Baaghi TV

پاک فضائیہ کیلیے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کے امریکی پیکج کی منظوری

pak usa

امریکہ نے ایف-16 طیاروں کے ریڈار نظام کی دیکھ بھال اور معاونت کے لیے 488 ملین ڈالر تک کا ایک بڑا معاہدہ کیا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ پیش رفت ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ معاہدہ اس ہفتے کے آغاز میں امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے کیا گیا، جس کے تحت ایک دفاعی ادارہ ایف-16 کے ریڈار نظاموں کے لیے فنی اور انجینئرنگ معاونت فراہم کرے گا۔اس اعلیٰ سطحی دفاعی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد ، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اور “واحد ثالث” کے طور پر ابھر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی بھی کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت میں پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں شاندار شخصیات اور بہترین جنگجو قرار دیا۔

اس پیکج کی مجموعی مالیت تقریباً 686 ملین امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے، جسے دفاعی ماہرین پاکستان کی فضائی صلاحیتوں میں اہم اضافہ قرار دے رہے ہیں،اس معاہدے کا بڑا حصہ، جس کی مالیت تقریباً 488 ملین ڈالر ہے، ایک IDIQ (Indefinite Delivery/Indefinite Quantity) کنٹریکٹ کے تحت دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے ایف-16 طیاروں میں نصب پرانے AN/APG-66 اور AN/APG-68 ریڈار سسٹمز کی کارکردگی کو برقرار رکھنا اور مرحلہ وار بہتر بنانا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف-16 طیاروں کے ریڈار سسٹمز کی بہتری پاکستان کو نہ صرف اپنی فضائی حدود کے دفاع میں مدد دے گی بلکہ ممکنہ خطرات کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت بھی فراہم کرے گی۔یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون بدستور قائم ہے، اگرچہ ماضی میں اس تعلق میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن پاکستان فضائیہ کی آپریشنل تیاری، جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی اور خطے میں دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

More posts