عودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم ملک کی واحد سرکاری شراب کی دکان ان دنوں شدید قلت کا شکار ہے، جہاں بیئر اور وائن سے لے کر ٹیکلا تک متعدد مصنوعات دستیاب نہیں رہیں۔
صارفین کے مطابق خطے میں ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے درآمدی اشیا کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔یہ دکان ریاض کے سفارتی علاقے میں واقع ہے اور بغیر کسی نام یا نمایاں سائن بورڈ کے خاموشی سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس دکان کا قیام 2024 میں عمل میں لایا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد غیر مسلم سفارت کاروں کو محدود اور کنٹرولڈ ماحول میں شراب فراہم کرنا تھا۔ بعد ازاں 2025 میں اس سہولت کو وسعت دیتے ہوئے امیر غیر مسلم غیر ملکیوں تک بھی رسائی دی گئی۔
تاہم سعودی عرب میں شراب پر پابندی کا قانون بدستور نافذ ہے، جو 1952 سے ملک میں لاگو ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں مملکت نے اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں و ماہرین کو راغب کرنے کے لیے بعض سماجی و اقتصادی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں محدود پیمانے پر شراب کی دستیابی بھی شامل ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، حالیہ دنوں میں اس دکان کا دورہ کرنے والے کم از کم پانچ افراد نے بتایا کہ دکان کی شیلف زیادہ تر خالی ہیں اور صرف مہنگے یا کم معروف برانڈز ہی دستیاب ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے جہاں مختلف عالمی برانڈز باآسانی دستیاب تھے، اب وہاں انتخاب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف اس دکان بلکہ دیگر درآمدی اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے وسیع معاشی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے
