Baaghi TV

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکا اور ایران کے متضاد دعوے

آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان بیانات اور جوابی دعوؤں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج نے ایک امریکی جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جب اس نے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہونے کی وارننگ کو نظر انداز کیا۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد مذکورہ جہاز ایرانی بندرگاہ جاسک کے قریب سے واپس مڑ گیا۔

دوسری جانب امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے کسی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اب بھی خلیج میں معمول کے مطابق سرگرم ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج نے سات چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا، جب ایران نے ایسے جہازوں پر فائرنگ کی جو جنگ سے متعلق نہیں تھے، جن میں جنوبی کوریا کا ایک جہاز بھی شامل تھا۔

ادھر تہران کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی میں ایران کی جانب جانے والی دو سویلین کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔دریں اثنا، جنوبی کوریا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے پرچم بردار جہاز میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور جہاز میں سوار تمام 24 افراد محفوظ ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کی اصل وجہ کا تعین جہاز کے معائنے کے بعد کیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے "پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے ایک نیا منصوبہ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس آپریشن میں 100 سے زائد زمینی اور بحری طیارے، بشمول ایف-16 لڑاکا طیارے، حصہ لے رہے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ آپریشن دفاعی نوعیت کا ہے جس کا مقصد امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔دوسری جانب ایران نے اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "پروجیکٹ ڈیڈلاک” قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

More posts