ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ زنجان میں کارروائی کے دوران تین امریکی بنکر شکن بم تباہ کر دیے گئے جبکہ ایک اور بم کو ناکارہ بنا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائی کے دوران GBU-57 طرز کے تین بنکر بسٹر بموں کو کامیابی سے تباہ کیا گیا، جبکہ ایک اور بم کو غیر فعال بنا کر متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئیں۔
GBU-57 کو دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کا وزن تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ ہوتا ہے۔ یہ ہتھیار زمین کے اندر گہرائی میں موجود مضبوط تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسے انتہائی حساس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اسی کارروائی کے دوران دشمن طیاروں کی جانب سے گرائے گئے 9 ہزار 500 سے زائد دیگر بم بھی تلاش کر کے ناکارہ بنا دیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس ہونے والی محدود جنگ کے دوران بھی امریکی افواج نے ایرانی جوہری تنصیبات پر ایسے ہی طاقتور بموں کے استعمال کی اطلاعات دی تھیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں شفاف معلومات اور تصدیق شدہ حقائق نہایت اہمیت رکھتے ہیں تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ایران کا امریکی بنکر بسٹر بم تباہ کرنے کا دعویٰ
