Baaghi TV

Blog

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،کمرہ عدالت میں سائل بیہوش،ہسپتال منتقل

    اسلام آباد ہائیکورٹ،کمرہ عدالت میں سائل بیہوش،ہسپتال منتقل

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں ایک درخواست گزار اچانک بیہوش ہو کر زمین پر گر گیا، جس کے باعث عدالتی کارروائی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی۔

    تفصیلات کے مطابق 36 سالہ دلنواز نامی سائل اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوا تھا۔ کیس کی سماعت جسٹس محمد آصف کر رہے تھے۔ دورانِ سماعت فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد معزز جج نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسی دوران سائل دلنواز کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور وہ کمرہ عدالت میں ہی بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ عینی شاہدین کے مطابق دلنواز کو چکر آئے اور وہ سنبھل نہ سکا۔ عدالتی عملے اور وکلاء نے فوری طور پر اسے سہارا دیا جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کی۔

    دلنواز کو فوری طور پر ہائی کورٹ کی ڈسپنسری منتقل کیا گیا جہاں اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ڈسپنسری میں طبی معائنہ کے بعد ڈاکٹروں نے مزید علاج کی ضرورت کے پیش نظر اسے قریبی ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، جس پر ایمبولینس کے ذریعے اسے ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق دلنواز کی حالت اس وقت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے تاہم حتمی طبی رپورٹ آنے کے بعد ہی اس کی بیہوشی کی وجوہات سامنے آسکیں گی۔ عدالتی کارروائی کچھ دیر تعطل کے بعد دوبارہ شروع کردی گئی۔

  • بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -2،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -2،تحریر:ملک سلمان

    کون ہے ؟کون ہے؟ پوچھنے والوں کو میں نہیں بتا سکتا کہ تم خود اس حمام میں ننگے اور گندے ہو۔ بہت سارے جعلی ایمانداروں اور نیکوکاروں کو نہیں بتا سکتا کہ تمہاری آڈیو اور ویڈیو خود دیکھی ہیں کہ جس میں تم خاتون کی منتیں کر رہے ہو کہ پہلے آپ پھر میں آن لائن سیلف پریکٹس کرتے ہیں۔ عقل کے اندھو ابھی بھی وقت ہے کسی باہر کی عورت کے قدم چومنے سے بہتر ہے اپنی بیوی کے قدم دبا کر دیکھ لو دنیا جنت بن جائے گی۔

    میرا مقصد صرف اصلاح اور خبردار کرنا ہے کہ جو گند تم لوگوں نے پھیلایا ہے تھیلے سے باہر آگیا تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوگے۔ میں اس چیز پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ کسی کی پرائیویسی خراب نہیں کرنی چاہئے لیکن بطور خیر خوا تمہیں سمجھانے کی آخری کوشش ہے کہ کتے کی رال ٹپکانے سے بہتر ہے تھوڑے میں گزارا لو۔ واحیات افسران جس طرح کی تھڑی ہوئی حرکتیں کرچکے ہیں صرف وہ ہی پبلک ہو جائیں تو بہت سارے خودکشی کرلیں یا احساس ندامت سے پاگل ہوجائیں۔ویسے ایسی امید بھی کم لوگوں سے ہیں کیونکہ جس قدر گھٹیا ذہنیت کا ثبوت دے چکے ہیں لگتا نہیں کہ ان میں رتی برابر بھی شرم باقی ہوگی۔ چلیں شرم غیرت نہ سہی بے حیاؤ اپنا سوشل سٹیٹس ہی بچا لو۔

    جو سنئیر افسران پارلیمنٹیرین، صحافیوں، ساتھی افسران اور دیگر بااثر شخصیات کیلئے بھی اکثر پہنچ سے دور ہوئے ہوتے ہیں وہ آوارہ لونڈوں لپاڑوں کی طرح لانگ ڈرائیو کے نام پر "شوگر بے بیز” کی خاطر روڈ انسپکیٹری کرتے ہوئے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں۔ڈوپ ٹیسٹ کروا لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا جنسی خواہشات کی وحشت میں سوکالڈ کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے ڈرگز کے عادی ہوچکے ہیں۔ڈرگز کی کثرت کی وجہ سے منہ پر لعنتیں اور پھٹکارے سرجری کروانے سے بھی ختم نہیں ہو رہیں۔ چند افسران انباکس میں اخلاقیات کا لیکچر دے رہے تھے، یہ وہی ہیں جن کی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں کہ خاتون کو کہتے ہوئے کہ یہ ساشے تمہارا یہ ساشے میرا اب دیکھنا یہ رات کبھی نہیں بھول پاؤگی۔

