Baaghi TV

Blog

  • پاک فضائیہ کیلیے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کے امریکی پیکج کی منظوری

    پاک فضائیہ کیلیے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کے امریکی پیکج کی منظوری

    امریکہ نے ایف-16 طیاروں کے ریڈار نظام کی دیکھ بھال اور معاونت کے لیے 488 ملین ڈالر تک کا ایک بڑا معاہدہ کیا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ پیش رفت ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔

    یہ معاہدہ اس ہفتے کے آغاز میں امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے کیا گیا، جس کے تحت ایک دفاعی ادارہ ایف-16 کے ریڈار نظاموں کے لیے فنی اور انجینئرنگ معاونت فراہم کرے گا۔اس اعلیٰ سطحی دفاعی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد ، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اور “واحد ثالث” کے طور پر ابھر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی بھی کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت میں پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں شاندار شخصیات اور بہترین جنگجو قرار دیا۔

    اس پیکج کی مجموعی مالیت تقریباً 686 ملین امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے، جسے دفاعی ماہرین پاکستان کی فضائی صلاحیتوں میں اہم اضافہ قرار دے رہے ہیں،اس معاہدے کا بڑا حصہ، جس کی مالیت تقریباً 488 ملین ڈالر ہے، ایک IDIQ (Indefinite Delivery/Indefinite Quantity) کنٹریکٹ کے تحت دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے ایف-16 طیاروں میں نصب پرانے AN/APG-66 اور AN/APG-68 ریڈار سسٹمز کی کارکردگی کو برقرار رکھنا اور مرحلہ وار بہتر بنانا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف-16 طیاروں کے ریڈار سسٹمز کی بہتری پاکستان کو نہ صرف اپنی فضائی حدود کے دفاع میں مدد دے گی بلکہ ممکنہ خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت بھی فراہم کرے گی۔یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون بدستور قائم ہے، اگرچہ ماضی میں اس تعلق میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن پاکستان فضائیہ کی آپریشنل تیاری، جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی اور خطے میں دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • بل گیٹس جیفری ایپسٹین سے روابط پر گواہی دیں گے

    بل گیٹس جیفری ایپسٹین سے روابط پر گواہی دیں گے

    بل گیٹس جو دنیا کے معروف ارب پتی اور مخیر شخصیت ہیں، جون میں امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہو کر بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے روابط کے حوالے سے گواہی دیں گے۔ قانون سازوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔

    یہ گواہی امریکی ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کے اس بڑے تحقیقاتی عمل کا حصہ ہے جس میں ایپسٹین کے جرائم اور اس کے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گیٹس ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے رضاکارانہ طور پر کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ سماعت 10 جون کو متوقع ہے۔گیٹس کے ترجمان کے مطابق، وہ کمیٹی کے تمام سوالات کے جواب دینے اور تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ ایپسٹین کے کسی بھی متاثرہ فرد نے گیٹس پر کسی قسم کی بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کیا، اور نہ ہی تحقیقاتی دستاویزات میں ان کا ذکر کسی مجرمانہ سرگرمی کا ثبوت سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے رواں سال جاری کیے گئے 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات میں گیٹس اور ایپسٹین کے درمیان رابطوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ تاہم، ابھی مزید لاکھوں دستاویزات منظر عام پر آنا باقی ہیں۔ یہ انکشافات اس قانون کے تحت سامنے آئے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ نومبر میں دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایپسٹین سے متعلق تمام مواد کو جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

    اس سے قبل ایک انٹرویو میں گیٹس نے کہا تھا، “میں نے اس کے ساتھ جتنا وقت گزارا، اس پر مجھے افسوس ہے اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔”

  • ایران جنگ،سعودی عرب میں شراب کی قلت پیدا ہو گئی

    ایران جنگ،سعودی عرب میں شراب کی قلت پیدا ہو گئی

    عودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم ملک کی واحد سرکاری شراب کی دکان ان دنوں شدید قلت کا شکار ہے، جہاں بیئر اور وائن سے لے کر ٹیکلا تک متعدد مصنوعات دستیاب نہیں رہیں۔

    صارفین کے مطابق خطے میں ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے درآمدی اشیا کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔یہ دکان ریاض کے سفارتی علاقے میں واقع ہے اور بغیر کسی نام یا نمایاں سائن بورڈ کے خاموشی سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس دکان کا قیام 2024 میں عمل میں لایا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد غیر مسلم سفارت کاروں کو محدود اور کنٹرولڈ ماحول میں شراب فراہم کرنا تھا۔ بعد ازاں 2025 میں اس سہولت کو وسعت دیتے ہوئے امیر غیر مسلم غیر ملکیوں تک بھی رسائی دی گئی۔

    تاہم سعودی عرب میں شراب پر پابندی کا قانون بدستور نافذ ہے، جو 1952 سے ملک میں لاگو ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں مملکت نے اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں و ماہرین کو راغب کرنے کے لیے بعض سماجی و اقتصادی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں محدود پیمانے پر شراب کی دستیابی بھی شامل ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، حالیہ دنوں میں اس دکان کا دورہ کرنے والے کم از کم پانچ افراد نے بتایا کہ دکان کی شیلف زیادہ تر خالی ہیں اور صرف مہنگے یا کم معروف برانڈز ہی دستیاب ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے جہاں مختلف عالمی برانڈز باآسانی دستیاب تھے، اب وہاں انتخاب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف اس دکان بلکہ دیگر درآمدی اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے وسیع معاشی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے

  • لاہور،گولیاں چل گئیں، خاتون اور دو بچوں کی موت،ملزم نے بھی خود کشی کر لی

    لاہور،گولیاں چل گئیں، خاتون اور دو بچوں کی موت،ملزم نے بھی خود کشی کر لی

    لاہور کے علاقے مزنگ میں نوجوان نے خاتون اور اس کے 2 بچوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 35 سالہ عائشہ، 14 سالہ مفرہ، 12 سالہ منیب اور 45 سالہ شاہد شامل ہے،فائرنگ کے اس واقعے میں 8 سالہ مناہل اور 18 سالہ سمنہ زخمی ہوئی ہیں،پولیس کے مطابق لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ فلیٹ کے اندر پیش آیا، ابتدائی طور پر وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں، تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے

  • معروف کبڈی پلیئر کے قاتلوں کو سزا سنا دی گئی

    معروف کبڈی پلیئر کے قاتلوں کو سزا سنا دی گئی

    قصور
    نواحی قصبہ کھڈیاں خاص کے معروف کبڈی پلیئر نصراللہ عرف ناصر کو دورانِ ڈکیتی قتل کرنے کا معاملہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے تھانہ الہٰ آباد کی حدود مائی رابو کے قریب کچھ عرصہ قبل ڈاکوؤں کی فائرنگ سے معروف کبڈی پلیئر کو قتل کیا گیا تھا

    الہ آباد کے نواحی گاؤں گہلن ہٹھاڑ کے رہائشی دو ملزمان، رفاقت ولد رفیق ایبک اور مدثر بشیر ولد محمد بشیر، دونوں کو چونیاں کی مقامی عدالت نے 190 دنوں میں فیصلہ سناتے ہوئے عمر قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی
    فاضل جج واجد منہاس نے یہ فیصلہ سنایا

    واضح رہے کہ ملزمان کا تیسرا ساتھی عامر پہلے ہی پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔

  • لاس اینجلس کے خفیہ اور مہنگے ترین کلب کی ایک رات ،باہمی رضامندی ضروری

    لاس اینجلس کے خفیہ اور مہنگے ترین کلب کی ایک رات ،باہمی رضامندی ضروری

    امریکی شہر لاس اینجلس کے پوش علاقے ہالی ووڈ ہلز میں قائم ایک انتہائی خفیہ اور مہنگے نجی کلب کی سرگرمیوں نے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں ایک صحافی کی شرکت نے نہ صرف اس کی ذاتی سوچ کو بدل دیا بلکہ اس قسم کی تقریبات کے بارے میں نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔

    یہ کلب، جو 2013 میں بیورلی ہلز میں قائم کیا گیا تھا، ایک نجی ممبرشپ پر مبنی ادارہ ہے جہاں مخصوص افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہاں ہونے والی تقریبات میں ماسکریڈ (نقاب پوش) پارٹیاں، پُرتعیش ڈنرز اور خصوصی سوشل ایونٹس شامل ہوتے ہیں، جن کا مقصد شرکاء کو ایک مختلف اور آزاد ماحول فراہم کرنا بتایا جاتا ہے۔کلب میں داخلے کے لیے نہ صرف بھاری سالانہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے بلکہ ایک سخت جانچ پڑتال کے عمل سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔ ممبرشپ فیس ہزاروں ڈالرز سے لے کر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ تک ہو سکتی ہے۔ تقریب میں شریک افراد کے موبائل فون دروازے پر ہی جمع کرا لیے جاتے ہیں تاکہ مکمل رازداری برقرار رکھی جا سکے۔

