امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں لبنان میں فوجی کارروائیاں محدود رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ مکمل جنگ سے گریز کریں اور صرف محدود اور ہدفی کارروائیوں تک رہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر تباہی اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کارروائیوں کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کو گرانا اور وسیع حملے صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں، جبکہ محتاط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی، حالانکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دونوں ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران سے متعلق معاملات سے الگ ہے، تاہم اگر کشیدگی بڑھی تو خطے میں سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
زمینی صورتحال کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ بھی راکٹ اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دے رہی ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔ ساتھ ہی امریکا لبنان میں سیاسی دباؤ بڑھانے اور فوج کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی پر بھی کام کر رہا ہے۔
ٹرمپ کی نیتن یاہو کو لبنان میں محدود کارروائی کی ہدایت
