توانائی بحران: عوام کی آزمائش یا حکومتی ناکامی؟
بجلی، گیس اور بے بسی: نظام کب بدلے گا؟
تجزیہ شہزاد قریشی
بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بنیادی ہیں، اور ان کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی، صحت اور معیشت پر پڑتا ہے۔ لیکن اس معاملے کو صرف یہ کہہ کر ختم کر دینا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران ایک دن یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط پالیسیوں، ناقص منصوبہ بندی، درآمدی ایندھن پر انحصار اور بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔
یہ ماننا پڑے گا کہ ہر سال گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی وہی پرانے وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ بیانات دیے جاتے ہیں، تسلیاں دی جاتی ہیں، مگر عملی طور پر عوام کو ریلیف نہیں ملتا۔ شدید گرمی میں بجلی کی بندش نہ صرف اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ اسپتالوں، گھروں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔ گیس کی قلت سردیوں میں الگ مصیبت بن کر سامنے آتی ہے۔ ایسے میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔
تاہم اصل مسئلہ محض ایک حکومت یا چند سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔ توانائی کے شعبے میں مستقل مزاجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر نئی حکومت پچھلی پالیسیوں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے نہ صرف تسلسل ختم ہوتا ہے بلکہ وسائل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے مسائل بھی اس بحران کو مزید سنگین بناتے ہیں۔
اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس مسئلے کا حل موجود ہے، مگر اس کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔ پاکستان کو مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے متبادل ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف تیزی سے جانا ہوگا۔ یہی واحد راستہ ہے جو نہ صرف بجلی کو سستا بنا سکتا ہے بلکہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی نجات دلا سکتا ہے۔ساتھ ہی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ جب تک اداروں میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک بہترین منصوبے بھی کاغذوں تک محدود رہتے ہیں۔ عوام کو محض وعدوں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن کرنا ہوگا۔
جمہوریت ایک خوبصورت نظام ہے، مگر اس کی خوبصورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب یہ عوامی مسائل کو حل کرے اور لوگوں کی زندگی میں بہتری لائے۔ اگر بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں محض الزام تراشی سے آگے بڑھ کر قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تاکہ عوام کو اس دیرینہ مسئلے سے حقیقی نجات مل سکے۔
