Baaghi TV

Blog

  • دہشت گردی کی غلط تشخیص ۔۔۔ایک قومی نقصان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دہشت گردی کی غلط تشخیص ۔۔۔ایک قومی نقصان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اسلام آباد میں ہونے والا بم دھماکہ ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو غم، صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض چند جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی، ریاستی بیانیے اور اجتماعی شعور کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ دہشت گردی کا یہ ناسور آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ پاکستان پر مسلط کردہ دہشت گردی کی ایک طویل، منظم اور مسلسل جنگ کا تسلسل ہے جو برسوں سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ ایک بدیہی اصول ہے کہ کسی بھی سنگین مسئلے کا حل جذبات، مفروضات یا عجلت میں لگائے گئے الزامات میں نہیں بلکہ اس کی درست اور دیانت دارانہ تشخیص میں مضمر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی دہشت گردی جیسے حساس مسئلے کو سطحی تجزیے یا سیاسی مصلحتوں کی نذر کیا گیا اس کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا ہے ۔

    اس پس منظر میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف ایک واضح، غیر مبہم اور حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا یہ مؤقف محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات اور اسٹریٹجک وژن کا آئینہ دار ہے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم اور اس کے اصل محرکات کی نشان دہی دونوں ایک سنجیدہ ریاستی سوچ کی عکاس ہیں۔انھوں نے واضح طور پر دہشت گردی کی تشخیص کرتے ہوئے کہا کہ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ آج یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی محض داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ اس کے تانے بانے بیرونی سرپرستی بالخصوص بھارت سے جا ملتے ہیں۔ مختلف شواہد، اعترافات اور بین الاقوامی رپورٹس اس امر کی تصدیق کر چکی ہیں کہ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گرد گروہوں کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ دھماکہ بھی اسی منظم فتنہ کا تسلسل ہے جس کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ قوم کو فکری، مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے۔ ایسے نازک موقع پر ریاستی عہدیداروں سے غیر معمولی احتیاط، تدبر اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔اسی تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دیا گیا بیان نہایت افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قطعی طور پر قومی مفاد کے منافی ہے ۔ کسی مخصوص مسلک، خصوصاً سلفی مکتبِ فکر کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ یہ پاکستانی قوم کو مذہبی ، سماجی ، فکری اور معاشرتی طور پر تقسیم کرنے اور ہم آہنگی پر ایک کاری ضرب بھی ہے۔ یہ طرزِ فکر دراصل دہشت گردوں کے ایجنڈے کو تقویت دینے ، جلتی پر تیل چھڑکنے اور گھر پھونک تماشا دیکھ کے مترادف ہے۔

    یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں سلفی مکتبِ فکر کبھی بھی دہشت گردی کا سبب نہیں رہا بلکہ سلفی مکتب یا اہلحدیث مکتب فکر کے علما ، زعما اور قائدین وکارکنان کا پاکستان کے قیام ، ملک عزیز میں امن وامان کے استحکام اور تزئین گلستان میں نمایاں کردار رہا ہے۔اہلحدیث مکتب فکر کے علما وزعما اور قائدین جیسا کہ علامہ احسان الہی ظہیر شہید ، علامہ حبیب الرحمن یزدانی ، ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر، مولانا ابراہیم سلفی جیسے درجنوں علما دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں جبکہ افغانستان میں شیخ جمیل الرحمن سمیت درجنوں جید علماء کا خون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی نے مسلک نہیں دیکھا، بلکہ ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے جو اتحاد واتفاق کی آواز تھی اور جو شدت پسندی کے خلاف کھڑی تھی۔

    دہشت گردی کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرنا بذات خود ایک بدترین فکری اور مذہبی دہشت گردی کی ایک شکل ہے، جو قوم کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جسے دشمن برسوں سے آزما رہا ہے اور بدقسمتی سے خواجہ آصف جیسے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس میں دانستہ یا نادانستہ سہولت کار بن جاتے ہیں۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ وزارتِ دفاع جیسے حساس منصب پر فائز شخص جب ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے پر جب کوئی بات کرے تو اس کے الفاظ محض ذاتی رائے نہیں ہوتے بلکہ ریاستی مؤقف سمجھے جاتے ہیں، جن کی دھمک پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے ۔دنیا ایسے بیانات کی روشنی میں پالیسیاں بناتی ہے ۔وزارت دفاع جیسے اہم منصب پر بیٹھ کر قومی سلامتی کے منافی ، فرقہ وارانہ اور غیر محتاط گفتگو کرنے والے خواجہ آصف نہ صرف داخلی انتشار کو ہوا دے رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو بدنام کرنے اور ریاست کے بیانیے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ افسوس کہ خواجہ آصف کا طرزِ عمل بارہا سنجیدگی، ذمہ داری اور ریاستی وقار کے تقاضوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔وہ اس سے پہلے بھی بارہا دفعہ افواج پاکستان کے خلاف نامناسب گفتگو کر چکے ہیں ۔ یہاں یہ حقیقت بھی پوری قوت سے یاد رہنی چاہئے کہ افواجِ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں کی شہادتیں، لاتعداد زخمی اور اربوں روپے کے وسائل اس جنگ کی نذر ہوئے ہیں ۔ یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے امن، سلامتی اور مستقبل کے لیے ہیں ۔

