Baaghi TV

Blog

  • برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں جون 2026 شدید گرمی کے باعث غیرمعمولی طور پر گرم ثابت ہوا، جہاں ملک بھر میں اوسط درجۂ حرارت گزشتہ 142 برس کی تاریخ میں جون کا دوسرا گرم ترین ریکارڈ کیا گیا، انگلینڈ میں یہ اب تک کا گرم ترین جون رہا۔

    برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق جون 2026 ملک کی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شامل رہا، برطانیہ اور ویلز میں گزشتہ ماہ 1884 کے بعد سے دوسرا گرم ترین مہینہ رہا، سرے چارلووڈ میں درجہ حرارت 35.7 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ، 1976 میں جون کے مہینے میں درجہ حرارت 35.6 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی ادارے کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں شدید ہیٹ ویو کے دوران کئی علاقوں میں درجۂ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ رات کے وقت بھی درجۂ حرارت غیرمعمولی طور پر بلند رہا اور کئی مقامات پر “ٹراپیکل نائٹس” ریکارڈ کی گئیں، جہاں درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ایسے شدید گرمی کے واقعات کو زیادہ بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما کر رہی ہیں، جس کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور پانی کی فراہمی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق روسی افواج نے جمعرات کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شہر بھر میں تقریباً 3 درجن مقامات کو نقصان پہنچا، انہوں نے متاثرہ علاقوں کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    دوسری جانب کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے بتایا کہ حملوں میں 34 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایمبولینس اسٹیشن کے طبی عملے اور ڈرائیور بھی شامل ہیں ایک رہائشی عمارت کی پہلی سے چھٹی منزل تک کا حصہ براہِ راست میزائل حملے کے باعث منہدم ہوگیا، جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق شہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، وسطی شیوچینکو بلیوارڈ پر واقع ایک ہوٹل کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کئی علاقوں میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں حملوں کے دوران فضائی خطرے کے سائرن بجنے پر شہری بچوں، ضروری سامان اور اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ حملہ جون کے وسط کے بعد یوکرین پر روس کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئرلینڈ کا اپنا دورہ مختصر کر دیا۔ وہ یورپی یونین کی گردشی صدارت کے سلسلے میں ڈبلن گئے ہوئے تھے، یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے حملے کو ”کیف کے شہریوں کے لیے ایک اور ہولناک رات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پوری رات پناہ گاہوں میں گزارنا پڑی۔

    دریں اثنا روس کے شمال مغربی لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے سات یوکرینی ڈرونز مار گرائے دوسری جانب روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ اس کی اہلیہ زخمی ہوگئیں۔

  • افریقی ملک  میں ہم جنس پرستی پر  درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    افریقی ملک میں ہم جنس پرستی پر درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    مغربی افریقہ کے ملک نائجر میں ہم جنس پرستی کے خلاف ایک نیا اور سخت قانون نافذ کیے جانے کے بعد کم از کم 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، ایک عدالتی عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں کسٹمز اور پولیس فورس کے بڑے افسران کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں نائجر میں پہلے ہم جنس شادیوں پر تو پابندی تھی لیکن اس طرح کے تعلقات پر سزائیں مقرر نہیں تھیں، مگر اب نئے قانون کے تحت حکومت نے جیل لمبی قید کی سزائیں اور بھاری جرمانے نافذ کر دیے ہیں ہم جنس پرستوں کے خلاف یہ آپریشن ابھی جاری ہے اور اب ان جگہوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں ایک ہی جنس کے لوگ ساتھ رہتے ہیں، جیسے کہ فوج کی بیرکس اور کالجوں کے ہاسٹل۔

