، ڈیجیٹل ہیلتھ اور صحت کے نظام میں بہتری پر تفصیلی سیشنز منعقد ہوئے۔افتتاحی تقریب میں شوکت خانم میموریل اسپتال کو مریضوں کے تحفظ کے شعبے میں چار بڑے ایوارڈز دیے گئے۔ “رفیدہ الاسلمیہ پیشنٹ سیفٹی چیمپیئن ایوارڈ” بہترین اسپتال کے طور پر شوکت خانم اسپتال کو دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر ہارون حفیظ کو بہترین معالج، ناصر خان کو بہترین نرس اور عمر بھٹہ کو بہترین فارماسسٹ قرار دیا گیا۔ مریضوں کے تحفظ کے فروغ کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے سفیان احمد کو خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔
کانفرنس کے چیئرمین اور رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر امپروومنٹ اینڈ سیفٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے کہا کہ پاکستان میں مریضوں کے تحفظ کی تحریک ایک چھوٹے اقدام سے بڑھ کر قومی سطح کے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد اسپتالوں میں قابلِ تدارک نقصانات کو کم کرنا اور معیاری علاج کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے گائناکالوجی، آبسٹیٹرکس اور پرائمری کیئر فزیشنز کے لیے مریضوں کے تحفظ سے متعلق دو خصوصی گروپس کے قیام کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اگلی بین الاقوامی کانفرنس پشاور میں رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں منعقد ہوگی۔
سی ای او صحت سہولت پروگرام محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ حکومت پاکستان کو سستے اور معیاری علاج کے علاقائی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کے لیے میڈیکل ٹورازم پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور معیارات میں بہتری میڈیکل ٹورازم اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ناگزیر ہے۔
رفاہ ہیلتھ کیئر سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسداللہ خان نے بیماریوں کے بوجھ میں کمی کے لیے احتیاطی صحت اور لائف اسٹائل میڈیسن کی اہمیت پر زور دیا۔
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک مریض غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث نقصان اٹھاتا ہے، جبکہ برطانیہ نے مریضوں کے تحفظ کے بہتر نظام کے ذریعے سالانہ تقریباً 22 ہزار جانیں بچانے میں کامیابی حاصل کی۔
شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زاہد بشیر نے کہا کہ امراضِ قلب سمیت ان شعبوں میں جہاں لاکھوں پاکستانی علاج کرواتے ہیں، محفوظ طبی سہولیات کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
چلڈرن یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے کہا کہ پاکستان میں اکثریتی آبادی سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرتی ہے، اس لیے سرکاری صحت کے اداروں کو مریضوں کے تحفظ اور علاج کے معیار بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
کانفرنس میں ادویاتی تحفظ، انفیکشن کنٹرول، نرسنگ سیفٹی، ڈیجیٹل ہیلتھ، اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مریضوں کے تحفظ کو بہتر بنانے سے متعلق ورکشاپس، پینل مباحثے، پوسٹر پریزنٹیشنز اور تکنیکی سیشنز بھی منعقد کیے گئے-