    ایسے حالات میں افواجِ پاکستان پر الزام تراشی، یا ان کے بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش، دراصل ان قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ سوال پوری سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا وزارتِ دفاع جیسی حساس ذمہ داری ایسے افراد کے سپرد رہنی چاہیے جو نازک قومی معاملات میں تدبر اور احتیاط کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوں؟ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ یہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔ یہاں میں اس بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث مسلم لیگ (ن ) کی اتحادی جماعت ہے ۔خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد بم دھماکہ کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرکے پاکستان کے تین کروڑ اہلحدیثوں کی توہین کی ہے ۔ مزید یہ کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کو خواجہ آصف کے شرر انگیز بیان کی جس طرح سے مذمت کرنی چاہئے تھی ۔۔۔۔نہیں کی ہے ۔ ہمارے قائدین کی انہی سستیوں کی وجہ سے دوسروں کو شرر انگیزی کا موقع ملتا ہے جو کہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتی بلکہ درست تشخیص، ذمہ دارانہ بیانیے اور قومی یکجہتی سے لڑی جاتی ہے۔ اسلام آباد کا یہ سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے الزام تراشی، مسلکی تقسیم اور غیر سنجیدہ سیاست کا راستہ نہ چھوڑا تو دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اصل دشمن کو پہچانیں، افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنیں اور پاکستان کو فکری و عملی طور پر محفوظ بنانے کی جدوجہد میں یکسو ہو جائیں۔

  • اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا  رویہ،تحریر: صدف ابرار

    اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا رویہ،تحریر: صدف ابرار

    ہر دور کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے، مگر آج کی نسل کو دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ جین زی کو عموماً بااعتماد، بولڈ اور بے باک کہا جاتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں ان کا رویہ دیکھیں تو میری بات شاید اپکو تلخ لگے لیکن یہ اعتماد کم اور بدتمیزی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

    کبھی اعتماد کا مطلب یہ تھا کہ انسان باوقار ہو، نرم لہجے میں بات کرے اور اپنے کردار سے پہچانا جائے۔ استاد اور سینئرز کا احترام تربیت کا لازمی حصہ تھا۔ اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اونچی آواز، تلخ لہجہ اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، اور اسے ہی “کنفیڈنس” کا نام دے دیا گیا ہے۔

    دفاتر، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا،ہر جگہ ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کسی کو بس آگے نکلنا ہے۔ کس کی گاڑی بہتر ہے، کس کا موبائل نیا ہے، کس کا لباس زیادہ مہنگا ہے اور کس کا طرزِ زندگی زیادہ جدید ہے۔یہی کامیابی کے پیمانے بن چکے ہیں۔ زندگی جیسے ایک مقابلہ بن گئی ہے، جہاں اصل انسان نہیں بلکہ نمائش جیتتی ہے۔
    اس نسل کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سادگی یا متوسط پس منظر کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، جیسے غریب گھرانے سے ہونا کوئی عیب ہو۔ اسی احساسِ برتری اور مقابلہ بازی میں لوگ جائز اور ناجائز کی تمیز بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ کسی بھی طرح اس دوڑ میں شامل رہیں، چاہے اس کے لیے اصول ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ اصل اعتماد شور نہیں کرتا۔ مہذب لوگ چیختے نہیں، وہ اپنے رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔ عزت دینا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔ دکھاوا وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتا ہے، مگر مستقل عزت صرف اخلاق اور تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔
    جدید ہونا یقیناً اچھی بات ہے، مگر اگر جدیدیت تہذیب، احترام اور اقدار کے بغیر ہو تو وہ محض ایک کھوکھلا خول بن جاتی ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔

  • 
اسلام آباد میں مساجد کی سکیورٹی ، مسلح گارڈ کی تعیناتی لازم

    
اسلام آباد میں مساجد کی سکیورٹی ، مسلح گارڈ کی تعیناتی لازم

    وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے مساجد کی انتظامیہ کو سکیورٹی کے حوالے سے جوابی مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
    پولیس نے ہدایت دی ہے کہ عبادت کے اوقات میں ہر مسجد میں کم از کم ایک مسلح سکیورٹی گارڈ تعینات کیا جائے، جسے اسلحہ رکھنے کی اجازت مسجد کی حدود تک ہوگی۔
    ‎مزید ہدایات کے مطابق مسجد کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ اردگرد کی پارکنگ کے لیے کوئی اضافی راستہ نہیں ہوگا اور داخلے و نکلنے کے لیے صرف ایک مرکزی راستہ مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎مسجد کے مین گیٹ کے باہر ریڑھی بان، گداگر، ٹوپیاں اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت پر پابندی ہوگی، جبکہ مشکوک افراد یا سامان کی صورت میں فوری پولیس کو اطلاع دینا لازمی ہوگی۔
    ‎پولیس نے مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تمام اصول و ضوابط پر فوری عمل کریں، ورنہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
    ”اور بے حیائیوں کے قریب نہ جاؤ’ جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں۔“
    ( القرآن الکریم؛ سورة الانعام آیت151)

    14 فروری کو جہاں ایک مخصوص طبقہ سرخ پھولوں کا تبادلہ کرے گا۔تو وہیں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس کو یومِ حیا کے طور پر منائے گا، اس دن یومِ حیا منانے کا مقصد محبت کا نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی کے خلاف حجاب، شرم و حیا اور اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ جس کے لئیے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

