سرجن موجود الٹراساؤنڈ بند، زچہ بچہ و ایمرجنسی کے مریض نجی ہسپتالوں کے رحم و کرم پر ہیلتھ حکام کی ہٹ دھرمی پر کئی سوالات کھڑے ہو گے
کروڑوں کی مشینیں دھول چاٹنے لگیں سی ایم کے ہیلتھ ویژن کو مقامی نمائندوں کا تمانچہ لاکھوں کی تحصیل کا بڑا ہسپتال ایکسرے ٹیکنیشن کو ترس گیا
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان حکام بالا کی عدم توجہی، چشم پوشی اور مقامی منتخب نمائندوں کی مبینہ ہٹ دھرمی کے باعث سفید ہاتھی بن گیا۔ لاکھوں کی آبادی کے حامل اس علاقے کی سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی آسامیاں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ اور جدید مشینری بند پڑی دھول چاٹ رہی ہے۔ شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام، وزیر صحت اور سیکریٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بارہا اس دیرینہ مسئلے کی طرف متوجہ کیا گیا، مگر افسوس کہ اربابِ اختیار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ مقامی شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتحال کو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں سرجن ڈاکٹرز تو موجود ہیں، لیکن الٹراساؤنڈ کی سہولت نہ ہونے کے باعث معدے، گردے، پتے کی پتھری اور ہرنیا کے مریض رُل گئے ہیں۔ سب سے زیادہ ابتر صورتحال گائنی زچہ و بچہ کے شعبے کی ہے، جہاں غریب حاملہ خواتین کو بڑے الٹرساونڈ کے لیے نجی ہسپتالوں اور نجی تشخیصی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ نجی ہسپتالوں کی چاندی ہو چکی ہے اور وہ غریب مریضوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ شہریوں نے مقامی اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان نمائندوں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے میں ہیلتھ ریفارمز کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کے منتخب نمائندے اس اہم ترین مسئلے پر اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں۔ کیا یہ عوامی نمائندے وزیر اعلیٰ کے ویژن کو سبوتاژ کر رہے ہیں یا پھر غریب عوام کو ذلیل و خوار ہوتا دیکھنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے؟ طبی سہولیات کے اس فقدان نے لڑائی جھگڑوں کے کیسز میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) کی رپورٹ حاصل کرنے والے سائلین کو بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مہنگائی کے اس پپسے ہوئے دور میں نجی ہسپتالوں کے بھاری اخراجات اٹھانا غریب عوام کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔ گوجرخان کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے، ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی فوری تعیناتی کر کے الٹراساؤنڈ شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے تاکہ عوام کو نجی مافیا کے چنگل سے نجات مل سکے۔
Blog
-

گوجرخان،لاکھوں کی آبادی کی واحد علاج گاہ ریڈیالوجسٹ سے محروم
-

شدید گرمی حبس میں واپڈا کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ گوجرخان جہنم زار بن گیا
کمر توڑ بلز اور رنگ برنگے ٹیکسز کی بھرمار، بجلی غائب شہریوں کا حکومت سے مستعفی ہونے اور واپڈا کو چائنہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ
عوام کا خون پسینے کا پیسہ اور حکمرانوں کی عیاشیاں راتوں کا سکون غارت ہونے پر عوامی صبر کا پیمانہ لبریز، شہریوں میں شدید غم و غصہ
گوجرخان (قمرشہزاد) جھلساتی ہوئی شدید گرمی، سوا نیزے پر چمکتا ہوا سورج اور دم گھٹتا ہوا حبس ان انتہائی کٹھن حالات میں بھی محکمہ واپڈا نے عوام پر رحم کھانے کے بجائے فورسڈ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ دراز کر کے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ گوجرخان اور اس کے گردونواح میں دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اب ایک معمول بن چکی ہے، جس نے معصوم بچوں، بیمار بوڑھوں اور خواتین کو جیتے جی مصلوب کر دیا ہے۔ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، تو دوسری طرف محکمہ واپڈا نے بجلی کے بلوں میں رنگ برنگے ٹیکسز کی بھرمار، ظالمانہ سلیب سسٹم کے نفاذ اور دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے یونٹس فروخت کرنے کے باوجود صارفین کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس ابتر صورتحال پر گوجرخان کے شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپڈا نے ہمارا جینا محال کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ دن کو سکون ہے اور نہ رات کو چین۔ قدرت نے رات آرام کے لیے بنائی تھی، مگر واپڈا کی سفاکانہ لوڈشیڈنگ نے راتوں کا سکون بھی غارت کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بھاری بھرکم بلز اور ٹیکسز باقاعدگی سے وصول کرنے کے باوجود بجلی فراہم نہ کرنا اور ہر بار شارٹ فال کا راگ الاپنا سمجھ سے بالاتر اور سراسر دھوکہ دہی ہے۔ شہریوں نے واپڈا کی نااہلی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ سفید ہاتھی عوام کو بجلی فراہم نہیں کر سکتا تو اس محکمے کو فوری طور پر چائنہ کے سپرد، آؤٹ سورس کر دیا جائے تاکہ عوام کو اس ذہنی اور جسمانی عذاب سے نجات مل سکے۔حکمران طبقے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے گوجرخان کے غیور شہریوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کر سکتے، تو آپ کو عوام پر حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوں پر پلنے والے اور شاہانہ مراعات حاصل کرنے والے طبقے کو تڑپتی ہوئی عوام، بلکتے ہوئے معصوم بچوں اور بسترِ مرگ پر پڑے مریضوں کی تکلیف کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہے۔ شہریوں نے مقتدر حلقوں کو وارننگ دی ہے کہ اگر فورسڈ لوڈشیڈنگ کا یہ ظالمانہ سلسلہ فوری بند نہ کیا گیا تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکام بالا پر ہو گی۔ -

