Baaghi TV

Blog

  • مودی سرکار  کی بیرون ملک دہشتگردی میں ملوث ہونے کی  پھر تصدیق

    مودی سرکار کی بیرون ملک دہشتگردی میں ملوث ہونے کی پھر تصدیق

    بھارت کی بیرون ملک دہشتگردی میں ملوث ہونے کی ایک بار پھر تصدیق ہوگئی۔

    بھارتی شہری نکھل گپتا نے امریکی وفاقی عدالت میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا اعتراف کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا نے نیو یارک میں فیڈرل کورٹ میں سماعت کے دوران جرم قبول کیا۔امریکی پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ نکھل گپتا براہِ راست ایک بھارتی سرکاری اہلکار کے ساتھ رابطے میں تھے، جس نے انہیں اس قتل کا ہدف دیا تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق نکھل گپتا بھارتی حکومت کے تحت کام کرنے والے اس گروپ کا حصہ تھا جو اوورسیز علیحدگی پسند سکھوں کا نشانہ بناتا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی قوانین کے تحت بھارتی شہری نکھل گپتا کو جرائم پر 40 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ جون 2023 میں کینیڈا کے ایک گوردوارہ کے باہر خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد امریکا میں ایک اور سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو بھی قتل کرنے کی سازش کی گئی جس میں بھارتی شہری نکھل گپتا ملوث تھے۔نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں امریکا ڈی پورٹ کیا گیا، امریکا ڈپورٹ ہونے کے بعد بھارتی شہری پر فرد جرم عائد کی گئی تھی،اس حوالے سے امریکی پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہم امریکی سر زمین پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

  • کراچی میں چور سنار کی دکان کا صفایا کر گئے

    کراچی میں چور سنار کی دکان کا صفایا کر گئے

    کراچی میں ایک بار پھر چوری کی بڑی واردات نے تاجروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے سنار کی دکان کا صفایا کر دیا اور لاکھوں روپے مالیت کا سامان لے اُڑے۔

    پولیس کے مطابق واردات شہر کے علاقے ملیر سٹی میں قائم گھانچی مارکیٹ میں پیش آئی۔ ملزمان نے رات کی تاریکی میں دکان کے تالے کاٹ کر اندر داخل ہونے کے بعد سنار کی تجوری اٹھا لی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق چور انتہائی مہارت سے کارروائی کر کے فرار ہوئے۔
    تھانہ پولیس حکام کے مطابق تجوری میں تقریباً 850 گرام سونا اور 15 لاکھ روپے نقد رقم موجود تھی۔ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مارکیٹ کے چوکیدار کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاکہ واردات میں کسی اندرونی مدد کے امکان کو بھی جانچا جا سکے۔

    دوسری جانب متاثرہ سنار کا کہنا ہے کہ اس کی دکان میں 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور دیگر قیمتی زیورات موجود تھے اور مجموعی نقصان پولیس کے ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ سنار نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے لوٹا گیا مال برآمد کیا جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت کے لیے مارکیٹ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے جبکہ فرانزک ٹیم نے بھی شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ پانچ روز قبل بھی کراچی کے علاقے سعید آباد میں اسی نوعیت کی واردات پیش آئی تھی، جہاں ملزمان سنار کی دکان کے تالے کاٹ کر 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات لے گئے تھے۔ اس واقعے کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج ہے تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔تاجروں اور دکانداروں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی کے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔امریکی عہدیدار

    امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔امریکی عہدیدار

    امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف مسلسل اور طویل آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی سےگفتگو میں دو امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرے کا باعث ہو گی، اس بار حملے کی جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے، امریکا ایران کا جوہری انفرااسٹرکچر ہی نہیں، اسٹیٹ اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا اور امریکا کو پوری توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔

    دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے حملہ کیا تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکیے میں فوجی اڈے موجود ہیں،میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ پنٹاگون ایک اور طیارہ بردارجہاز مشرق وسطیٰ روانہ کر رہا ہے، ہزاروں فوجی، جنگی جہاز، گائیڈڈمیزائل ڈسٹرائرزبھی مشرق وسطیٰ بھیجےجا رہےہیں۔

    اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کےخلاف اس طرح کی کارروائی میں امریکی افواج کے لیے خطرات کہیں زیادہ ہوں گے، کیونکہ ایران میزائلوں کے زبردست ہتھیاروں کا حامل ہے، ایران کے جوابی حملوں سےعلاقائی تنازع کا خطرہ بھی بڑھ سکتاہے۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلےجوہری پروگرام محدود کرنے پربات چیت کے لیے تیار ہے،ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا مشکل رہا ہے، کبھی کبھی آپ کوڈرنا پڑتا ہے، یہی واحد چیز ہے جو صورتحال کو سنبھالنے میں مدد دیتی ہے،ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں،صدرٹرمپ کسی بھی مسئلے پرمختلف نقطہ نظرکو سنتے ہیں، صدرٹرمپ حتمی فیصلہ اس بنیادپرکرتےہیں جوملک اورقومی سلامتی کےلیےبہترہے۔

  • پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل پر بات جاری ہے،آئی ایم ایف

    پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل پر بات جاری ہے،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت جاری ہے، جس میں صارفین پر ممکنہ اثرات اور حکومتی معاشی اہداف کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف حکام کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات میں اس امر پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کسی بھی ممکنہ اضافے یا ردوبدل کا بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہ پڑے۔ حکام کے مطابق سماجی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے کمزور طبقہ غیر متناسب مالی دباؤ کا شکار نہ ہو۔

    آئی ایم ایف حکام نے واضح کیا کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم کا جائزہ پاکستان کے ساتھ طے شدہ معاشی اصلاحاتی پروگرام کے تناظر میں لیا جائے گا۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ بجلی کے شعبے میں کی جانے والی کسی بھی تبدیلی کا تعلق حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور اصلاحاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے، سبسڈی کے نظام اور محصولات کی بہتری جیسے معاملات بھی زیر غور ہیں تاکہ بجلی کے شعبے کی مالی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے بغیر طویل مدتی معاشی استحکام ممکن نہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم کے مہنگائی، صارفین کی قوتِ خرید اور مجموعی معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اعداد و شمار اور مختلف معاشی اشاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی فیصلے کے ممکنہ مضمرات کو پیشگی سمجھا جا سکے۔ماہرین معاشیات کے مطابق بجلی کے نرخوں میں ردوبدل کا براہ راست اثر صنعتی لاگت، برآمدات، گھریلو بجٹ اور مہنگائی کی مجموعی شرح پر پڑتا ہے، اس لیے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات کو معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • معروف ریسٹورنٹس کی من مانیاں،سیلز ٹیکس عوام کے بل میں،نوٹس کی اپیل

    معروف ریسٹورنٹس کی من مانیاں،سیلز ٹیکس عوام کے بل میں،نوٹس کی اپیل

    قصور میں معروف ریسٹورنٹس کی من مانی، سیلز ٹیکس عوام پر ڈال دیا گیا
    قصور شہر میں متعدد معروف ریسٹورنٹس کی جانب سے سیلز ٹیکس براہِ راست گاہکوں سے وصول کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق سیلز ٹیکس کی ذمہ داری دکاندار پر عائد ہوتی ہے، تاہم بیشتر ریسٹورنٹس بل میں اضافی ٹیکس شامل کر کے صارفین سے زبردستی وصول کر رہے ہیں۔
    شہریوں کے مطابق مارکیٹ میں بڑا گوشت تقریباً 1000 روپے فی کلو دستیاب ہے، مگر اسی گوشت کی کڑاھی 2600 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح چکن کی اوپن مارکیٹ قیمت تقریباً 450 روپے فی کلو ہے، لیکن باربی کیو اور چکن کڑاھی کی مد میں فی کلو سینکڑوں روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔
    صارفین کا مؤقف ہے کہ کھانے کی تیاری، مصالحہ جات اور دیگر اخراجات اپنی جگہ، مگر قیمتوں میں اس قدر غیر معمولی اضافہ اور اس پر مزید سیلز ٹیکس کی وصولی سراسر زیادتی ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر باقاعدہ ریٹ لسٹ بھی آویزاں نہیں کی جا رہی، جس سے من مانے نرخ وصول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
    عوامی و سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ قصور اور پرائس کنٹرول مینجمنٹ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریسٹورنٹس کی انسپکشن کر کے اصل ریٹ لسٹ جاری کی جائے، سیلز ٹیکس کی قانونی حیثیت واضح کی جائے اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے

  • وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری: اہم تقرریاں اور توسیع، نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری: اہم تقرریاں اور توسیع، نوٹیفکیشن جاری