    نئے قانون کے سرکاری دستاویزات کے مطابق اگر کوئی شخص ہم جنس پرستی یا اپنی ہی جنس کے کسی فرد کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا قصوروار پایا گیا تو اسے 5 سے 10 سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑے گی اور ساتھ ہی 1 کروڑ سے 10کروڑ فرانک یعنی پاکستانی روپے کے حساب سے لاکھوں روپے کا بھاری جرمانہ بھی دینا ہوگا اگر کوئی لوگ آپس میں ہم جنس شادی کرتے ہوئے پکڑے گئے تو ان کو 10 سے 20 سال تک قید کی سخت سزا دی جا سکتی ہے اس کے علاوہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں چلانے والوں پر 5کروڑ سے50 کروڑ فرانک تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    رائٹرز نے اس پورے معاملے پر جب نائجر کی حکومت کے ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،واضح رہے کہ نائجر سے پہلے اس کے پڑوسی افریقی ممالک سینیگال اور برکینا فاسو بھی پچھلے کچھ مہینوں میں ہم جنس پرستی کے خلاف اسی طرح کے سخت قوانین پاس کر چکے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 73 سینٹ یا 1.02 فیصد کمی کے بعد 70.84 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 1.21 فیصد کمی کے بعد 67.75 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ تجارتی سیشن میں بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد گر گئی تھیں، جو گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، عالمی جہاز رانی کی سلامتی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی جیسے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کا سلسلہ جاری رہا اور آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق ممکنہ فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں عالمی توانائی کی مارکیٹ کا رخ متعین کریں گے۔

  • 
این ڈی ایم اے کا گلیشیئر پھٹنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

    
این ڈی ایم اے کا گلیشیئر پھٹنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

    ‎ملک بھر میں مون سون بارشوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ چند روز کے دوران ممکنہ قدرتی آفات کے حوالے سے اہم الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی اور بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھلنے کا عمل شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور ملبے کے ریلوں کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
    ‎این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے گلیشیئرز سے ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ادارے کے مطابق ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، کھرمنگ، استور، دیامر، اپر اور لوئر چترال، سوات اور دیگر گلیشیائی وادیوں میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور متوقع بارشوں کی وجہ سے ہسپر اور ہوپر نالوں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس سے دریا کنارے آباد علاقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
    ‎این ای او سی نے یکم سے 4 جولائی 2026 تک ملک کے مختلف حصوں میں مون سون ہواؤں اور مغربی ہواؤں کے زیر اثر پہاڑی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، سوات، دیر، چترال، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، تورغر اور کوہستان کے علاقوں میں فلیش فلڈ کا خطرہ موجود ہے۔
    ‎اسی طرح پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں میں بھی مقامی سطح پر اچانک سیلاب آ سکتا ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔
    ‎این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے دوران نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں، ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے اور سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ حفاظتی انتظامات، نکاسی آب، ہنگامی مشینری اور ریسکیو وسائل کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے جبکہ دریاؤں اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔
    ‎عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریا کناروں اور نشیبی علاقوں میں احتیاط برتیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور موسم، ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مستند معلومات کے لیے این ڈی ایم اے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور مقامی انتظامیہ کے جاری کردہ الرٹس پر توجہ دیں۔

  • 
اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں 5.3 شدت کا زلزلہ

    
اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں 5.3 شدت کا زلزلہ

    ‎وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پشاور اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بدھ کی رات 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
    ‎زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد کے علاوہ پشاور، کرم، مردان، بونیر، سوات، شانگلہ، چارسدہ اور لوئر دیر سمیت خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ کئی مقامات پر جھٹکے چند سیکنڈ تک جاری رہے، جس سے شہریوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔ بعض علاقوں میں لوگ احتیاطاً کھلے مقامات پر جمع ہو گئے اور صورتحال معمول پر آنے تک گھروں میں واپس جانے سے گریز کرتے رہے۔
    ‎زلزلہ پیما مرکز کے ترجمان کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.3 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 174 کلومیٹر تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں واقع تھا، جہاں سے اکثر گہرے زلزلے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے اثرات پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا اور اب تک کسی بڑے نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔
    ‎ریسکیو 1122 نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ زلزلے کے بعد غیر ضروری خوف و ہراس سے گریز کریں، افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ ادارے نے کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، عمارت کو نقصان یا زخمی ہونے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جائے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ہندوکش ریجن میں آنے والے گہرے زلزلوں کے جھٹکے پاکستان کے مختلف حصوں میں اکثر محسوس کیے جاتے ہیں، تاہم زیادہ گہرائی کی وجہ سے ان سے بڑے پیمانے پر تباہی کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود شہریوں کو قدرتی آفات سے متعلق حفاظتی تدابیر سے آگاہ رہنے اور ہنگامی حالات میں احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • 
کینسر کا مقابلہ کرنے والی شہزادی کیٹ نے 24 گھنٹوں میں برطانیہ کی 3 بلند ترین چوٹیاں سر کر لیں