    صحافی کے مطابق تقریب ایک پُرتعیش حویلی میں منعقد ہوئی جہاں داخل ہوتے ہی ایک منفرد ماحول محسوس ہوا۔ ہلکی روشنی، موسیقی اور آرٹسٹک انداز میں ترتیب دی گئی سرگرمیوں نے اسے ایک عام پارٹی سے مختلف بنا دیا۔ مہمان مختلف عمر کے افراد پر مشتمل تھے اور سب کو مکمل آزادی دی گئی تھی کہ وہ اپنی حدود کے مطابق شرکت کریں۔اس کلب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے سخت اصول ہیں، جن میں باہمی رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی قسم کے جسمانی یا ذاتی تعامل سے پہلے واضح اجازت ضروری ہوتی ہے، جس سے شرکاء خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

    صحافی کا کہنا تھا کہ ابتدا میں یہ تجربہ عجیب اور مشکل محسوس ہوا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے خود کو زیادہ پُراعتماد اور کھلا ہوا محسوس کیا۔ اس کے مطابق اس ماحول نے نہ صرف اس کے اپنے جذبات کو سمجھنے میں مدد دی بلکہ اس کے اپنے شریکِ حیات کے ساتھ تعلق میں بھی ایک نئی گہرائی پیدا کی۔

    کلب کی تخلیقی ڈائریکٹر کے مطابق اس قسم کی تقریبات کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ انسان کو اپنی ذات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ اپنی خواہشات اور احساسات کو قبول نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے۔اگرچہ اس طرح کے کلبز کو کچھ حلقوں میں آزادی اور خود اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقدین اسے اخلاقی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے رجحانات پر معاشرتی اور نفسیاتی اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

  • ہنٹر بائیڈن کے شاہانہ طرزِ زندگی پر بچوں کے اخراجات کے کیس میں بڑا مالی دباؤ

    ہنٹر بائیڈن کے شاہانہ طرزِ زندگی پر بچوں کے اخراجات کے کیس میں بڑا مالی دباؤ

    امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن ایک نئے عدالتی تنازع میں گھِر گئے ہیں، جہاں ان پر اپنی بیٹی کی ماں کو دی جانے والی بچوں کی مالی امداد (چائلڈ سپورٹ) میں اضافہ کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    آرکنساس کی ایک جج نے جمعرات کے روز ہنٹر بائیڈن کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس ریکارڈز اور دیگر مالی دستاویزات عدالت میں پیش کریں اور حلف کے تحت وکلا کے سوالات کے جوابات بھی دیں۔ یہ کارروائی ان کی سابقہ پارٹنر لنڈن رابرٹس کی درخواست پر ہو رہی ہے، جن سے ان کی 7 سالہ بیٹی نیوی جون رابرٹس ہے۔لنڈن رابرٹس کا مؤقف ہے کہ ہنٹر بائیڈن کی مالی حالت اور طرزِ زندگی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو چکی ہے، اس لیے موجودہ 5 ہزار ڈالر ماہانہ چائلڈ سپورٹ ناکافی ہے۔رابرٹس کے وکیل کے مطابق ہنٹر بائیڈن کی زندگی میں اب مہنگے اور اعلیٰ درجے کے ریسٹورنٹس میں کھانے،سمندر کے نظارے والے پہاڑی علاقے میں رہائش،اور سفر و دیگر پرتعیش سرگرمیاں شامل ہیں،ان عوامل کو بنیاد بنا کر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں زیادہ مالی مدد دینی چاہیے۔

    ہنٹر بائیڈن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ان کے موکل پہلے ہی معاہدے کے مطابق رقم ادا کر رہے ہیں اور ان کی رہائش بھی پہلے جیسی ہی ہے، جو صرف ایک کرائے کا گھر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف باہر کھانا کھانا یا سماجی سرگرمیاں بچوں کی سپورٹ بڑھانے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتیں۔عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ رابرٹس کی قانونی ٹیم ہنٹر بائیڈن کے مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لے سکتی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ان کی آمدنی میں واقعی اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔اسی کیس کے دوران جج نے ہنٹر بائیڈن کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد کر دی، جو ان کی پینٹنگز سے متعلق ایک الگ تنازع پر مبنی تھی۔

