Baaghi TV


چین کا بحرالکاہل میں آبدوز سے بیلسٹک میزائل تجربہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی تشویش

‎چین نے پیر کے روز بحرالکاہل میں ایک آبدوز سے بیلسٹک میزائل کا نایاب تجربہ کیا، جس کے بعد نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
‎چینی بحریہ کے ترجمان سینئر کیپٹن وانگ شوئیمینگ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی نیوی کی ایک آبدوز نے بحرالکاہل کے مخصوص بین الاقوامی سمندری علاقے کی جانب ایک فرضی وارہیڈ سے لیس اسٹریٹجک میزائل فائر کیا، جو مقررہ مقام پر کامیابی سے گرا۔
‎چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ سالانہ فوجی تربیتی پروگرام کا معمول کا حصہ تھا اور متعلقہ ممالک کو اس سے قبل آگاہ بھی کر دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے مطابق کی گئی اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔
‎بیجنگ نے میزائل کی قسم ظاہر نہیں کی، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق چین کے پاس JL-2 اور JL-3 نامی آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ ان میں سے JL-3 اتنی طویل مار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ جنوبی بحیرہ چین سے بھی امریکا کے بیشتر حصوں تک پہنچ سکتا ہے۔
‎چین کی بحریہ اس وقت ٹائپ 094 (جن کلاس) آبدوزوں کا بیڑا استعمال کر رہی ہے، جن کی تعداد چھ بتائی جاتی ہے۔ چین شاذ و نادر ہی اپنے میزائل تجربات کی تفصیلات جاری کرتا ہے، جبکہ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق JL-3 کا پہلا تجربہ 2018 میں کیا گیا تھا۔
‎ادھر نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ یہ میزائل ایسے سمندری علاقے میں داغا گیا جو جنوبی بحرالکاہل نیوکلیئر فری زون کا حصہ ہے، جس پر انہیں شدید تشویش ہے۔ آسٹریلیا نے بھی اس تجربے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

More posts