ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے دوران ایک نیا پہلو سامنے آیا، جہاں ایران نے سوشل میڈیا کو بطور مؤثر ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی کو نمایاں کیا۔ اس عرصے میں ایرانی سفارتی مشنز نے روایتی سفارتی انداز کے بجائے طنز، مزاح اور میمز کا سہارا لیا تاکہ عالمی بیانیے پر اثر انداز ہو سکیں۔
جنگ بندی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ معاہدہ کرے، بصورت دیگر اہم انفراسٹرکچر جیسے پلوں اور پاور اسٹیشنز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے زمبابوے میں ایرانی سفارتخانے نے طنزیہ انداز اپنایا اور ڈیڈ لائن کے وقت پر مذاق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا، جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی سفارتی اکاؤنٹس، خاص طور پر ایکس پلیٹ فارم پر، نہایت سرگرم رہے اور انہوں نے مختلف پیغامات کے ذریعے امریکی مؤقف کا جواب دینے کی کوشش کی۔ ان اکاؤنٹس نے نہ صرف سیاسی بیانات دیے بلکہ میمز اور طنزیہ مواد کے ذریعے بھی اپنے مؤقف کو پیش کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس ڈیجیٹل مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران لڑائی کے ساتھ ساتھ جعلی خبروں اور پبلک ریلیشنز میں بھی مہارت رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آن لائن سرگرمیاں امریکی توجہ کا مرکز بن چکی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ حکمت عملی ممکنہ طور پر اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے اپنائی گئی۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی تنقید کا سامنا تھا۔
ایران کی سوشل میڈیا حکمت عملی، جنگ کے دوران طنز و میمز کا استعمال
