سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو نے ایشیائی صارفین کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جسے خطے میں تیل کی طلب، عالمی منڈی کے رجحانات اور بڑھتے ہوئے مسابقتی دباؤ کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آرامکو آئندہ ماہ ایشیا کے لیے عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری فروختی قیمت میں 1.1 ڈالر فی بیرل کمی کرے گی۔ اس فیصلے کے بعد ایشیائی خریداروں کو علاقائی بینچ مارک کے مقابلے میں 1.5 ڈالر فی بیرل رعایت پر تیل دستیاب ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے صرف عرب لائٹ خام تیل ہی نہیں بلکہ ایشیائی منڈی کے لیے خام تیل کے دیگر گریڈز کی قیمتوں میں بھی کمی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خطے کے بڑے درآمد کنندگان کو زیادہ مسابقتی نرخوں پر تیل فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آرامکو کا یہ اقدام ایشیائی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے اور بڑے خریدار ممالک کی طلب کو مستحکم رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ایشیائی ممالک سعودی عرب سے بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ کمی عالمی توانائی مارکیٹ، ریفائنریوں کے منافع اور خطے کے درآمدی اخراجات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں اوپیک پلس کی پالیسیوں اور عالمی طلب و رسد کی صورتحال کے مطابق مزید فیصلے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
Blog
-

آرامکو نے ایشیائی خریداروں کے لیے خام تیل سستا کر دیا
-

پانچ سال میں خیبرپختونخوا کو وفاق سے 34 کھرب 88 ارب روپے ملے
پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران وفاقی حکومت نے صوبے کو مجموعی طور پر 34 کھرب 88 ارب 67 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کیے، جن میں این ایف سی ایوارڈ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دیے گئے فنڈز شامل ہیں۔
اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2021 سے 2025 تک صوبے کو 31 کھرب 14 ارب 45 کروڑ روپے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں جبکہ 3 کھرب 74 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کے لیے فراہم کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران خیبرپختونخوا کو سب سے زیادہ فنڈز موصول ہوئے۔ اس سال وفاق نے مجموعی طور پر 10 کھرب 46 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کیے، جن میں 9 کھرب 34 ارب 57 کروڑ 90 لاکھ روپے این ایف سی ایوارڈ جبکہ 1 کھرب 12 ارب 22 کروڑ 96 لاکھ روپے وار آن ٹیرر فنڈز کی مد میں شامل تھے۔
ایوان میں اپوزیشن رکن احمد کریم کنڈی نے اعداد و شمار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیش کی گئی تفصیلات اور حکومتی وائٹ پیپر میں تقریباً 60 ارب روپے کا فرق موجود ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واضح کیا جائے آیا وائٹ پیپر درست ہے یا بجٹ دستاویزات۔
اس پر صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا مکمل جواب فراہم کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق صوبے کو موصول ہونے والی رقم اور صوبے کے واجب الادا حصے میں مختلف انتظامی اور مالی وجوہات کی بنا پر فرق آ سکتا ہے، جبکہ تمام تفصیلات صوبائی اور وفاقی سطح پر دستیاب ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ معاملے کا مزید جائزہ لینے اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ تمام اختلافات اور اعداد و شمار کی وضاحت کی جا سکے۔ -

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث کاروباری ہفتے کے آغاز پر نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی اور مارکیٹ نئی بلند سطح پر بند ہوئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 71 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 68 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت بھی تقریباً 66 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتیں مختلف عوامل کے زیرِ اثر مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں، عالمی طلب و رسد، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بڑی معیشتوں کے اقتصادی اشاریے قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے رہے۔ بعض مارکیٹوں میں خریداری کا رجحان غالب رہا، جبکہ کچھ مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں نے منافع کے حصول کے لیے فروخت کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صورتحال اس کے برعکس رہی، جہاں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 82 پوائنٹس کے نمایاں اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 87 ہزار 454 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر معاشی توقعات، کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور مثبت سرمایہ کاری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان جاری رہنے کا امکان ہے۔ -

ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، معاہدہ یا امریکا کارروائی مکمل کرے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران کے پاس امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے یا پھر امریکی کارروائی کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ یا تو ایک معاہدہ طے پائے گا، یا پھر امریکا اپنا کام مکمل کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت معاہدہ کرنے کا خواہشمند ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کا امکان موجود ہے۔
ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حامی نہیں ہیں۔ ان کے بقول امریکا کا مقصد ایران کے اندرونی سیاسی نظام کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ ایسے معاملات کا حل تلاش کرنا ہے جو خطے کے امن اور عالمی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے کے بارے میں سخت بیانات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب مذاکرات کے ذریعے کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش بھی موجود رکھنا چاہتا ہے۔ ایران کی جانب سے ابھی تک ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ -

پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے، فیلڈ مارشل
راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، دہشت گردی، علاقائی صورتحال اور قومی دفاع سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس کے آغاز میں وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی بنیاد رہیں گی اور قوم ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
شرکاء نے افغان طالبان کے زیرِ تسلط علاقوں سے پاکستان کے خلاف بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ منصوبہ بندی اور حملوں کے لیے ان علاقوں کے مسلسل استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ فورم کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ افغان طالبان کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے زیرِ انتظام علاقوں کو دہشت گرد عناصر کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ فورم نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی عوام کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ افواجِ پاکستان آپریشن "غضب للحق” کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھیں گی تاکہ دہشت گردی کے خطرے کا مؤثر انداز میں خاتمہ کیا جا سکے۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں مؤثر طرزِ حکمرانی، عوامی فلاح، بہتر انتظامی ڈھانچے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کیا جا سکے۔
فورم نے کہا کہ معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد دشمن ہائبرڈ وارفیئر، جھوٹے بیانیے اور بیرونی معاونت سے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایسی ہر کوشش کو پوری قوت کے ساتھ ناکام بنایا جائے گا۔
کانفرنس میں پاکستان کے علاقائی امن، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کردار کو سراہا گیا۔ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کا بھی جائزہ لیا گیا اور واضح کیا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی 24 اپریل 2025 کی ہدایات اس حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ افواجِ پاکستان حکومت کی پالیسی اور عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان کے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گی۔
شرکاء نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور خطے میں دیرپا امن کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دینے پر ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تمام کمانڈرز کو ہدایت کی کہ جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے اور ہر قیمت پر پاکستان کی خودمختاری، قومی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ -

چین کا بحرالکاہل میں آبدوز سے بیلسٹک میزائل تجربہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی تشویش
چین نے پیر کے روز بحرالکاہل میں ایک آبدوز سے بیلسٹک میزائل کا نایاب تجربہ کیا، جس کے بعد نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
چینی بحریہ کے ترجمان سینئر کیپٹن وانگ شوئیمینگ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی نیوی کی ایک آبدوز نے بحرالکاہل کے مخصوص بین الاقوامی سمندری علاقے کی جانب ایک فرضی وارہیڈ سے لیس اسٹریٹجک میزائل فائر کیا، جو مقررہ مقام پر کامیابی سے گرا۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ سالانہ فوجی تربیتی پروگرام کا معمول کا حصہ تھا اور متعلقہ ممالک کو اس سے قبل آگاہ بھی کر دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے مطابق کی گئی اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔
بیجنگ نے میزائل کی قسم ظاہر نہیں کی، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق چین کے پاس JL-2 اور JL-3 نامی آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ ان میں سے JL-3 اتنی طویل مار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ جنوبی بحیرہ چین سے بھی امریکا کے بیشتر حصوں تک پہنچ سکتا ہے۔
چین کی بحریہ اس وقت ٹائپ 094 (جن کلاس) آبدوزوں کا بیڑا استعمال کر رہی ہے، جن کی تعداد چھ بتائی جاتی ہے۔ چین شاذ و نادر ہی اپنے میزائل تجربات کی تفصیلات جاری کرتا ہے، جبکہ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق JL-3 کا پہلا تجربہ 2018 میں کیا گیا تھا۔
ادھر نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ یہ میزائل ایسے سمندری علاقے میں داغا گیا جو جنوبی بحرالکاہل نیوکلیئر فری زون کا حصہ ہے، جس پر انہیں شدید تشویش ہے۔ آسٹریلیا نے بھی اس تجربے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ -

مقبوضہ کشمیر: گاڑی کی ٹکر سے 61 سالہ شہری جاں بحق
مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے کوکرناگ میں ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 61 سالہ شخص جان کی بازی ہار گیا۔
مقامی حکام کے مطابق حادثہ ہفتے کے روز ہلر کوکرناگ کے علاقے باہی میں پیش آیا، جہاں ٹاویرا گاڑی نے سڑک عبور کرنے والے ایک پیدل شخص کو ٹکر مار دی۔
جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت عبدالمجید کے نام سے ہوئی، جو غلام محمد کے بیٹے اور دہرونا کے رہائشی تھے۔
حادثے کے فوری بعد زخمی شخص کو طبی امداد کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج (GMC) اننت ناگ منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ گاڑی اور اس کے ڈرائیور سے متعلق قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔ -

معروف کامیڈی اداکار اللہ رکھا پیپسی انتقال کر گئے
لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معروف کامیڈی اداکار اللہ رکھا پیپسی انتقال کر گئے۔ وہ حرکت قلب بند ہونے کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملے، جس سے شوبز انڈسٹری اور ان کے مداحوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
اطلاعات کے مطابق اللہ رکھا پیپسی کو "پبلک ڈیمانڈ” کامیڈی پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران اچانک دل کا دورہ پڑا۔ طبیعت بگڑنے پر انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹر ان کی جان نہ بچا سکے۔
اللہ رکھا پیپسی کئی دہائیوں تک پاکستانی اسٹیج اور ٹی وی انڈسٹری کا نمایاں نام رہے۔ انہوں نے اپنے منفرد مزاحیہ انداز، برجستہ مکالموں، حاضر جوابی اور فطری اداکاری سے لاکھوں ناظرین کے دل جیتے۔ ان کی پرفارمنس کو ہر عمر کے شائقین نے بے حد پسند کیا اور وہ اسٹیج کامیڈی کی دنیا میں ایک منفرد شناخت رکھتے تھے۔
انہوں نے متعدد کامیاب اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، جبکہ مختلف ٹی وی مزاحیہ پروگراموں اور ڈراموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کا مخصوص اندازِ مزاح اور بے ساختہ اداکاری انہیں اپنے ہم عصر فنکاروں سے ممتاز بناتی تھی۔
اللہ رکھا پیپسی کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد شوبز شخصیات، ساتھی فنکاروں اور مداحوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں لوگ ان کی فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کر رہے ہیں۔
فن سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ اللہ رکھا پیپسی نے پاکستانی اسٹیج کامیڈی کو نئی پہچان دی اور اپنی بے مثال صلاحیتوں کے ذریعے برسوں تک لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔ ان کی وفات سے پاکستان کی تفریحی صنعت ایک باصلاحیت اور مقبول فنکار سے محروم ہو گئی ہے، جبکہ ان کی یادگار پرفارمنس ہمیشہ شائقین کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ -

