دنیا بھر میں ”ریپ کیپٹل” کی شہرت رکھنے والے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک 30 سالہ خاتون کے ساتھ چلتی سلیپر بس میں اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا ہے ، جس کے بعد شہر میں خواتین کے تحفظ اور سکیورٹی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
خبررساں ادارے کے مطابق متاثرہ خاتون ، جو تین بچوں کی ماں بتائی جاتی ہے اور پتم پورہ کی رہائشی ہے ، منگل پوری میں واقع ایک فیکٹری میں اپنی شام کی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جا رہی تھی۔ خاتون کے بیان کے مطابق اسے سرسوتی وہار کے بی بلاک بس اسٹینڈ کے قریب زبردستی ایک نجی بس میں کھینچ لیا گیا۔متاثرہ خاتون کاکہنا ہے کہ بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر نے چلتی گاڑی میں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ نانگلوئی میٹرو اسٹیشن کی جانب جاتے ہوئے پیش آیا اور متاثرہ کو تقریباً دو گھنٹے تک تشدد اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس حکام کے مطابق ملزمان خاتون کو زخمی حالت میں سڑک کنارے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ بعدازاں متاثرہ خاتون نے پی سی آر کال کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی ، جس کے بعد رانی باغ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس وکرم سنگھ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ 2012ء کے مشہور نربھیا گینگ ریپ کیس کے بعد دہلی میں خواتین کے تحفظ سے متعلق خدشات کو دوبارہ نمایاں کر رہا ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شہر میں رات کے وقت خواتین کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے
