پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پلاسٹک تھیلوں کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صحت اور ماحول کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی کنول لیاقت نے کہا ہے کہ حکومت پلاسٹک تھیلوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے کیونکہ یہ نہ صرف فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہیں اور مختلف بیماریوں، حتیٰ کہ کینسر جیسے مسائل سے بھی منسلک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کے متبادل کے طور پر سستے اور ماحول دوست کاغذی تھیلے دستیاب ہیں، جن کے استعمال کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ پنجاب کو مکمل طور پر پلاسٹک فری زون بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال ماحولیاتی آلودگی، نکاسی آب کے مسائل اور زمین کی زرخیزی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، جس کے باعث ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف ماحول بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا۔
Blog
-

پنجاب میں پلاسٹک تھیلوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
-

لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان جاری جنگ بندی مذاکرات کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، لہٰذا وہاں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ اور قیامِ امن ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا، تاہم نہ کوئی بڑا بریک تھرو سامنے آیا اور نہ ہی مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “نہ بریک تھرو نہ بریک ڈاؤن” قرار دیا۔
ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل اور سنجیدہ مذاکرات ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر یہ سفارتی عمل 24 گھنٹوں سے بھی زائد جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فریقین کے عزم اور سنجیدگی کو سراہا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس امن عمل میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور تہران و واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور وفود کے تبادلے بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ سفارتی رابطوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ اعتماد اور رازداری برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان معلومات کو شیئر کیا جائے تو یہ اعتماد کے منافی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے دوست ممالک اور عالمی طاقتوں، بشمول روس، سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے امن عمل کی حمایت کرنے والے ممالک کا خیر مقدم بھی کیا۔
ترجمان نے آئندہ مذاکرات کی تاریخ سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔ -

ایران کا دعویٰ، ڈرون پیداوار میں 10 گنا اضافہ
ایرانی مسلح افواج کے نائب چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس جون میں ہونے والی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے اپنی ڈرون پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ کے دوران ایران نے حملہ آور ڈرونز کی پیداوار میں 10 گنا اضافہ کیا ہے، جو دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ کے مطابق ایران نے ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات نے ایران کی عسکری حکمت عملی کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں اب ایران دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے اور فوری و مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی میں اس طرح کا اضافہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور اس سے دفاعی حکمت عملیوں میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث عالمی برادری کی توجہ اس صورتحال پر مرکوز ہو گئی ہے۔ -

آج رات سے لوڈشیڈنگ میں کمی، وزیر توانائی کا اعلان
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا ہے کہ آج رات سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی جائے گی، جس سے عوام کو فوری ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور لوڈشیڈنگ کے باعث ہونے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور آج رات سے صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد اور کے الیکٹرک کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، جبکہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے ریکارڈ 2100 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔ وزیر توانائی کے مطابق اس وقت ملک کو تقریباً 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ اس شارٹ فال کی بڑی وجوہات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث گیس کی فراہمی میں رکاوٹ اور پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1600 میگاواٹ کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایل این جی کی عدم دستیابی سے بھی 3000 میگاواٹ سے زائد کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی اور سولر کے فروغ پر کام کر رہی ہے، تاہم موجودہ بحران عارضی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق فرنس آئل سے 1400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے تاکہ قلت کو کم کیا جا سکے۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اپریل میں بجلی کی طلب 9 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار میگاواٹ تک رہی، اور جب طلب ساڑھے 16 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرتی ہے تو لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہونے اور ایل این جی کی فراہمی بحال ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ فرنس آئل کے استعمال سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو تقریباً 1 روپے 30 پیسے فی یونٹ تک جا سکتا ہے۔ -

لوڈشیڈنگ کا عذاب: وعدوں سے آگے حل کب؟ تجزیہ :شہزاد قریشی
توانائی بحران: عوام کی آزمائش یا حکومتی ناکامی؟
بجلی، گیس اور بے بسی: نظام کب بدلے گا؟
تجزیہ شہزاد قریشی
بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بنیادی ہیں، اور ان کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی، صحت اور معیشت پر پڑتا ہے۔ لیکن اس معاملے کو صرف یہ کہہ کر ختم کر دینا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ایک دن یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسیوں، ناقص منصوبہ بندی، درآمدی ایندھن پر انحصار اور بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔یہ ماننا پڑے گا کہ ہر سال گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی وہی پرانے وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ بیانات دیے جاتے ہیں، تسلیاں دی جاتی ہیں، مگر عملی طور پر عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ شدید گرمی میں بجلی کی بندش نہ صرف اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ اسپتالوں، گھروں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ گیس کی قلت سردیوں میں الگ مصیبت بن کر سامنے آتی ہے۔ ایسے میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔
تاہم اصل مسئلہ محض ایک حکومت یا چند سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔ توانائی کے شعبے میں مستقل مزاجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی پالیسیوں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے نہ صرف تسلسل ختم ہوتا ہے بلکہ وسائل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے مسائل بھی اس بحران کو مزید سنگین بناتے ہیں۔
اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس مسئلے کا حل موجود ہے، مگر اس کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔ پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے متبادل ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف تیزی سے جانا ہوگا۔ یہی واحد راستہ ہے جو نہ صرف بجلی کو سستا بنا سکتا ہے بلکہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی نجات دلا سکتا ہے۔ساتھ ہی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب تک اداروں میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک بہترین منصوبے بھی کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ عوام کو محض وعدوں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن کرنا ہوگا۔
جمہوریت ایک خوبصورت نظام ہے، مگر اس کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب یہ عوامی مسائل کو حل کرے اور لوگوں کی زندگی میں بہتری لائے۔ اگر بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں محض الزام تراشی سے آگے بڑھ کر قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تاکہ عوام کو اس دیرینہ مسئلے سے حقیقی نجات مل سکے۔
-

ایران کا پاکستان پر اعتماد، مذاکرات صرف اسلام آباد میں ہوں گے
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے اور ایران کسی اور مقام پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پاکستان پر اعتماد کرتا ہے جبکہ امریکا کو قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتا۔
اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اسی لیے ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن کے لیے کردار کو سراہا۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں بالادستی نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی بھی ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تصدیق کر چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور گزشتہ 47 برسوں میں امریکا اور صیہونی قوتوں کا دباؤ برداشت کیا، مگر ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہا۔
ایرانی سفیر نے اسرائیل پر خطے میں بالادستی کی خواہش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے اچانک حملوں نے سفارتی عمل کو متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ نقصانات کے باوجود ایرانی قوم متحد اور مضبوط ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ -

قالیباف کا امریکا سے مطالبہ، ’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی ترک کرنے پر زور
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سفارتی معاہدوں کی پاسداری کرے اور خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی ترک کرنی چاہیے تاکہ خطے میں توازن اور استحکام قائم ہو سکے۔
تفصیلات کے مطابق قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کو طے شدہ معاہدوں پر عمل کرنا چاہیے اور یکطرفہ ترجیحات سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی تحریکوں کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک تعلق موجود ہے اور یہ عناصر جنگ یا جنگ بندی، دونوں صورتوں میں مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی دونوں ساتھ ساتھ جاری ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی پالیسیوں پر تنقید اور خطے میں اتحادوں کی بات عالمی سفارت کاری میں ایک نئے رخ کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل کے لیے مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کو مزید مضبوطی سے پیش کر رہے ہیں۔ -

ایران کی امریکا کو دھمکی، جنگی جہاز نشانے پر
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے لانچرز امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں تباہ کیا جا سکتا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ دشمن پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے اور ایران اس حوالے سے اپنی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی لانچرز پہلے ہی امریکی جنگی جہازوں کو نشانے پر لے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو ایران کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور امریکی بحری طاقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
محسن رضائی نے امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ بحری ناکہ بندی کے منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور ایران اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ -

ایران کیخلاف آپریشن عارضی بند، امریکا کا اعلان
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشنز کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، تاہم امریکی فوج ہر ممکن کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وزیر جنگ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا فوری طور پر دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا گھیراؤ برقرار ہے اور اس کا اطلاق تمام ممالک کے جہازوں پر ہو رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی بندرگاہوں کی جانب جانے اور وہاں سے آنے والے تمام جہازوں پر پابندی عائد ہے، اور یہ ناکہ بندی کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ تمام جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔
جنرل ڈین کین کے مطابق اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد ایران کی تیل کی ترسیل کو روکنا ہے، اور اس کے نتیجے میں ایرانی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے آپریشنز کی عارضی معطلی اور ساتھ ہی سخت بحری پابندیاں ایک دوہری حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کا مقصد ایران پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے، تاہم سفارتی حل کی گنجائش بھی موجود ہے۔ -

اغوا برائے تاوان میں پولیس اہلکار ملوث، 4 ملزمان گرفتار
کراچی میں اغوا برائے تاوان کی سنگین واردات میں سندھ پولیس کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس افسر سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان میں بہادر آباد تھانے کا اے ایس آئی محسن آصف اور فارن سیکیورٹی سیل کا اہلکار راشد علی بھی شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں حماد نامی شخص اور اس کے ساتھی شامل ہیں، جبکہ 3 ملزمان تاحال فرار ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے گلستانِ جوہر سے 60 سالہ شہری مرزا یوسف بیگ کو اغوا کیا۔ ملزمان پولیس پارٹی کا روپ دھار کر شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔ اس دوران ملزمان نے گھر سے 35 لاکھ روپے نقد بھی لوٹ لیے۔
اغوا کے بعد مغوی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے اہل خانہ سے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا، تاہم بعد ازاں مذاکرات کے بعد یہ رقم 25 لاکھ روپے طے پائی۔ تاوان کی ادائیگی راشد منہاس روڈ پر ملینیئم مال کے قریب کی گئی۔
اے وی سی سی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا پیچھا کیا اور مقابلے کے بعد 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ 3 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
حکام کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے، جو ملزمان نے کرائے پر حاصل کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
یہ واقعہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