پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران وفاقی حکومت نے صوبے کو مجموعی طور پر 34 کھرب 88 ارب 67 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کیے، جن میں این ایف سی ایوارڈ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دیے گئے فنڈز شامل ہیں۔
اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2021 سے 2025 تک صوبے کو 31 کھرب 14 ارب 45 کروڑ روپے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں جبکہ 3 کھرب 74 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کے لیے فراہم کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران خیبرپختونخوا کو سب سے زیادہ فنڈز موصول ہوئے۔ اس سال وفاق نے مجموعی طور پر 10 کھرب 46 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کیے، جن میں 9 کھرب 34 ارب 57 کروڑ 90 لاکھ روپے این ایف سی ایوارڈ جبکہ 1 کھرب 12 ارب 22 کروڑ 96 لاکھ روپے وار آن ٹیرر فنڈز کی مد میں شامل تھے۔
ایوان میں اپوزیشن رکن احمد کریم کنڈی نے اعداد و شمار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیش کی گئی تفصیلات اور حکومتی وائٹ پیپر میں تقریباً 60 ارب روپے کا فرق موجود ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واضح کیا جائے آیا وائٹ پیپر درست ہے یا بجٹ دستاویزات۔
اس پر صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا مکمل جواب فراہم کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق صوبے کو موصول ہونے والی رقم اور صوبے کے واجب الادا حصے میں مختلف انتظامی اور مالی وجوہات کی بنا پر فرق آ سکتا ہے، جبکہ تمام تفصیلات صوبائی اور وفاقی سطح پر دستیاب ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ معاملے کا مزید جائزہ لینے اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ تمام اختلافات اور اعداد و شمار کی وضاحت کی جا سکے۔
پانچ سال میں خیبرپختونخوا کو وفاق سے 34 کھرب 88 ارب روپے ملے