    
کینسر کا مقابلہ کرنے والی شہزادی کیٹ نے 24 گھنٹوں میں برطانیہ کی 3 بلند ترین چوٹیاں سر کر لیں

    ‎لندن: کینسر سے صحت یابی کے مرحلے سے گزرنے والی ویلز کی شہزادی کیٹ میڈلٹن نے عزم، حوصلے اور ہمت کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے صرف 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں برطانیہ کی تین بلند ترین چوٹیاں سر کر کے "تھری پیکس چیلنج” کامیابی سے مکمل کر لیا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہزادی کیٹ نے یہ چیلنج کینسر کے مریضوں کی معاونت کرنے والی معروف فلاحی تنظیم رائل مارسڈن کے لیے فنڈز جمع کرنے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی غرض سے مکمل کیا۔ اس مہم کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ کینسر کی تشخیص زندگی کا اختتام نہیں بلکہ مناسب علاج، حوصلے اور اہل خانہ کی حمایت سے مریض دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔
    ‎شہزادی کیٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے بتایا کہ انہوں نے انگلینڈ کی بلند ترین چوٹی اسکافل پائیک، اسکاٹ لینڈ کی بین نیوس اور ویلز کی اسنوڈون کو 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سر کر کے یہ منفرد چیلنج مکمل کیا۔ اس کامیابی کو نہ صرف کھیلوں کے حلقوں بلکہ دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے بھی بے حد سراہا۔
    ‎چیلنج مکمل ہونے پر شہزادی کیٹ کا پرتپاک استقبال ان کے شوہر برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم، بچوں شہزادہ جارج، شہزادی شارلٹ اور شہزادہ لوئس نے کیا۔ اس موقع پر ان کے والدین، بھائی اور دیگر اہل خانہ بھی موجود تھے، جنہوں نے اس کامیابی پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔
    ‎کینسنگٹن پیلس کی جانب سے جاری بیان میں شہزادی کیٹ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد صرف ایک جسمانی چیلنج مکمل کرنا نہیں تھا بلکہ دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کو امید، حوصلہ اور اعتماد دینا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر انسان کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بھی متاثر کرتا ہے، لیکن بروقت علاج، مثبت سوچ اور مضبوط سپورٹ سسٹم کے ذریعے مریض دوبارہ اپنی زندگی کو بھرپور انداز میں گزار سکتے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ 44 سالہ شہزادی کیٹ میڈلٹن کو 2024 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ علاج کے دوران انہوں نے کیموتھراپی کا مرحلہ بھی مکمل کیا اور اب وہ بتدریج صحت یاب ہونے کے ساتھ اپنے سرکاری فرائض دوبارہ انجام دے رہی ہیں۔ ان کی حالیہ کامیابی کو لاکھوں کینسر مریضوں کے لیے امید، عزم اور حوصلے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
ایف بی آر نے 13 ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس وصول کر لیا، تاریخی کامیابی قرار

    
ایف بی آر نے 13 ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس وصول کر لیا، تاریخی کامیابی قرار