    اگر ہم تاریخ کے زاویہ سے دیکھیں تو ”ویلنٹائن ڈے“ اصلاً رومیوں کا تہوار ہے ۔ جس کی ابتدا تقریباً 17 سو سال قبل ہوئی تھی۔ اس کا مسلم تہذیب و ثقافت سے ہرگز کوئی واسطہ نہیں۔ جبکہ مسیحی مذہب میں بھی مذہبی نکتہء نگاہ سے اس دن کی مذمت کی گئی ہے۔ اور چرچ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کو جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ 2016ء میں مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں بیانات جاری کئیے۔ بلکہ بنکاک میں ایک پادری نے اس دن کے رد کے طور پہ اپنے ہم خیال افراد کے ہمراہ ویلنٹائن ڈے کا سامان فروخت کرنے والی دکان کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پر تھی۔ تو جماعتِ اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبہ نے اسے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یومِ حیا کے طور پر منانا شروع کیا۔ تاکہ اس فحاشی کے خلاف مہذب انداز میں احتجاج کر کے اسے رد کیا جا سکے۔ یومِ حیا منانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں۔ مگر اپنی فکر و نظریہ کے سبب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جس کا سہرا بلاشبہ اسلامی جمیعت طلبہ کے سر جاتا ہے۔
    پاکستان میں 2012ء سے ویلنٹائن ڈے کے روز ہی یومِ حیا منایا جاتا ہے۔ اپنی مذہبی و اخلاقی اقدار کے مطابق بے حیائی کی مذمت میں اب تمام اہلِ علم و فکر شامل ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ یومِ حیا منانے والوں کی بڑی کامیابی میں عدلیہ کا کردار بھی اہم ہے۔ گزشتہ سالوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری سطح پہ ویلنٹائن ڈے منانے اور میڈیا پہ اس کی تشہیر سے روک دیا تھا۔ اور اسلام آباد انتظامیہ کو بھی حکم جاری کیا تھا ۔ کہ وہ عوامی مقامات پہ یہ بیہودگی نہ منانے دے۔ عدلیہ نے وزارت اطلاعات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے حکام سے کہا تھا۔ کہ میڈیا کو ایسے پروگرام کی کوریج سے روکا جائے ۔ اور جو کرے اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    اس وقت بھی ضرورت ہے۔ کہ حکومتی و قانونی سطح پہ اس دن کی مذمت کی جائے۔ اور ٹک ٹاک و دیگر ایپس پہ فحاشی و وقت کے ضیاع کے اسباب کو کنٹرول کیا جائے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور مکتبِ فکر محبت کے نام پہ فحاشی و بے حیائی کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ حیا عورت کا اصل زیور و پہچان ہے۔ پردہ اور شرم و حیا ہی عورت کے تقدس کی علامت ہیں۔

    فرمانِ آقا دو جہاں رحمت اللعالمین ﷺ ہے:
    ”بہترین اولاد باپردہ بیٹیاں ہیں۔“
    (بحار انوار جلد 104)
    اللہ رب العزت سے دعا ہے۔ کہ وہ ہر بیٹی کے پردے سلامت رکھے ۔ اور اس کی حفاظت فرمائے۔
    آمین

  • وزیراعلی پنجاب  کا دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکر

    وزیراعلی پنجاب کا دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکر

    الحمدللہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان بھر سے آنیوالے دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکرکیا۔

    وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری کے تحت سب زیادہ خیبر پختونخوا کے 425 بچوں کی مفت ہارٹ سرجری کی گئی۔آزاد جموں و کشمیر کے 250،فیڈرل کے 107،گلگت بلتستان کے 34،بلوچستان کے 28 اور سندھ کے 27 بچوں کی بھی فری ہارٹ سرجری کی گئی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے چلڈرن ہسپتال کے نئے آئی سی یو کا بھی افتتاح کر دیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے آئی سی یو کا دورہ کیا اورزیر علاج بچوں کی تیمارداری اوراظہار شفقت کیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف کی چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت 10 ہزار سرجری مکمل ہونے پر خصوصی تقریب میں شرکت کی۔وزیراعلی مریم نواز شریف تقریب میں مریض بچوں اور ان کے درمیان بیٹھ گئیں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہارٹ سرجری کے مریض بچوں سے اظہار شفقت کیا۔

    صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے بارے تفصیلات سے آگاہ کیا۔خواجہ سلمان رفیق نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام تحت اب تک 10331 بچوں کی سرجری ہوچکی ہے۔ وائس چانسلر مسعود صادق نے وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام پر بریفنگ دی۔ ہر سال 50 ہزار بچے دل کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، 25ہزار کو فوری سرجری کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے چلڈرن ہسپتال لاہور میں کارڈیک سرجن کی تعداد 12،کارڈیک فزیشن 34 تک بڑھا دی۔ وزیراعلی ٹرانسپلانٹ کارڈ سے 800 کوکلیر ٹرانسپلانٹ اور 200 بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں۔وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام پر خصوصی معلوماتی فلم بھی دکھائی گئی