    اس ٹاپک کومذید اگلی قسط میں سہی
    اخلاقی کرپشن کا دوسرا پہلو بھی دکھا دوں جس پر لکھنے کیلئے انہی افسران کی بیگمات نے سپیشل ریکوئسٹ کی کہ ان بے غیرت افسران کی اس عادت کی وجہ سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہیں۔گزشتہ سال ایک سنئیر آفیسر کی وائف کی کال آئی کہ سلمان صاحب آپ کبھی۔۔۔اس نامرد کو بھی بندوں کی گیدرنگ میں انوائٹ کرلیا کریں کہ شائد انسان بن جائے۔ میں نے کہا کہ پانچ سات دفعہ بلایا ہے لیکن شائد وہ مصروف ہوتے ہیں۔ مذکورہ خاتون نے پرسرار قہقہے کے ساتھ کہا کہ اس (ک ن ج ر) نے ایک ہی کام میں مصروف ہونا ہوتا ہے۔آپ کی محفل اوپن ہوتی ہے جبکہ اس کو بند کمرے میں مردوں کے ساتھ بیٹھنا پسند ہے۔اس بات کا مطلب مجھے کچھ مہینے بعد سمجھ آیا جب مجھے ایک اور آفیسر کی وائف نے کال کی۔۔۔۔یہ آپکی طرف ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں میری طرف تو آج تک نہیں آیا۔ کہنے لگیں کہ مجھے تو آپ کا انویٹیشن دکھا کر نکلا تھا کہ ڈنر پر جارہا ہوں۔ خاتون آفیسر نے اسرار کیا کہ آپ لوکیشن شئیر کریں میں آپکو پک کرتی ہوں آپنے ایک جگہ چھاپے مارنے میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔یہ وہیں ملے گا۔

    میں نے بہت کہا کہ یہ میرا نہیں آپ کا ذاتی گھریلو معاملہ ہے۔ خیر انکے اسرار پر میں ان کے ساتھ چل نکلا فیز 8 میں گھر کے سامنے جا کر انہوں نے نان سٹاپ ہارن بجانا شروع کردیا۔ چوکیدار باہر نکلا تو اسے کہا کہ۔۔۔۔۔کو کہو کہ عزت سے خود باہر آجائے ورنہ میں نے اندر آکر سب کو گولی مار دینی ہے۔ مذکورہ آفیسر ہاتھ جوڑتا ہوا باہر آیا کہ پلیز گھر جاؤ میں تمہارے پیچھے آیا۔خاتون نے اس آفیسر کو دیکھتے ہی کہا کہ تیری۔۔۔دا کھسم تے اے۔ تم اس شریف بندے کا نام لیکر یہاں مردوں کی گود میں بیٹھ کر منہ کالا کرنے پہنچے ہوئے ہو۔ پہلے واقع میں مینشن کیے گئے آفیسر کی گاڑی بھی وہیں کھڑی دیکھی تو تب سمجھ آئی کہ کس بند کمرے کا ذکر ہو رہا تھا۔

    چند ماہ قبل میں اور سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ لاہور جمخانہ کلب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ زوردار تھپڑ اور خاتون کی گالیوں کی آواز آئی۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو اہم محکمے کے ڈی جی تھپر سے لال منہ کو چھپائے بھاگ رہا تھا کہ جبکہ خاتون گالیاں دے رہی تھی کہ اگر مردوں کے ساتھ ہی منہ کالا کرنا تو اس سے شادی کیوں کی۔

    بیوروکریسی کا یہ ”گے گروپ“ ہر طرح کی سوشل گیدرنگ سے دور اپنی دنیا میں مگن کام ڈالتا رہتا ہے۔ لیکن ان کے اس قوم لوط والے شوق سے انکی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہے اس لیے وہ کھلم کھلا ان کے دوستوں کو اس بات کے شکوے کرتی ہیں کہ وہ صرف شو پیس اور سٹیٹس سمبل بن کر ری گئیں ہیں اور ان کے خاوند شادی سے پہلے والے شوق سے باہر نہیں نکل رہے۔

    پارٹی اور "گے گروپ” دونوں کی خاصیت ہے کہ سوشل گیدرنگ اور دوستوں کی محفل سے الگ تھلگ رہتے ہیں کیونکہ ان کو ذہنی ڈر ہوتا ہے کہ اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور صوفے کی بجائے کسی کی گود میں نہ بیٹھ جائیں۔
    ”گے گروپ“ والے دفتر میں چڑچڑے پن کا شکار اور فرعونیت کا روپ دھارے رہتے ہیں۔ ”گے گروپ“والے افسران بامشکل تیس سے چالیس ہوں گے لیکن یہ سارے اس مخصوص گروپ کی وجہ سے "کی پوسٹ” انجوائے کررہے ہیں۔
    جاری ہے۔۔۔

    ملک سلمان

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت ٹاکرا، ابھیشک شرما کی شرکت غیر یقینی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت ٹاکرا، ابھیشک شرما کی شرکت غیر یقینی

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں پاکستان کے خلاف میچ سے قبل بھارتی ٹیم کو اہم دھچکا لگ سکتا ہے، جارح مزاج اوپنر ابھیشک شرما کی شرکت تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج مقابلہ اتوار کو کولمبو میں شیڈول ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم آج رات نئی دہلی سے کولمبو روانہ ہوگی، جہاں میچ سے قبل آخری ٹریننگ سیشن میں کھلاڑیوں کی فٹنس کا جائزہ لیا جائے گا۔
    معدے کے انفیکشن کا شکاربھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیشک شرما حالیہ دنوں معدے کے شدید انفیکشن میں مبتلا ہوگئے تھے، جس کے باعث انہیں اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ طبیعت میں بہتری آنے کے بعد انہیں ڈسچارج کردیا گیا اور انہوں نے ٹیم کو جوائن بھی کرلیا ہے، تاہم مکمل فٹنس ابھی حاصل نہیں کر سکے۔

    ذرائع کے مطابق انفیکشن کے باعث ان کی جسمانی کمزوری تشویشناک ہے اور ٹیم کی میڈیکل یونٹ مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف انہیں کھلانے یا نہ کھلانے کا حتمی فیصلہ کولمبو میں ہونے والے پریکٹس سیشن کے بعد کیا جائے گا۔

    ابھیشک شرما نے ساتھی فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام میں اپنی صحت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ چند روز سے صرف دال چاول کھا رہے ہیں اور بیماری کے دوران ان کا تقریباً دو کلو وزن بھی کم ہوا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اگرچہ ان کی طبیعت میں واضح بہتری آئی ہے، تاہم مکمل توانائی کی بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، جس کے باعث ٹیم مینجمنٹ کسی بھی قسم کا خطرہ مول لینے سے گریز کر سکتی ہے۔

    ابھیشک شرما اپنی جارحانہ بیٹنگ کے باعث بھارتی ٹیم کی اوپننگ لائن اپ کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی کی صورت میں بھارتی ٹیم کو بیٹنگ آرڈر میں ردوبدل کرنا پڑ سکتا ہے، جو پاک بھارت میچ جیسے اہم مقابلے میں حکمت عملی پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔دوسری جانب پاکستانی ٹیم بھی اس میچ کے لیے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے اور شائقین کرکٹ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔اب تمام نظریں کولمبو میں ہونے والے بھارتی ٹیم کے ٹریننگ سیشن پر مرکوز ہیں جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا ابھیشک شرما پاکستان کے خلاف میدان میں اتریں گے یا نہیں۔

  • بھارتی میڈیا نے پاکستان کے اسپن اٹیک کو ایک مضبوط ہتھیار قرار دے دیا

    بھارتی میڈیا نے پاکستان کے اسپن اٹیک کو ایک مضبوط ہتھیار قرار دے دیا

    بھارتی میڈیا نے پاکستان کے اسپن اٹیک کو ایک مؤثر اور خطرناک ہتھیار قرار دیتے ہوئے آئندہ پاک بھارت ٹاکرے سے قبل اپنی ٹیم کو خبردار کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی اسپنرز کولمبو کی کنڈیشنز میں بھارتی بیٹنگ لائن کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں، اس لیے بھارتی ٹیم کو غیر معمولی احتیاط برتنا ہوگی۔

    بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس معیاری اسپنرز کی ایک مضبوط لائن اپ موجود ہے جس میں ابرار احمد، شاداب خان، محمد نواز، صائم ایوب اور عثمان طارق شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں کو پاکستان کے “اسپن اسلحہ خانے” کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر کولمبو کی وکٹ اسپنرز کو مدد فراہم کرتی ہے تو پاکستان اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔بھارتی میڈیا نے حالیہ میچز کا حوالہ دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ نمیبیا کے خلاف مقابلے میں بھارتی بیٹنگ لائن کے پانچ کھلاڑی اسپنرز کا شکار بنے جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی طرح امریکہ کے خلاف میچ میں بھی تین بھارتی بیٹرز اسپنرز کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ بھارتی ٹیم کو معیاری اسپن اٹیک کے خلاف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ٹیم میں موجود “چھوٹی دراڑیں” بڑے ایونٹ میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاک بھارت میچ میں دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور ایسے میں معمولی کمزوری بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔بھارتی کرکٹ حلقوں کا ماننا ہے کہ پاکستان کے اسپنرز مڈل اوورز میں کھیل کی رفتار کم کرنے اور رنز کے بہاؤ کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر بھارتی بیٹرز سلو ڈاؤن کا شکار ہو گئے تو میچ کا کنٹرول پاکستان کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔ اسی لیے بھارتی ٹیم کو اسپن بولنگ کو مؤثر انداز میں “ڈی کوڈ” کرنا ہوگا تاکہ وہ دباؤ میں آنے سے بچ سکے۔کرکٹ شائقین کی نظریں اس ہائی وولٹیج مقابلے پر مرکوز ہیں جہاں ایک بار پھر اتوار کو روایتی حریف آمنے سامنے ہوں گے، اور بظاہر اس بار مقابلے کا مرکزی نکتہ پاکستان کا اسپن اٹیک بن چکا ہے۔

  • کوہاٹ بڑی تباہی سے بچ گیا، سیکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی بروقت ناکارہ بنا دی

    کوہاٹ بڑی تباہی سے بچ گیا، سیکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری گاڑی بروقت ناکارہ بنا دی

    کوہاٹ: شہر ایک بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا جب سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بارودی مواد سے بھری ایک پک اپ گاڑی کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا۔ بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے باعث ممکنہ دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

    اطلاعات کے مطابق حساس اداروں کو مشکوک گاڑی کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی، جس کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز حرکت میں آئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع بھر کی پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں بھی قائم کر دی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پک اپ گاڑی میں بڑی مقدار میں بارودی مواد نصب تھا، جسے کسی حساس مقام پر استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کو فوری طور پر طلب کیا گیا، جنہوں نے انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں گاڑی میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنایا۔ اس دوران علاقے کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا تھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    سیکیورٹی اہلکاروں نے نہایت احتیاط اور مستعدی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر قرار دے دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور بارودی مواد نصب کرنے میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مستعدی کی بدولت ایک بڑا سانحہ ٹل گیا، جس سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔

  • بنوں میں صحافی کے گھر پر فائرنگ، چند روز قبل دھمکیاں ملنے کا انکشاف

    بنوں میں صحافی کے گھر پر فائرنگ، چند روز قبل دھمکیاں ملنے کا انکشاف

    بنوں: ضلع بنوں میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا، جہاں سابق صدر بنوں پریس کلب اور اے آر وائی نیوز کے نمائندے احسان خٹک کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے
    ۔
    تفصیلات کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے رات کی تاریکی میں احسان خٹک کے گھر کو نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔ خوش قسمتی سے فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گھر کی دیواروں اور دروازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ذرائع کے مطابق احسان خٹک اور ایک اور مقامی صحافی کو چند روز قبل ایک ٹھیکیدار کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ صحافیوں نے مبینہ طور پر ناقص میٹریل کے استعمال اور غیر معیاری سولر لائٹس و کھمبوں کی تنصیب سے متعلق خبر نشر کی تھی، جس کے بعد انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

    احسان خٹک کی جانب سے تھانہ صدر پولیس کو پہلے بھی نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کے خلاف درخواست دی جا چکی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے علاوہ ماضی میں افغانستان کے فون نمبرز سے بھی دھمکی آمیز کالز موصول ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

    صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن اور ناقص کام کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنانا آزادی صحافت پر حملہ ہے، جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

  • بنگلہ دیش انتخابات میں کامیابی پر صدر مملکت،وزیراعظم شہباز کی طارق رحمان کو مبارکباد

    بنگلہ دیش انتخابات میں کامیابی پر صدر مملکت،وزیراعظم شہباز کی طارق رحمان کو مبارکباد

    صدرِ مملکت آصف زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمٰن کو بنگلادیش کے عام انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