    ہنٹر بائیڈن پہلے بھی قانونی مسائل کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں ٹیکس اور اسلحہ سے متعلق مقدمات شامل رہے ہیں، تاہم بعد میں انہیں صدارتی معافی مل گئی تھی۔یہ کیس اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ہنٹر بائیڈن کی آمدنی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ان کی سابقہ چائلڈ سپورٹ ادائیگیوں میں اضافے کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ عدالت آئندہ سماعتوں میں ان کے مالی ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

  • آکسیٹوسن: “محبت کا ہارمون” جو ذہنی سکون اور جسمانی صحت دونوں کو بہتر بناتا ہے

    آکسیٹوسن: “محبت کا ہارمون” جو ذہنی سکون اور جسمانی صحت دونوں کو بہتر بناتا ہے

    ماہرینِ صحت کے مطابق انسانی جسم میں موجود ایک اہم ہارمون آکسیٹوسن (Oxytocin) نہ صرف جذباتی وابستگی اور محبت کے احساس کو بڑھاتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرنے، سکون پیدا کرنے اور مجموعی جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے اکثر “محبت کا ہارمون” بھی کہا جاتا ہے۔

    تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جب انسان محفوظ، پرسکون اور جُڑا ہوا محسوس کرتا ہے تو جسم میں آکسیٹوسن کی سطح بڑھ جاتی ہے، جس سے دل کی دھڑکن معمول پر آتی ہے، ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے اور جسم میں مثبت توانائی پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی میں کچھ آسان طریقے اپنا کر اس ہارمون کے اخراج کو قدرتی طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ماہرین ایک ایسی سادہ لیکن مؤثر خود نگہداشت مشق تجویز کرتے ہیں جو جسم اور ذہن دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

    سب سے پہلے ایک پرسکون اور آرام دہ جگہ منتخب کریں جہاں آپ خود کو مکمل طور پر ریلیکس محسوس کریں۔ اس جگہ پر بیٹھیں یا لیٹ جائیں اور ذہن کو پرسکون کرنے کی کوشش کریں۔ اس مشق کا مقصد خود کو ذہنی طور پر محفوظ اور آرام دہ محسوس کرانا ہے۔اپنی دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں آہستہ آہستہ رگڑیں تاکہ وہ گرم ہو جائیں۔ ماہرین کے مطابق گرم لمس جسم میں آکسیٹوسن کے اخراج کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جس سے سکون اور اطمینان کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اب 5 سے 10 منٹ تک اپنے جسم کے مختلف حصوں کا ہلکے اور آہستہ انداز میں مساج کریں۔ اپنے کندھوں،سر ،گردن،پاؤں،اور خاص طور پر گردن کے اس حصے کا مساج کریں جہاں کھوپڑی اور گردن ملتی ہیں، جسے وَیگس نرو کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اعصابی نظام سے جڑا ہوا ایک اہم حصہ ہے جو جسم کے آرام اور تناؤ میں کمی میں کردار ادا کرتا ہے۔مساج کرتے وقت ہر حرکت کو آہستہ، نرم اور شعوری رکھیں۔ اس دوران اپنی سانسوں پر توجہ دینا بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کی سادہ خود مساج مشقیں نہ صرف آکسیٹوسن کی سطح بڑھاتی ہیں بلکہ یہ اضطراب ، ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ روزانہ چند منٹ خود کے لیے نکالنا ذہنی توازن اور جذباتی صحت کو بہتر بنانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔آج کے تیز رفتار اور دباؤ والے دور میں ایسی قدرتی مشقیں انسان کو اپنے جسم اور ذہن کے ساتھ دوبارہ جوڑنے میں مدد دیتی ہیں۔ آکسیٹوسن جیسے ہارمون کو فعال کر کے ہم نہ صرف بہتر محسوس کر سکتے ہیں بلکہ ایک زیادہ پرسکون اور صحت مند زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔

  • گرین ٹاؤن، ہاؤس رابری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ماسٹر مائنڈ نکلی

    گرین ٹاؤن، ہاؤس رابری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ماسٹر مائنڈ نکلی

    لاہور، گرین ٹاؤن کے علاقہ میں ہاؤس رابری کی واردات میں قریبی رشتہ دار ہی ماسٹر مائنڈ نکلی۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس نے 15 پر موصول ہاؤس رابری کال پر فوری مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کیا۔ دورانِ تفتیش متاثرہ خاتون کے قریبی رشتہ دار کا رویہ مشکوک پایا گیا۔ دورانِ انکوائری متاثرہ خاتون کی نند انعم شہزادی واردات کی ماسٹر مائنڈ ثابت ہوئی۔ ملزمہ نے اپنے ساتھیوں کو بلا کر خود اپنے بھائی کے گھر رابری کروائی۔ملزمہ کی نشاندہی پر واردات میں ملوث دونوں ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا گیا۔گرفتار ملزمان میں انعم شہزادی، اشرف علی اور قاسم علی شامل ہیں۔ ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 8 گھنٹے کے قلیل وقت میں مقدمہ کو حل کیا گیا۔ ملزمان سے واردات میں لوٹا جانے والا سامان بھی برآمد کیا جا چکااورواردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔ملزمان کو مزید تفتیش اور قانونی کاروائی کیلئے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بروقت کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی۔

  • نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں میں ذہنی دباؤ میں خطرناک اضافہ

    ایک نئی تحقیق نے یہ بات واضح کی ہے کہ اگر والدین کو لگتا ہے کہ ان کے نوعمر بچے ایک “راز” ہیں تو تازہ ڈیٹا ان کی اندرونی دنیا کو بہتر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    یہ سروے امریکی ادارے نے 18 ستمبر سے 10 اکتوبر کے درمیان کیا، جس میں 13 سے 17 سال کی عمر کے 1,391 نوجوانوں سے سوالات کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق اگرچہ لڑکے اور لڑکیاں کئی بنیادی مسائل جیسے اسکول کا دباؤ اور ذہنی صحت کے چیلنجز میں ایک جیسے تجربات رکھتے ہیں، لیکن ان کی مدد اور سماجی دباؤ کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اچھے نمبرز لینے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ دونوں گروہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عام طور پر لڑکیاں بہتر گریڈ حاصل کرتی ہیں اور اساتذہ کی طرف سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ حقیقت پہلے سے موجود تعلیمی اعداد و شمار سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جن میں لڑکیوں کی تعلیمی کارکردگی اوسطاً بہتر دیکھی گئی ہے۔

    تاہم ماہر نفسیات ڈاکٹر اینی ماہیوکس کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ تعلیمی نظام ہر طالب علم کے لیے یکساں طور پر مؤثر نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسکول کا نظام زیادہ تر ایسے بچوں کے لیے موزوں ہوتا ہے جو زیادہ صبر اور کم بے چینی کے ساتھ بیٹھ کر کام کر سکیں، جبکہ لڑکوں میں اس عمر میں دماغی نشوونما مختلف رفتار سے ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ دونوں گروہ ایک اچھی نوکری، بہتر آمدنی اور دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ماہر نفسیات ڈاکٹر لیزا ڈیمور کے مطابق یہ تصور غلط ہے کہ نوجوان صرف سطحی چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوعمر نوجوان اپنی تعلیم اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ سوچ رکھتے ہیں۔سروے کے مطابق صرف 2 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ہے، جو ایک مثبت بات سمجھی جا رہی ہے۔تاہم فرق یہاں بھی موجود ہے 95 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا قریبی دوست موجود ہے جس سے وہ مدد لے سکتی ہیں،جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 85 فیصد تھی،ماہرین کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کو بچپن سے جذباتی کمزوری ظاہر نہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مشکلات شیئر کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ لڑکیوں میں اضطراب اور ڈپریشن زیادہ رپورٹ ہوتا ہے، جبکہ لڑکوں میں نشہ آور اشیاء کا استعمال، لڑائی جھگڑے اور کلاس میں خلل ڈالنے جیسے رویے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکے ذہنی دباؤ کا کم شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیمور کے مطابق جب لڑکیاں دباؤ میں ہوتی ہیں تو وہ اندرونی طور پر ٹوٹنے لگتی ہیں، جبکہ لڑکے اکثر اپنے دباؤ کو غصے یا خطرناک رویے کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر لڑکوں کے جارحانہ یا خطرناک رویوں کو صرف “بدتمیزی” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ذہنی دباؤ کی علامت بھی سمجھنا چاہیے۔اسی طرح ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں جذباتی اظہار کو بھی اہمیت دینی چاہیے تاکہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں صحت مند سماجی اور ذہنی نشوونما حاصل کر سکیں۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ نوعمر لڑکے اور لڑکیاں ایک جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے تجربات اور ردعمل مختلف ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بہتر تعلیم، جذباتی رہنمائی اور کھلے ماحول کے ذریعے نوجوانوں کی بہتر مدد کی جا سکتی ہے۔