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سی ای اوز اور ایم ایس کانفرنس سے خطاب کیا اورنوکرپشن اورخدمت کا عہد لیا۔سی ای اوز اورایم ایس کی کارکردگی جاننے کیلئے کے پی آئیزمقررکردیئے۔ہسپتالوں میں مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن اسسٹنٹ مقرر کرنے اورہیلتھ فسیلیٹیشن آپریشن کی ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ کیاگیا۔ہسپتالوں میں ایڈمنسٹریٹراورپرکیورمنٹ آفیسر تعینات کرنے کابھی فیصلہ کیاگیا۔آن کال ڈاکٹرز کیلئے 20منٹ میں ڈیوٹی پر پہنچے کی ہدایت کی گئی۔دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح میں کمی پر منسٹر ز،سیکرٹریز اورپوری ٹیم کو شاباش دی۔ پنجاب کے تحصیل اورڈسٹرکٹ ہسپتال پیپر لیس رجیم میں داخل ہوگئے۔ڈاکٹروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے نئی پرفارمنس،ایولیشن رپورٹ (PER)سسٹم نافذ کیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پنجاب کے کسی فرد کو علا ج کیلئے دوسرے شہر نہ جانا پڑے،یہی ہمارا ویژن ہے۔جس نے کسی ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا،یہی ہمارا موٹوہے۔سی ای اوز اورایم ایس میرے لئے منسٹر اورسیکرٹری سے بھی اہم ہے۔ہماری بنائی پالیسیوں کا نفاذ سی ای اوز اور ایم ایس کی توجہ اورتعاون کے بغیر ممکن نہیں۔تمام مسائل حل کرنا آسان کام نہیں مجھے توقع ہے کہ کھلے دل سے میری باتیں سن کر ایم ایس ان پر عمل کریں گے۔تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں کمی بیشی سے کسی کی جان نہیں جاتی،ہیلتھ میں غفلت سے کسی کی جان جاسکتی ہے۔لوگ صحت اورسلامتی کیلئے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں،کسی کو ایک کو سسکنا یا ایڑھیاں رگڑنا پڑی تو ہم سب کی ناکامی ہے۔اللہ تعالی نے وسائل اور اختیار ہمیں دیئے توغفلت پر پوچھ گچھ بھی ہوگی،زندگیاں بہت قیمتی ہیں۔ہسپتال میں پڑ ی دوائیاں بیچ دی جاتی ہے،ساز باز کر کے سٹوروں سے دوائیاں منگوائی جاتی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب اوروسائل سے محروم لوگ ہی آتے ہیں،ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ساہیوال ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ پر گئے توپتہ چلا کہ گارڈ انٹری کیلئے ساڑھے چار سو روپے لیتا ہے۔غضب خدا کا،دوڈھائی کروڑ روپے کی انسولین بیچ کھائی،ذیابیطس کے مریضوں کا کیسے گزارا ہوا ہوگا۔کرپشن کرنے والے کا پیسہ بیماریوں،تکالیف اورآزمائشوں پر نکلتا ہے۔آج کی میٹنگ روایتی نہیں ٹرینڈ سیٹنگ میٹنگ ہے،ایم ایس کو جوش و جذبے اورایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ نئے ایم ایس ذمہ داری سے کام نہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں گے۔اللہ تعالی نے آپ کو مقدس ذمہ داری دی،لوگوں نے زندگی بچانے کیلئے علاج آپ کے سپرد کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کا علاج امانت ہے،امانت میں خیانت کریں گے تو اللہ معاف نہیں کرے گا۔میں پھر کہتی ہوں کہ پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کرنے کی بجائے سرکاری ہسپتال میں آنے والا ہر مریض بے وسیلہ ہوتا ہے۔ہیلتھ کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا،پہلے 399ارب روپے تھا،اسے 630ارب پر لے گئے۔ہیلتھ کا بجٹ اگر 1200ارب بھی ہوجائے،ایم ایس اوردیگر ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے تو سب رائیگاں ہے۔لوگوں کو میڈیس،ٹیسٹ کیلئے باہر بھیج دیا جاتا ہے،کوئی بوڑھا لاچار باہر کیسے جائے گا۔مشین خراب ہے تو وسائل میسر ہے،نہیں تو گاڑی بھیج کر باہر سے ٹھیک کرالیں۔انہوں نے کہاکہ ریسپیریٹر خراب ہونے پر والدین کو مریض بچوں کو ہاتھ سے پمپ کرتے دیکھ کر دکھ ہوا۔300 ریسپیریٹر مزید منگوائے ہیں،زندگی اورموت کے درمیان وینٹی لیٹر اورریسپیریٹر ایک لائن ہے۔اگر ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں ہوگا یا نرس کام نہیں کرے گی تو مریض جان سے جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کوکیمرے میں قطار در قطار موبائل پر مصروف دیکھاتو دکھ ہوا۔بصد احترام عرض کرتی ہوں کہ ڈاکٹروں کے موبائل استعمال پر پابندی ہے۔8گھنٹے کی ڈیوٹی میں استعمال نہ کرنے سے قیامت نہیں آجائے گی۔ایمرجنسی وارڈز کو سیف سٹی کیمرے سے منسلک کیا،کیونکہ مریضوں کو دوسرے کے رحم و کرم پر بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا،بہتر بنایا لیکن عوام تک اثرات جانے چاہئیں۔جنا ح ہسپتال میں 6ماہ کا سٹاک پڑا ہوا تھا اورآکسیجن ماسک کٹ وغیرہ باہر سے منگوائی جارہی تھی۔ہر مریض کی صورتحال کے مطابق کیو مینجمنٹ کی جائے گی۔ مریض کو مرض کے مطابق ریڈ بے،یلو بے اورگرین بے علاج کیلئے بھیجا جائے گا۔ ہسپتالوں میں مریض کے ساتھ ایک سے زیادہ تیمار دار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔فارماسوٹیکل کمپنیوں کے نمائندگان کو ہسپتال میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیریچر اوروہیل چیئرکا سٹاک موجود ہے،لیکن مریض کو کیوں نہیں دیا جاتا۔ہر ہسپتال میں ڈے کے مطابق کلر فل بیڈشیٹ تبدیل کی جائے۔ہسپتالوں کی ڈیپ کلینگ کا خیال رکھا جائے،واش روم کوڈمپنگ یارڈ نہیں ہونا چاہیے۔فائر سیفٹی،شارک سرکٹ اوردیگر امور کا خیال رکھا جائے۔ایم ایس اورسی ای اوز کو دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے مریضوں کے درمیان ہوناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ آفس میں حقائق کا علم نہیں ہوسکتا،باہر آئیں گے تو صورتحال کا پتہ چلے گا،تبدیلی نظر آنی چاہیے۔پنجاب کے ہسپتالوں میں 1500ڈاکٹر آچکے ہیں،مزید آچکے ہیں۔ سی ای او ز اورایم ایس شپ ذمہ داری نہیں عوام کی امانت ہے۔ہسپتال میں ایم ایس کی غفلت کا ایک لمحہ کسی کی جان لے سکتا ہے۔ 22ارب روپے کے سابقہ واجبات ادا کیے تاکہ ادویات کی سپلائی چین میں تعطل نہ آئے۔مریض کو واجبات فائل یا پالیسی سے غرض نہیں اسے ادویات ملنی چاہیے۔مریض کو ہر اچھائی یا برائی میں سی ای اوز،ایم ایس اورہم سب نظر آتے ہیں۔سی ای اوز اورایم ایس کے لئے ضابطہ اخلاق مقرر کردیا اب پکڑ بہت سخت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ علاج ہوسکتا تھا لیکن کوتاہی سے جان جانے پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب کے اضلاع میں کیتھ لیب بننے سے لوگوں کے دل کے علاج کیلئے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔مزدور آدمی دل کے علاج کیلئے شہر سے باہر جائے تو اس کے بچے اورگھر کیسے چلے گا۔ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں کسی قسم کا مسئلہ نہیں لیکن لوگوں کے درد کو دل سے محسوس کرنا ضروری ہے۔100ارب روپے کی میڈیسن دے رہے ہیں مگر باہر سے ادویات لانے والی پرچیوں کا کیاکریں۔ساز بازکر کے باہر سے ادویات اور ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔مریض کی کیفیت کو خود پر نافذ کر کے دیکھے تو تکلیف کا احساس ہوگا۔ہر ضلع میں ویجیلنس ٹیمیں متحرک ہیں،خود ہسپتالوں میں جاتی ہوں،کمشنر،ڈی سی،اے سی جاتے ہیں۔