    
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف اہم سرکاری تقرریوں اور توسیع کی منظوری دے دی، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
    سرکاری اعلامیے کے مطابق تنویر احمد کو پراجیکٹ مانیٹرنگ اینڈ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سیل میں ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے، اور انہیں وزارتِ آئی ٹی کے منصوبے میں کنٹریکٹ بنیادوں پر 22 جون تک تعینات کیا گیا ہے۔
    ‎اسی طرح کاشف ذوالفقار کو منصوبے کا ڈائریکٹر (پالیسی اینڈ گورننس) مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
    ‎مزید برآں، وزیراعظم نے انڈس واٹر کمشنر محمد مہر علی شاہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی بھی منظوری دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد مہر علی شاہ کو انڈس واٹر کمشنر کے اضافی چارج کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

  • 
کراچی کے مسائل پر جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان

    
کراچی کے مسائل پر جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان

    ‎امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کل سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی، جس کا مقصد کراچی کے شہری مسائل اور حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج شام چار بجے شروع ہوگا اور ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق دھرنے کا مقصد شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا ہے۔
    ‎منعم ظفر نے کہا کہ احتجاج بااختیار میگا سٹی گورنمنٹ کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ 18 برسوں کی نااہلی کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ “جینے دو کراچی مارچ” کے بعد یہ احتجاجی تحریک کا اگلا مرحلہ ہے، جبکہ دھرنے کے اعلان کے بعد حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎امیر جماعت اسلامی کراچی نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ دھرنا ہر صورت ہوگا۔

  • 
سعودی عرب کی عازمین حج کے لیے یونیفائیڈ ویلکم آئیڈینٹی ’حیاکم اللہ‘ متعارف

    
سعودی عرب کی عازمین حج کے لیے یونیفائیڈ ویلکم آئیڈینٹی ’حیاکم اللہ‘ متعارف

    
سعودی عرب کی وزارت اطلاعات کے تحت یونیفائیڈ میڈیا آپریشنز سینٹر فار حج نے ضیوف الرحمان خدمت پروگرام کے تعاون سے عازمین کے خیرمقدم کے لیے یونیفائیڈ ویلکم آئیڈینٹی ’حیاکم اللہ‘ لانچ کر دی ہے۔
    سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام حج وعمرہ، ثقافت کی وزارتوں اور ٹورازم اتھارٹی کے مربوط تعاون کا نتیجہ ہے اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ’حیاکم اللہ‘ کا مقصد عازمین اور زائرین کی مملکت آمد کے وقت میڈیا اور آگاہی پیغامات کو معیاری بنانا ہے۔ اس کی اصطلاح ’وارم ویلکم‘ کا احساس دلاتی ہے۔
    ‎یونیفائیڈ میڈیا آپریشنز سینٹر کے مطابق یہ ویلکم آئیڈینٹی حج سیزن میں خدمات انجام دینے والے تمام سرکاری اداروں کے لیے منظور شدہ ہوگی۔ اس میں داخلے کے مقامات، خدمات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور میڈیا مواد کے لیے مختلف بصری اور میڈیا ایپلی کیشنز شامل ہیں تاکہ عازمین کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے اور میڈیا کے معیار میں اضافہ ہو۔

  • 
اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر شفیع جان اور پولیس اہلکاروں میں ہاتھا پائی

    
اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر شفیع جان اور پولیس اہلکاروں میں ہاتھا پائی

    
اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔
    واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی نے پولیس کے رویے پر شدید احتجاج کیا۔ پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا کے ایک رکن اور حکومتی ترجمان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا اور ان کا گریبان تک پھاڑ دیا گیا۔
    ‎سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک صوبائی وزیر کے ساتھ اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے اور پولیس کو اپنے طرزِ عمل کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اہلکاروں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور واقعے کو غیر ضروری طور پر کشیدہ بنایا۔
    ‎واقعے کے بعد موقع پر کشیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ پولیس اور حکومتی نمائندوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ تاہم صورتحال بعد ازاں قابو میں آ گئی۔

  • 
این اے 256 خضدار پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری، پولنگ 5 اپریل کو ہوگی

    
این اے 256 خضدار پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری، پولنگ 5 اپریل کو ہوگی

    
اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 256 خضدار پر ضمنی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔
    کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پولنگ 5 اپریل 2026 کو ہوگی جبکہ انتخاب کے لیے پبلک نوٹس 18 فروری کو جاری کیا جائے گا۔
    ‎ضمنی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 20 سے 24 فروری تک جمع کرائے جا سکیں گے، نامزد امیدواروں کی فہرست 25 فروری کو جاری ہوگی اور انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 18 مارچ کو ہوگی۔
    ‎نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضمنی انتخاب کے لیے ڈپٹی کمشنر خضدار کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎این اے 256 کی نشست سردار اختر مینگل کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی، جو تین روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا۔