جاپان نے اپنے ایشیائی ہمسایہ ممالک، خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 ارب ڈالر کی مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایران جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جاپان کی وزیر اعظم ثنائے تاکائیچی نے بدھ کے روز ایشیائی رہنماؤں کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کے بعد اس تعاون کے نئے فریم ورک کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان خطے کے ممالک کے ساتھ مضبوط سپلائی چین روابط رکھتا ہے اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
وزیر اعظم کے مطابق یہ فنڈنگ نہ صرف خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری میں مدد دے گی بلکہ سپلائی چین کو برقرار رکھنے اور توانائی کے ذخائر بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جاپان طبی آلات سمیت کئی شعبوں میں جنوب مشرقی ایشیا پر انحصار کرتا ہے، اس لیے خطے کا استحکام جاپان کے لیے بھی اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ تقریباً 90 فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے خطے تک پہنچتی ہے۔ اس تناظر میں جاپان کا یہ اقدام نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ 10 ارب ڈالر کی امداد آسیان ممالک کی ایک سالہ خام تیل کی درآمدات کے برابر ہے۔ اجلاس میں شریک ممالک، جن میں فلپائن، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، ویتنام، بنگلہ دیش اور جنوبی کوریا شامل تھے، نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں توانائی کے استحکام اور معاشی تحفظ کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
جاپان کا ایشیائی ممالک کیلئے 10 ارب ڈالر توانائی پیکج