  • وزیراعلٰی پنجاب کی ذاتی دلچسپی پوٹھوہار یونیورسٹی کے لیے سوا ارب جاری

    وزیراعلٰی پنجاب کی ذاتی دلچسپی پوٹھوہار یونیورسٹی کے لیے سوا ارب جاری

    وفاق اور پنجاب حکومت کی مشترکہ کاوشیں رنگ لے آئیں پوٹھوہار کے طلبہ کے لیے تاریخی تعلیمی سنگِ میل
    سیاست سے بالاتر ہوکر پوٹھوہار کے مستقبل کا فیصلہ اعلیٰ تعلیم کا لینڈ مارک منصوبہ خطے کی تقدیر بدلنے کو تیار

    گوجرخان (قمرشہزاد) پوٹھوہار میں علم کا نیا افق پنجاب یونیورسٹی کیمپس کا خواب تعبیر کے قریب، پوٹھوہار کے تعلیمی افق پر ایک نئی صبح طلوع ہونے جا رہی ہے۔برسوں سے زیرِ بحث اور عوامی امنگوں کا مرکز بننے والا پنجاب یونیورسٹی کا پوٹھوہار کیمپس اب عملی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے۔

    اس اہم پیش رفت کا اعلان سابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا، جہاں انہوں نے اس منصوبے کو خطے کی تقدیر بدلنے والا لینڈ مارک پروجیکٹ قرار دیا۔ راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس معاملے میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہوئے کیس کو کابینہ کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد یونیورسٹی کے لیے تقریباً سوا ارب روپے کی رقم جاری کی گئی۔ ان کے بقول اگر وزیراعلیٰ ذاتی طور پر اس معاملے کو نہ دیکھتیں تو منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین کی فراہمی اور اسے یونیورسٹی کے نام منتقل کرنے میں وزیراعلیٰ کا کردار کلیدی رہا، جس سے عملی پیش رفت کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ قومی اسمبلی پاکستان کے اسپیکر تھے تو ان کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ گوجرخان اور گردونواح کے طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور یا اسلام آباد کا رخ نہ کرنا پڑے بلکہ انہیں اپنے علاقے میں ہی عالمی معیار کی سہولیات میسر آئیں۔ اسی سلسلے میں اُس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریباً 6 ارب روپے اس شرط پر جاری کیے تھے کہ بشرطیکہ پنجاب حکومت زمین فراہم کرے۔

