امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن ایک نئے عدالتی تنازع میں گھِر گئے ہیں، جہاں ان پر اپنی بیٹی کی ماں کو دی جانے والی بچوں کی مالی امداد (چائلڈ سپورٹ) میں اضافہ کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
آرکنساس کی ایک جج نے جمعرات کے روز ہنٹر بائیڈن کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس ریکارڈز اور دیگر مالی دستاویزات عدالت میں پیش کریں اور حلف کے تحت وکلا کے سوالات کے جوابات بھی دیں۔ یہ کارروائی ان کی سابقہ پارٹنر لنڈن رابرٹس کی درخواست پر ہو رہی ہے، جن سے ان کی 7 سالہ بیٹی نیوی جون رابرٹس ہے۔لنڈن رابرٹس کا مؤقف ہے کہ ہنٹر بائیڈن کی مالی حالت اور طرزِ زندگی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو چکی ہے، اس لیے موجودہ 5 ہزار ڈالر ماہانہ چائلڈ سپورٹ ناکافی ہے۔رابرٹس کے وکیل کے مطابق ہنٹر بائیڈن کی زندگی میں اب مہنگے اور اعلیٰ درجے کے ریسٹورنٹس میں کھانے،سمندر کے نظارے والے پہاڑی علاقے میں رہائش،اور سفر و دیگر پرتعیش سرگرمیاں شامل ہیں،ان عوامل کو بنیاد بنا کر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں زیادہ مالی مدد دینی چاہیے۔
ہنٹر بائیڈن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ان کے موکل پہلے ہی معاہدے کے مطابق رقم ادا کر رہے ہیں اور ان کی رہائش بھی پہلے جیسی ہی ہے، جو صرف ایک کرائے کا گھر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف باہر کھانا کھانا یا سماجی سرگرمیاں بچوں کی سپورٹ بڑھانے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتیں۔عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ رابرٹس کی قانونی ٹیم ہنٹر بائیڈن کے مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لے سکتی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ان کی آمدنی میں واقعی اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔اسی کیس کے دوران جج نے ہنٹر بائیڈن کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد کر دی، جو ان کی پینٹنگز سے متعلق ایک الگ تنازع پر مبنی تھی۔
ہنٹر بائیڈن پہلے بھی قانونی مسائل کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں ٹیکس اور اسلحہ سے متعلق مقدمات شامل رہے ہیں، تاہم بعد میں انہیں صدارتی معافی مل گئی تھی۔یہ کیس اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ہنٹر بائیڈن کی آمدنی اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ان کی سابقہ چائلڈ سپورٹ ادائیگیوں میں اضافے کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ عدالت آئندہ سماعتوں میں ان کے مالی ریکارڈز کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