    صدر آصف علی زرداری نے بنگلادیش کے عوام کو 299 نشستوں پر انتخابات کے کامیاب انعقاد پر بھی مبارکباد دی ہے،اُنہوں نے کہا ہے کہ نئی بنگلادیشی حکومت کے ساتھ تجارت، دفاع، ثقافت اور علاقائی فورمز میں تعاون کےخواہاں ہے، بنگلادیش میں انتخابات جنوبی ایشیاء کے لیے ماضی کے مراحل سے آگے بڑھنے کا ایک موقع ہے، ڈھاکا کا نیا سیاسی ماحول خطے میں متوازن، آزاد اور باہمی احترام پر مبنی روابط کو فروغ دے گا،
    اُنہوں نے بنگلادیش کے مسلسل استحکام، ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انتخابات میں کامیابی پر طارق رحمٰن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلادیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی، برادرانہ اور کثیرالجہتی دو طرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں،اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان بہتر تعلقات کے ثمرات عوام کو حاصل ہوں گے،دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے جنوبی ایشیاء میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف پر کام کریں گے۔

  • ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے زیر اہتمام تربت میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق سیمینار

    ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے زیر اہتمام تربت میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق سیمینار

    ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کے زیر اہتمام تربت میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق کیچ سیمینار سوئم کا انعقاد کیا گیا

    سیمینار کا مقصد جنوبی بلوچستان میں روزگار کی کمی کے تاثر کو دور کرنا اور کاروباری مواقع اجاگر کرنا تھا،سیمینار میں مقامی سیاسی و سماجی شخصیات، سول و سیکیورٹی حکام، اساتذہ، ڈاکٹرز، میڈیا نمائندگان اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سیمینار میں مقررین نے اظہارِ خیال کیا کہ خطے میں کاروباری مواقع موجود ہیں، نوجوان ہنر سیکھ کر خوداعتمادی کے ساتھ آگے بڑھیں،جنوبی بلوچستان میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ضرورت صرف مؤثر رہنمائی اور خوداعتمادی کی ہے

    روایتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں دستیاب مواقعوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی،کامیاب مقامی کاروباری شخصیات کی جدوجہد نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا مثال بنی،آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے تعلیم، ہنر، محنت اور مستقل مزاجی پر زور دیا،اختتامی سیشن میں سوال و جواب کے دوران نوجوانوں کی پُراعتماد شرکت کو سراہا گیا

  • بنگلہ دیش انتخابات، بی این پی اتحاد جیت گیا،جماعت اسلامی کا دھاندلی کا الزام

    بنگلہ دیش انتخابات، بی این پی اتحاد جیت گیا،جماعت اسلامی کا دھاندلی کا الزام

    بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے میدان مار لیا۔

    بنگلا دیش میں عام انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک کے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کی تحادی جماعتوں نے 299 میں سے 209 نشتیں جیت لیں،غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 151 نشستیں جیت چکی ہے، طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے،جماعت اسلامی اور اتحادیوں کو 70 نشستوں پر کامیابی ملی ہے، جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے۔ نیشنل سیٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے، جن کےساتھ مل کر تحریک چلائی ان کےساتھ مل کر ملک چلائیں گے، طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے۔

    ادھر جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان نے الیکشن کمیشن پر چند حلقوں میں تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دیدی،شفیق الرحمان نے کہا کہ وہ سرکاری نتائج کے بعد ردعمل دیں گے اور یقین دلاتے ہیں کہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کریں گے، تعمیری اور عوام کے مفاد میں سیاست کریں گے۔

    بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے اب تک کے نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔

  • سید زعیم حسین قادری چل بسے، اناللہ وانا الیہ راجعون

    سید زعیم حسین قادری چل بسے، اناللہ وانا الیہ راجعون

    سابق لیگی رہنما اور سابق صوبائی وزیر سید زعیم حسین قادری انتقال کر گئے۔ وہ کافی عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور لاہور کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اہل خانہ کے مطابق ان کا انتقال ڈیفنس کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

    مرحوم کا تعلق لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ سے تھا اور وہ طویل عرصے تک سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہے۔سید زعیم حسین قادری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا اور پنجاب حکومت میں صوبائی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ پارٹی کے ترجمان بھی رہ چکے تھے اور سیاسی امور پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق زعیم قادری ایک متحرک اور بے باک رہنما تھے جنہوں نے مختلف ادوار میں پارٹی پالیسی کے دفاع میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کی خبر منظر عام پر آتے ہی سیاسی و صحافتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔سینئر صحافی و اینکر پرسن اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے زعیم حسین قادری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی سیاسی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔

    اہل خانہ کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد از نماز مغرب ادا کی جائے گی، جس میں سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔زعیم حسین قادری کی وفات پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ مرحوم کو ان کی سیاسی وابستگی، جرات مندانہ مؤقف اور عوامی روابط کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