    راجہ پرویز اشرف نے اس قومی مقصد میں معاونت کرنے والی شخصیات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن میں اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، مریم اورنگزیب اور گورنر پنجاب سمیت دیگر اعلی شخصیات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ پورے پوٹھوہار کے عوام کا مشترکہ خواب ہے، جس کی تعبیر میں سب نے سیاست سے بالاتر ہو کر کردار ادا کیا۔ مزید بتایا گیا کہ مرکز کے پلاننگ ڈیپارٹمنٹ نے 12 فروری کو پنجاب یونیورسٹی کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں متعلقہ اراضی کے دورے اور منصوبے کے عملی آغاز کے اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو تعلیمی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھیں گے بلکہ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی امکانات کو بھی نئی جِلا ملے گی۔پریس کانفرنس کے دوران راجہ پرویز اشرف نے سیاسی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے بچوں کے مستقبل کو مقدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی انتظامی معاملات میں مداخلت یا روایتی سیاسی دباؤ کی سیاست نہیں کی، بلکہ ہمیشہ عوامی مفاد، تعلیمی فروغ اور تعمیر و ترقی کو ترجیح دی ہے۔ ان کے الفاظ میں، کریڈٹ کسی فرد کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات دیتی ہے، اصل مقصد عوام کی خدمت اور آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط بنیاد رکھنا ہے۔سیاسی و سماجی حلقوں نے اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاق اور صوبہ اسی جذبے اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو پوٹھوہار کا یہ خطہ نہ صرف تعلیمی بلکہ معاشی و سماجی ترقی کا مرکز بن سکتا ہے۔ گوجرخان میں پنجاب یونیورسٹی پوٹھوہار کیمپس کا قیام محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ اجتماعی بصیرت، سیاسی ہم آہنگی اور مستقبل بینی کی روشن مثال ہے ایک ایسا خواب جو اب تعبیر کے دہانے پر کھڑا ہے اور جس سے پورے خطے کی تقدیر وابستہ ہے۔

  • اوگاہوں ڈیم میں نہاتے ہوئے دو کمسن طالب علم زندگی کی بازی ہار گئے

    اوگاہوں ڈیم میں نہاتے ہوئے دو کمسن طالب علم زندگی کی بازی ہار گئے

    گوجرخان کے نواحی علاقے میں اوگاہوں ڈیم کا افسوسناک سانحہ دسویں جماعت کے دو طالب علم پانی میں ڈوب کر جاں بحق، علاقے میں کہرام
    اوگاہوں ڈیم میں حفاظتی انتظامات پر سوالیہ نشان، دو ہنستے بستے گھروں کے چراغ گل، شہریوں کا ضلعی انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے میں واقع اوگاہوں ڈیم ایک دل خراش سانحے کا منظر پیش کرنے لگا جہاں نہاتے ہوئے دو نوجوان پانی کی بے رحم لہروں کی نذر ہو گئے۔ افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق عرفان اور شاہزیب نامی دو کمسن طالب علم، جو دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھے، گرمی کے باعث ڈیم میں نہانے کے لیے اترے۔ اچانک پانی کی گہرائی اور تیز بہاؤ کے باعث دونوں نوجوان ڈوب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور مقامی افراد کی مدد سے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔کچھ دیر کی جدوجہد کے بعد دونوں نوجوانوں کی نعشیں پانی سے نکال لی گئیں۔ جانبحق ہونے والے دونوں طالب علموں کی میتوں کو قانونی کارروائی کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا۔

    جیسے ہی حادثے کی خبر پھیلی علاقے میں کہرام مچ گیا اور اہلِ خانہ پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ ہر سو رنج و الم کی فضا قائم ہو گئی جبکہ تعلیمی ادارے اور مقامی افراد بھی غم میں ڈوب گئے۔مقامی شہریوں نے اس المناک سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم اور دیگر آبی مقامات پر مؤثر حفاظتی اقدامات، وارننگ بورڈز اور سیکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے تاکہ مستقبل میں قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ تفریحی مقامات پر حفاظتی تدابیر اور احتیاطی شعور کی کمی کس طرح لمحوں میں خوشیوں کو ماتم میں بدل دیتی ہے۔

  • بنگلہ دیش کی نئی اسٹریٹجک صبح، بی این پی کی فتح اور ابھرتا ہوا جیوپولیٹیکل منظرنامہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید،

    بنگلہ دیش کی نئی اسٹریٹجک صبح، بی این پی کی فتح اور ابھرتا ہوا جیوپولیٹیکل منظرنامہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید،

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    بنگلہ دیش میں بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی، استحکام کا وعدہ بنگلہ دیشی انتخابات میں کامیاب بی این پی کی اہم ترجیحات

