قصور
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا کر 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیاء، سبزیاں، پھل، آٹا، چینی اور دیگر ضروری سامان مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے زندگی اجیرن بنا رکھی تھی، اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا مزید دشوار کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں، مراعات اور اشرافیہ کے اخراجات کم کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام پر ڈال رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں سفید پوش طبقہ بری طرح پس چکا ہے جبکہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب بھی مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں میں کمی، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر مہنگائی کا یہ طوفان مزید سنگین معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،ٹراسپوٹرز کا 10 فیصد کرایہ بڑھانے کا اعلان
