امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ طے پانے کے قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عندیہ دیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے اور معاملات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد حالات میں نمایاں فرق آیا ہے اور اب ایران کے پاس ایک بہتر موقع موجود ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ تعاون کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ دونوں ممالک ایک جامع معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جو خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ ممکنہ طور پر اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس حوالے سے مؤثر اور قابل تعریف اقدامات کیے ہیں جس سے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران اب ان نکات پر بھی آمادگی ظاہر کر رہا ہے جن پر وہ پہلے تیار نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ ان کے بقول پیش رفت تیزی سے ہو رہی ہے اور ایران اس بات پر رضامند ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے، جبکہ پاکستان کے لیے بھی سفارتی سطح پر ایک اہم کامیابی تصور کیا جائے گا۔
ایران کیساتھ معاہدے کے قریب ہیں، ڈیل ہو گئی تو اسلام آباد جاؤں گا، ٹرمپ