    13 فروری 2026 کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی فیصلہ کن انتخابی فتح نے جنوبی ایشیائی سیاست میں ایک تاریخی موڑ پیدا کیا،تقریباً 20 برس بعد اقتدار میں واپسی کرتے ہوئے، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کی، جس کے نتیجے میں 2024 میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد جاری طویل سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد ملک میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔نئی حکومت کی ترجیحات میں معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور وسیع البنیاد سماجی بہبود شامل ہیں، جو ماضی کی پالیسیوں سے ممکنہ انحراف کی نشاندہی کرتی ہیں۔یہ تاریخی انتخاب ، جسے دہائیوں میں سب سے زیادہ مسابقتی قرار دیا جا رہا ہے ،میں ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا، جو ایک باشعور اور متحرک عوام کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے ملک کی حکمرانی اور عالمی حیثیت کا نیا باب رقم کرنا چاہتے ہیں۔

    1. نیا سیاسی نظم اور داخلی ترجیحات
    بی این پی کی کامیابی گہرے سیاسی تغیر کا نتیجہ ہے، جو جنریشن زیڈ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد سامنے آیا جس نے ایک طویل عرصے سے قائم حکومت کا خاتمہ کیا، عبوری حکومت کی راہ ہموار کی اور جمہوری مقابلے کے لیے نئی فضا پیدا کی۔بی این پی کا منشور “بنگلہ دیش فرسٹ” حکمتِ عملی پر مبنی معاشی بحالی، گورننس اصلاحات اور سماجی شمولیت پر زور دیتا ہے۔پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک آئینی ریفرنڈم کے ذریعے ساختی تبدیلیوں کی منظوری بھی دی گئی، جن میں عدالتی آزادی سے لے کر ممکنہ دو ایوانی مقننہ کی اصلاحات شامل ہیں۔یہ اصلاحات ادارہ جاتی جدیدیت، احتساب اور سیاسی مرکزیت کے خاتمے کی خواہش کی عکاس ہیں۔

    تاہم سیاسی منظرنامہ اب بھی پیچیدہ ہے۔ جو جماعتیں پہلے حاشیے پر تھیں جیسے بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی ، انہوں نے دوبارہ انتخابی موجودگی حاصل کی ہے، اور وسیع تر اتحادی سیاست کی حرکیات پارلیمان میں پالیسی سمت کا تعین کریں گی۔

    2. علاقائی جیوپولیٹکس میں بنگلہ دیش کی اسٹریٹجک اہمیت
    بنگلہ دیش خلیجِ بنگال اور جنوبی ایشیا کے قلب میں ایک کلیدی جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ اس کی بڑی آبادی، تیز رفتار معاشی ترقی اور اہم بحری راستوں سے قربت اسے علاقائی طاقت کے توازن اور اقتصادی روابط کے لیے نہایت اہم بناتی ہے۔

    بھارت کے مفادات
    بھارت کے ساتھ ہمسایہ تعلقات تاریخی طور پر ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہے ہیں، جس کی وجہ گہرا معاشی انحصار، سرحد پار سیکیورٹی تعاون اور رابطہ منصوبے ہیں جو بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو مرکزی منڈیوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے جوڑتے ہیں۔
    بنگلہ دیش کا بطور ٹرانزٹ راہداری کردار بھارت کی “ایکٹ ایسٹ” حکمتِ عملی اور شمال مشرق میں سیکیورٹی خطرات کے تدارک کے لیے نہایت اہم ہے۔
    عبوری دور میں تعلقات میں تناؤ نے غیر یقینی صورتحال پیدا کی، تاہم بی این پی کی فتح کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے فوری سفارتی مبارکباد نے نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔
    مستقبل میں پاک بھارت نہیں بلکہ بھارت۔بنگلہ دیش تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ڈھاکہ کس حد تک خودمختار مفادات اور مشترکہ اقتصادی، تجارتی، سیکیورٹی اور آبی وسائل کے معاملات میں توازن قائم کرتا ہے۔

    چین کا بڑھتا ہوا کردار
    چین اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی، انفراسٹرکچر اور سفارتی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیجنگ نے بندرگاہوں کی جدید کاری، اسٹریٹجک فضائی اڈوں اور انفراسٹرکچر قرضوں سمیت بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جس سے وہ ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔
    چین کی عدم مداخلت پر مبنی سفارتی پالیسی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ڈھاکہ کے لیے پرکشش ہے، جو تیز صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کی توسیع کا خواہاں ہے۔
    بنگلہ دیش کی ساحلی جغرافیائی حیثیت اسے چین کے “میری ٹائم سلک روڈ” وژن اور وسیع تر انڈو پیسیفک حکمتِ عملی میں اہم مقام دیتی ہے۔

    پاکستان کا کردار
    حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں برف پگھلتی نظر آئی ہے۔ دہائیوں بعد براہِ راست تجارت اور پروازوں کی بحالی ایک علامتی مگر اہم پیش رفت ہے، جو بدلتے ہوئے سفارتی انداز کی عکاسی کرتی ہے۔
    دونوں ممالک دفاعی اور تجارتی تعاون پر مکالمہ کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد تاریخی تلخیوں سے بالاتر ہو کر نئے مواقع تلاش کرنا چاہتا ہے۔