مخالف مزاج مشغلوں کی تھکن سے باہر نکلیں!تحریر: ظفر اقبال ظفر
تھکن کی ایک بڑی وجہ بوریت ہوتی ہے۔مصدقہ حقیقت ہے کہ جذباتی مشقت کی بجائے تھکن پیدا کرنے میں عام طور پر جذباتی رویے کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔جب آپ اپنے من پسند کام میں مشغول نہ ہوں تو بوریت تھکن پیدا کرتی ہے۔جب ہم کوئی دلچسپ اور سنسنی خیز کام کررہے ہوتے ہیں تو تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔جیسے میں قدرتی خوبصورتی سے لبریز علاقے میں سرسبز پہاڑوں کے اوپر پڑی برف سے کھیلتا درختوں سے پھل توڑتا ٹوکریاں اور پیٹ بھرتا چشموں کا پانی جسم کے اوپر اور اندر اُتارتا گاس کے بیچ میں پھولوں سے باتیں کرتا ان کی خوشبو کے جواب سنتا ہواؤں کی لہروں میں گھلی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا لیکن میں آٹھ دس گھنٹوں کی اس مسلسل جدوجہد سے تھکتا کیوں نہیں؟اس لیے کہ میرے جذبات میں ہلچل مچی ہوتی ہے اور میری رُوح شگفتگی کے احساس سے مخمور ہوتی ہے مجھے زندگی جینے کی ایک اعلیٰ کامیابی کا احساس ہوتا ہے۔
آپ جس فن میں ماہر ہوں اگر ا س میں مداخلت و خلل پیدا کر دیئے جائیں تو بنا کام نپٹائے آپ تھکاوٹ سے چور ہو کر بستر آرام پہ پہنچ جاتے ہیں اور اگلے روزسازگار ماحول میں آپ گذشتہ دن کی نسبت زیادہ کام کرکے بھی کھلی کلی کی طرح تازہ اور شگفتہ تھے۔اس دو طرح کے عمل سے گزرنے کے بعد ہم اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں کہ اکثر اوقات کام کی زیادتی نہیں بلکہ پریشانی تلخی اور انتشار ہمیں تھکا دیتے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو وہی کام کرتے ہیں جو ان کی طبیعت کے موافق ہوتا ہے کیونکہ انہیں زیادہ قوت و خوشی میسر ہوتی ہے اور کم پریشانی اور کم تھکاوٹ۔جہاں آپ کی دلچسپی ہو وہیں آپ کی قوت بھی بیدار رہتی ہے۔ایک جھگڑالو بیوی کے ساتھ دس قدم چلنا دل نواز محبوبہ کے ساتھ دس میل چلنے کی نسبت زیادہ تھکا دیتا ہے۔تبدیل شدہ زہنی رویے کی قوت کا یہ معاملہ میرے لیے ایک بے حد اہم دریافت ہے اس نے معجزے دیکھائے ہیں وہ کام جس میں آپ کو دلچسپی ہے اس کا م کو بھی دلچسپ بنا دے گا یہ آپ کی تھکاوٹ،آپ کی جذباتی کشمکشوں اور آپ کی پریشانیوں کو بھی دُور کر دے گا۔میں نے ایک فیصلہ کیا جس نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی جب میں نے ایک غیر دلچسپ کام کو دلچسپ بنانے کا تہیہ کیااور اس عمل میں اپنی ذات، اپنی سوچ، اپنے حالات پر پڑنے والے اثرات کو نوٹ کرتا چلا گیا اور جب یہ عمل مکمل کر چکا تو اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اسباق کو مشاہدوں کے صفات پر حقائق کے قلم سے قلمبند کرکے آپ کے سامنے اس تحریر کی صورت میں پیش کرنے آ گیا۔ اب یہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس ناخوشگوار حالات سے گزر کر اس کو خود پر آزما لیں یا میری کارگزاری پہ یقین کرتے ہوئے اپنی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لیے مواقف و دلچسپ راستوں کا انتخاب کر لیں۔اسی تناظر میں ایک مشورہ مطالعے کے دسترخوان پر رکھے دیتا ہوں ہو سکتا ہے آپ کا زہن چکھے تو دل کے معدے میں اتار لے اورآپ صحت مند جینے سے لطف اندوز ہو جائیں۔
جو لوگ بھی دنیا میں ترقی و کامیابی حاصل کرنے کے آرزومند ہیں وہ ہر روز اپنے بل بوتے پر کا م کرنے کی کوشش کریں۔اپنے آپ کو نیم خوابی سے بیدار کریں اس سے باہر نکلنے کے لیے جسمنانی ورزش سے شروع کرتے ہوئے زہنی ورزش تک آنا پھر یہاں سے رُو حانی ورزش تک پہنچنا ہے تاکہ درست سوچنے سمجھنے کے لیے صحت مند دماغی و رُوحانی جسمانی قوت کے استعمال سے کامیابی تک پہنچاجائے۔جب کسی انسان پر ناکامی قبضہ کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل ماری جاتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے میں ہر طرف اندھیرے پھیلے ہوتے ہیں اور یو ں وہ مایوسی و ناکامی میں جکڑ کر رہ جاتا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی عقل سے سارے روشن راستے بھی نکلتے ہیں۔جیسے قدرت کسی کو نوازنا چاہتی ہے تو اس کی عقل کے در کھول دیتی ہے اس کے سوچنے سمجھنے اور کرنے کے عمل میں سارے فوائد چھپے ہوتے ہیں جسے وہ پا لیتا ہے اور جیسے قدرت ڈبونا چاہتی ہے اس کی عقل مار دیتی ہے وہ مفید سوچوں اور عملوں سے دُور ہو جاتا ہے۔اس نقص کو رُوحانی ورزش سے دُور کیا جاتا ہے۔ہر روز اپنے آپ سے مستعدی اور استقلال کی مفید گفتگو کیا کریں انسان اپنے آپ کا مخلص دوست بھی ہونا چاہیے۔کیا ہر روز اپنے آپ سے استقلال کی گفتگو کرنا کوئی سطحی،احمقانہ اور بچگانہ حرکت ہے؟اس کے برعکس یہ تو نفسیات کا درست نچوڑ ہے۔ہمارے خیالات ہی ہماری زندگی کی ترتیب و منازل کا تعین کرتے ہیں۔روزانہ مخصوص اوقات کار میں اپنے آپ سے گفتگو کرکے جرات،مسرت،قوت،امن و خوشحالی کے خیالات سوچنے سے تنہائی کا خالی پن ہی دُور نہیں ہوتا بلکہ مصروفیات کی عملی تیاری بھی ملتی ہے اپنے آپ کا حوصلہ بن کر رہیں ناکامی و مایوسی کے خیالوں کا راستہ روکنے کے لیے بلند فضاؤں میں پرواز کرتے اور چہچہاتے خیالوں کی موجودگی یقینی بنائے رکھیں۔مفید قسم کے خیالات سوچنے سے آپ اپنے کام کی ناگواری اور بے لطفی کو کم کر سکتے ہیں۔اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ آپ زندگی سے جو لطف و خوشی حاصل کرتے ہیں آپ میں دلچسپی اس کی مقدار کو دوگنا کر سکتی ہے کیونکہ آپ اپنی بیداری کے نصف اوقات کار اپنے کام میں صرف کرتے ہیں۔یاد رکھیے اگر آپ کو یہاں سے خوشی نہیں مل رہی تو پھر کہیں نہیں مل سکتی۔اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ اپنے دلچسپ کام میں مصروف رہنے سے آپ کے دماغ سے پریشانیاں ہوا ہو جائیں گئیں بالآخر آپ کی ترقی آپ کی دولت میں اضافے کا موجب بنے گی اگر ایسا نہ بھی ہو تو آپ کی تھکاوٹ گھٹ کر کم رہ جائے گئی اور لمحات لطف اندوز بنیں گئے۔جذباتی رویوں کی تھکن سے بچنے کے لیے موافق مشغلوں میں مصروف عمل رہیں
-

