وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق تازہ ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 13.98 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے یہ شرح 12.16 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 9 اشیاء سستی ہوئیں اور 23 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ یہ اعداد و شمار عوام پر مہنگائی کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آلو کی قیمت میں 3.13 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بریڈ 0.91 فیصد اور کوکنگ آئل 0.69 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ انڈے، مٹن، چکن اور گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گھریلو اخراجات میں مزید بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 27.65 فیصد اور پیاز میں 9.35 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح ڈیزل، ایل پی جی، آٹا اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے شہریوں کو جزوی ریلیف ملا ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں 0.33 فیصد کمی آئی ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم سالانہ سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اب بھی عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی منڈی، مقامی سپلائی اور حکومتی پالیسیوں سے متاثر ہوتا ہے، اور اگر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
مہنگائی کی شرح 13.98 فیصد تک پہنچ گئی، ہفتہ وار کمی ریکارڈ