    3. امریکہ: مواقع اور اثر و رسوخ
    امریکہ بنگلہ دیش کو اپنی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کا اہم جزو سمجھتا ہے، جس کا مقصد ایک “آزاد، کھلا اور محفوظ” خطہ تشکیل دینا ہے جہاں جمہوری حکمرانی اور معاشی انضمام فروغ پائیں۔
    بنگلہ دیش کا جغرافیائی محلِ وقوع چین اور امریکہ کے حامی بلاک کے درمیان طاقت کے توازن میں اہمیت رکھتا ہے۔
    بی این پی کی فتح پر واشنگٹن کی سفارتی مبارکباد اور معاشی تعاون کے اشارے جمہوری استحکام اور معاشی شفافیت میں مشترکہ دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔
    ساتھ ہی امریکہ بنگلہ دیش کو سرمایہ کاری کے ذرائع متنوع بنانے کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ چینی سرمائے پر انحصار کم ہو اور علاقائی شراکت داری متوازن رہے۔

    4. مستقبل کے امکانات اور اسٹریٹجک حرکیات
    متوازن خارجہ پالیسی
    بی این پی کی قیادت میں، جو قومی مفاد اور باہمی احترام پر زور دیتی ہے، ڈھاکہ ممکنہ طور پر ایک متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے گا جو کسی ایک بڑی طاقت کے ساتھ سخت وابستگی سے گریز کرے گی۔
    یہ سہ فریقی سفارت کاری اقتصادی فوائد کے حصول، خودمختاری کے تحفظ اور بھارت، چین، امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش ہوگی۔

    علاقائی سلامتی اور معاشی انضمام
    بنگلہ دیش کی پیش رفت جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی ڈھانچے پر اثر انداز ہوگی۔ بھارت کے ساتھ معاشی انضمام، چین کے ساتھ انفراسٹرکچر تعاون اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری ڈھاکہ کو علاقائی استحکام اور اقتصادی راہداریوں کا کلیدی کردار دے سکتی ہے۔
    بیمسٹیک اور خلیجِ بنگال انیشی ایٹو جیسے کثیرالجہتی فورمز میں اس کا کردار تاریخی رقابتوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    خطرات اور چیلنجز
    داخلی سیاسی تقسیم، نظریاتی گروہوں کا انضمام اور فرقہ وارانہ حساسیت پالیسی ہم آہنگی اور عالمی تاثر کو متاثر کر سکتی ہے۔
    مزید برآں، بھارت اور چین جیسے دو بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ، جو اکثر اسٹریٹجک مسابقت میں مصروف رہتے ہیں ، انتہائی محتاط اور مہارت طلب سفارت کاری کا تقاضا کرے گا۔

    خلاصہ
    2026 کے عام انتخابات بنگلہ دیش میں محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی جیوپولیٹکس کی نئی تعریف ہیں۔
    بی این پی کی قیادت میں معاشی اصلاحات، متوازن سفارت کاری اور عملی شراکت داری کی پالیسی کے ذریعے بنگلہ دیش ایک کثیر القطبی علاقائی منظرنامے میں اپنی اسٹریٹجک خودمختاری منوانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔بھارت، چین، پاکستان اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات جو باہمی مفادات اور جیوپولیٹیکل حقیقتوں پر مبنی ہوں گے ، نہ صرف بنگلہ دیش کے مستقبل بلکہ پورے انڈو پیسیفک کے سیکیورٹی اور معاشی ڈھانچے پر اثر انداز ہوں گے۔بنگلہ دیش کا ایک کلیدی جیوپولیٹیکل کھلاڑی کے طور پر ابھار خطے میں طاقت کے بدلتے توازن کی عکاسی کرتا ہے ، ایک ایسی پیش رفت جس کی بازگشت ڈھاکہ سے دہلی اور بیجنگ سے واشنگٹن تک سنائی دے گی۔

  • ایئر چیف مارشل انڈونیشیا پہنچ گئے، انڈونیشیا کے صدر،عسکری قیادت سے ملاقات

    ایئر چیف مارشل انڈونیشیا پہنچ گئے، انڈونیشیا کے صدر،عسکری قیادت سے ملاقات

    پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو انڈونیشیا کے سرکاری دورہ جکارتہ پہنچ گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی انڈونیشیا کے صدر پربوو سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کی دیرینہ برادرانہ شراکت داری پر زور دیا گیا،اس موقع پر انڈونیشی صدر پربوو نے پاک فضائیہ کے جدید تربیتی نظام میں دلچسپی ظاہر کی، انڈونیشیا نے دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے پاک فضائیہ سے تعاون کی خواہش ظاہر کی،ایئر چیف نے انڈونیشین وزیر دفاع اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، ایئر چیف کو تمام مقامات پر باقاعدہ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،دونوں فضائی افواج نے مشترکہ تربیت اور پیشہ ورانہ تبادلوں پر اتفاق کیا، ابھرتے ایرو اسپیس شعبوں میں باہمی اشتراک بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انڈونیشین ایئر چیف نے پاک فضائیہ کے جنگی تجربے کو سراہا، اس موقع پر ایئر چیف کو انڈونیشین فضائیہ کا اعلیٰ ترین میڈل آف آنر دیا گیا، مشترکہ اجلاس میں دفاع اور سلامتی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • 
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
پاکستان: آج ملکی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 8,600 روپے کم ہو کر 5 لاکھ 19 ہزار 962 روپے ہوگئی ہے۔
    ‎اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 7,373 روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 45 ہزار 783 روپے ہوگئی ہے۔
    ‎عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی، جہاں فی اونس سونا 86 ڈالرز کم ہو کر 4,972 ڈالرز پر پہنچ گیا ہے۔