گوجر خان،مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال، بڑے سانحے کا خطرہ
مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال بڑے سانحے اور آبادی کے شدید نقصان کا خطرہ
96 لاکھ کا ٹھیکہ صرف فوٹو سیشن نکلا سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر نے بلدیہ اور ٹھیکیدار کے مبینہ گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا
شہریوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر بلدیاتی فنڈز کا فوری آڈٹ اور ہائی پروفائل انکوائری عمل میں لائی جائےگوجرخان (قمرشہزاد) بلدیہ گوجرخان کی نااہلی، غفلت اور کرپشن کی مبینہ داستانیں ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ مون سون کا سیزن سر پر ہے، مگر شہر کے مین نالے کی تباہ کن حالت زار کسی بھی وقت بڑے جانی و مالی سانحے کا موجب اور مقامی آبادی کے لیے ہولناک نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سابق سی او بلدیہ کے دور میں چند ماہ قبل اس مین نالے کی صفائی کے نام پر 96 لاکھ روپے کا جو بھاری ٹھیکہ دیا گیا تھا، وہ زمینی حقائق کے بجائے صرف مبینہ کاغذی کارروائیوں اور فوٹو سیشن تک محدود نکلا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے جاری کردہ نالے کی تازہ ترین ہولناک تصاویر نے صفائی کے تمام سرکاری دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی بارش نے بلدیہ کے بلند و بانگ دعووں کا جنازہ نکال دیا تھا، جب سٹی نالوں کے لیے مختص 60 لاکھ روپے کے فنڈز کے باوجود سروس روڈز، تجارتی مراکز اور گلی محلوں کے نالے ابل پڑے تھے جس سے بازار گلیاں محلے ندی کے مناظر پیش کر رہے تھے۔ وائرل تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مین نالا کچرے اور گاد سے اٹا پڑا ہے، جو بلدیہ حکام اور ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت اور عوامی ٹیکس کے پیسوں پر ڈاکے کی واضح تصویر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مون سون کی ہولناک بارشوں میں یہ نالا پورے شہر کو ڈبو سکتا ہے اور کسی بڑے حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری بلدیہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ شہریوں اور تاجر برادری نے اس شدید ترین سنگین صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری ہائی پروفائل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ بلدیہ گوجرخان کے تمام جاری فنڈز اور ٹھیکوں کا فوری فارنزک آڈٹ کروایا جائے، سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر کھو کھاتے میں ڈالنے والے لٹیروں کا کڑا احتساب کیا جائے اور عوام کے پیسے کا ضیاع کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