بل گیٹس جو دنیا کے معروف ارب پتی اور مخیر شخصیت ہیں، جون میں امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہو کر بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنے روابط کے حوالے سے گواہی دیں گے۔ قانون سازوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ گواہی امریکی ایوانِ نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کے اس بڑے تحقیقاتی عمل کا حصہ ہے جس میں ایپسٹین کے جرائم اور اس کے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گیٹس ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے رضاکارانہ طور پر کمیٹی کے سامنے پیش ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ سماعت 10 جون کو متوقع ہے۔گیٹس کے ترجمان کے مطابق، وہ کمیٹی کے تمام سوالات کے جواب دینے اور تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ ایپسٹین کے کسی بھی متاثرہ فرد نے گیٹس پر کسی قسم کی بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کیا، اور نہ ہی تحقیقاتی دستاویزات میں ان کا ذکر کسی مجرمانہ سرگرمی کا ثبوت سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے رواں سال جاری کیے گئے 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات میں گیٹس اور ایپسٹین کے درمیان رابطوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ تاہم، ابھی مزید لاکھوں دستاویزات منظر عام پر آنا باقی ہیں۔ یہ انکشافات اس قانون کے تحت سامنے آئے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ نومبر میں دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایپسٹین سے متعلق تمام مواد کو جاری کرنا لازمی قرار دیا گیا۔
اس سے قبل ایک انٹرویو میں گیٹس نے کہا تھا، “میں نے اس کے ساتھ جتنا وقت گزارا، اس پر مجھے افسوس ہے اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔”