    ‎وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور گزشتہ ڈھائی برس کے دوران ملک کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں ٹیکس وصولیاں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، جو حکومتی اصلاحات، مؤثر پالیسیوں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔
    ‎اسلام آباد میں ایف بی آر کی قیادت اور فیلڈ فارمیشنز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے مقررہ ریونیو ہدف کامیابی سے حاصل کرنے پر ادارے کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کو 12.83 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، تاہم ادارے نے اس سے بڑھ کر 13 ٹریلین روپے سے زائد محصولات جمع کر کے ایک اہم سنگ میل عبور کیا۔
    ‎محمد اورنگزیب نے کہا کہ ماضی میں اتنے کم عرصے میں اس نوعیت کا ریونیو ہدف حاصل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے مالی سال کامیابی سے مکمل کیا اور مالی خسارے کو بھی کم ترین سطح پر رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس کامیابی کو ٹیم ورک، مسلسل اصلاحات اور ایف بی آر کے افسران و اہلکاروں کی انتھک محنت کا ثمر قرار دیا۔
    ‎وزیر خزانہ نے کہا کہ بہتر ٹیکس وصولیوں کے باعث نہ صرف حکومتی مالی پوزیشن مضبوط ہوئی بلکہ ملکی معیشت کی بنیادیں بھی مزید مستحکم ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے دوران ایف بی آر نے کاروباری برادری اور ٹیکس دہندگان کو مجموعی طور پر 599 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جبکہ مالی سال کے آخری روز ہی 13.5 ارب روپے کے ریکارڈ ریفنڈز ادا کیے گئے، تاکہ برآمد کنندگان اور صنعتوں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت جدید، شفاف اور عوام دوست ٹیکس نظام کے قیام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خودکار نظام کو بروئے کار لا کر ایف بی آر کو ایک جدید، مؤثر اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور عوام کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • 
وزیر مملکت مبارک زیب کے استقبال پر ہوائی فائرنگ، مقدمہ درج

    
وزیر مملکت مبارک زیب کے استقبال پر ہوائی فائرنگ، مقدمہ درج

    ‎باجوڑ سے رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے قبائلی امور مبارک زیب کے استقبال کے موقع پر مبینہ ہوائی فائرنگ کے واقعے کا پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے امتناعِ ہوائی فائرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں فضل امین سمیت دیگر نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر مملکت مبارک زیب کی آمد پر استقبال کے دوران بعض افراد نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ کی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تقریب میں موجود مقامی مشران نے فائرنگ کرنے والوں کو متعدد بار روکنے اور اس عمل سے باز رہنے کی تلقین کی، تاہم ملزمان نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات میں ہوائی فائرنگ نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ اس سے انسانی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر امتناعِ ہوائی فائرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
    ‎ایف آئی آر کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ ہوائی فائرنگ ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور قابلِ مواخذہ جرم ہے، جس کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
    ‎حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خوشی یا سیاسی اجتماعات کے دوران ہوائی فائرنگ سے مکمل اجتناب کریں، کیونکہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ بے گناہ افراد کی جان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 
18ویں ترمیم کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وفاقی تعاون پر اعتراض نہیں: مراد علی شاہ

    
18ویں ترمیم کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں، وفاقی تعاون پر اعتراض نہیں: مراد علی شاہ

    ‎کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات حاصل ہیں، ان کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور آئین کے مطابق انتظامی اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس ہی رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاق مختلف اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے کوئی وفاقی ادارہ قائم کرتا ہے تو سندھ حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم آئینی حدود اور صوبائی خودمختاری کا ہر صورت احترام ضروری ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئین پاکستان میں واضح طور پر درج ہے کہ انتظامی یا ایگزیکٹیو اختیارات صوبوں کے پاس ہیں، اس لیے ہر فیصلہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ ملک کے مفاد میں ہے، لیکن ایسا کوئی بھی نظام صوبوں کے آئینی اختیارات کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔
    ‎مراد علی شاہ نے بتایا کہ ملکی سکیورٹی صورتحال اور جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنانے کے لیے وفاق کے ساتھ ساتھ صوبے بھی اپنے انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی معلومات کے تبادلے، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی بہتری کے لیے کئی نئے انٹیلی جنس اور نگرانی کے ادارے قائم کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری طویل لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی بندش ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل لوڈشیڈنگ سے شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیاں اور صنعتی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ونڈ اور سولر توانائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن وفاقی سطح پر رکاوٹوں کے باعث صوبہ اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ ان کے مطابق سندھ حکومت قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ بجلی کی قلت پر قابو پایا جا سکے، تاہم وفاق کی جانب سے اجازت نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
    ‎مراد علی شاہ نے زور دیا کہ اگر صوبوں کو اپنی قدرتی وسائل اور متبادل توانائی کے ذرائع استعمال کرنے کی آزادی دی جائے تو نہ صرف توانائی کے بحران میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