پاکستان میں سیاسی افرا تفری اور تقسیم کی فضا کے خاتمے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی
مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں سیاسی افرا تفری اور تقسیم کی فضا کے خاتمے کی ضرورت ہے،لسانی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تقسیم کےجھگڑے ختم کر کے اتحاد ویکجہتی سے مسائل کا حل ممکن ہے،الزام تراشی کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے،بلوچستان ،خیبر پختونخوا ،کراچی میں دہشتگردی کے واقعات قابل مذمت لیکن دہشت گردی اور بدامنی کی بنیادی وجوہات تلاش کرکے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،مرکزی مسلم لیگ ملک بھر میں صحافیوں کو اے آئی سمیت دیگر آئی ٹی کے کورسز کروا کر رہی ہے،خدمت کی سیاست ہمارا منشور اور اسی پر ہم سیاست کر رہے ہیں
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بہاولپور اور ملتان میں صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے الگ الگ پروگراموں سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب،ترجمان مرکزی مسلم لیگ پنجاب محمد اجمل،عبدالمقسط و دیگر بھی موجود تھے، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ افراتفری کے ماحول میںمرکزی مسلم لیگ اتحاد ویکجہتی کا پیغام لے کر آئی ہے،ہم چاہتے ہیں پاکستان امن کا گہوارہ بنے،آپسی جھگڑے ختم ہوں اور ملک معاشی طور پر ترقی کرے لیکن ہمارے حکمرانوں کی نااہلیوں کا خمیازہ پاکستانی قوم بھگت رہی ہے،صحت ،تعلیم اور دیگر سرکاری اداروں کی آؤٹ سورسنگ، پاکستان اسٹیل ملز کی بندش، پی آئی اے کی نجکاری اور صنعتوں کی زبوں حالی سب کے سامنے ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ بند صنعتوں کو بحال کیا جائے اور چھوٹے شہروں میں ٹیکس فری انڈسٹریل زونز قائم کیے جائیں،آج کسان بھی حکمران گردی کا شکار ہے، جب فصل آتی ہے تب اس کا ریٹ گر جاتا ہے، جب فصل چلی جاتی ہے ریٹ آسمانوں کو پہنچ جاتا ہے۔ 3500 روپے من میں کسان سے کہا گیا آپ سے گندم خریدیں گے، 3000، 3200، 3300، 3400 میں گندم خریدی گئی، آج وہ گندم 4000 روپے من میں مل رہی ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے اندر احتجاج چل رہا ہے، بلوچستان میں ،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں، اسی ہفتے کراچی میں بھی دہشتگردی کا واقعہ ہوا، ہم اسکی مذمت کرتے ہیں،لیکن صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا، دہشت گردی، لاقانونیت یا پھر یہ جو علاقوں میں مسائل کھڑے ہو رہے ہیں، ان مسائل کی جو روٹ کاز ہے اس کو تلاش کیا جائے اور پھر ان مسائل کے حل کے لیے حکومت عملی اقدامات کرے ،اس ضمن میں سب سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے، کشمیر کے مسائل کو حل کرنا، بلوچستان کے مسئلہ پرغور کرنا، اور خاص طور پر یہ جو دہشت گردی ہے اس دہشت گردی کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ صحافی عوام کی آواز ہیں،مرکزی مسلم لیگ صحافیوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دے رہی ہے، صحافیوں کے بچوں کے لیے بھی خصوصی کورسز شروع کیے جائیں گے ،مرکزی مسلم لیگ نے ملک بھر میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائے،مرکزی مسلم لیگ اس ملک کے لیے سیاست کرنا چاہتی ہے، ہم تقسیموں سے نکل کر سیاست کرنا چاہتے ہیں،پاکستان میں اتحاد ویکجہتی کا ماحول ہو گا تو ملک آگے بڑھے گا.
-

سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی قیمت خطے کو چکانا پڑے گی، اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاژ کرنے کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات صرف دو ممالک کے درمیان تنازع تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی قوانین، ریاستوں کے درمیان اعتماد، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور قومی معیشت سے براہ راست وابستہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کرے گا اور کسی بھی غیرقانونی اقدام کو قبول نہیں کرے گا۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، اس کی فراہمی روکنے یا آبی حقوق کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام پر دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حل کرنے کی راہ اپنائے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ریاستوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے، ممالک کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور اس عالمی نظام کو متاثر کرتی ہے جو قانون کی حکمرانی اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، تعاون اور خوشگوار ہمسایہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت ملکی و غیر ملکی آبی ماہرین اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے آبی وسائل کے مؤثر تحفظ، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے تنازعات کا حل صرف مذاکرات، اعتماد سازی اور عالمی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ -

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریاں، سوگ تقریبات کا شیڈول جاری
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور سوگ کی تقریبات کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران، قم اور مشہد سمیت مختلف شہروں میں نمازِ جنازہ اور تعزیتی اجتماعات کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ آخری رسومات کا سلسلہ عراق کے مقدس شہروں تک بھی جاری رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ کے چند افراد کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کے وفود، مذہبی شخصیات اور لاکھوں زائرین کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق بین الاقوامی مہمانوں کی آمد جمعہ سے شروع ہوگی، جبکہ 4 اور 5 جولائی کو تہران کے مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں مرکزی سوگ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس کے بعد 6 جولائی کو انقلاب روڈ، لشکری روڈ اور آزادی روڈ پر نمازِ جنازہ کا بڑا اجتماع متوقع ہے، جس میں ایرانی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں افراد شریک ہوں گے۔
زائرین کی سہولت کے لیے تہران اور گرد و نواح میں ہنگامی انتظامات کیے گئے ہیں۔ رہائش کے لیے 1,500 اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی ہاسٹلز کو مختص کیا گیا ہے، جبکہ مضافاتی علاقوں میں مزید 800 سے زائد تعلیمی اداروں کو عارضی رہائش گاہوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
تہران کے بعد سوگ کی تقریبات قم میں منعقد ہوں گی، جہاں زائرین کی رہائش کے لیے سیکڑوں تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف، کربلا، کاظمین اور بغداد لے جانے کا پروگرام بھی جاری کیا گیا ہے، جہاں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق عراق سے واپسی پر 9 جولائی کو مشہد میں الوداعی تقریب منعقد ہوگی، جس کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو حضرت امام رضاؑ کے روضہ مبارک کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ -

قیدیوں کے فرار کا مقدمہ درج، 5 پولیس اہلکار بھی نامزد
راولپنڈی: کہوٹہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدیوں کے فلمی انداز میں فرار ہونے کے واقعے کا مقدمہ تھانہ سہالہ میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں قیدیوں کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی پر مامور سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق قیدیوں کو لے جانے والی وین میں مجموعی طور پر 34 قیدی سوار تھے۔ راستے میں 14 قیدی مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، جبکہ 10 قیدی تاحال مفرور ہیں اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران بعض قیدیوں نے شور شرابا اور جھگڑا شروع کر دیا۔ جب پولیس اہلکار انہیں روکنے کے لیے وین کا دروازہ کھولنے لگے تو ملزمان نے ان کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک دیں اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
تھانہ سہالہ میں درج مقدمے میں پولیس آرڈر 2002ء کی دفعہ 155-C اور 155-D بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق قیدیوں کی حراست اور سیکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ -

ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر، کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ
اسلام آباد: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے، جبکہ مختلف شہروں میں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کئی علاقوں میں گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سرگودھا میں گرمی کی شدت 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے، جبکہ سکھر میں 52 ڈگری اور فیصل آباد میں 51 ڈگری سینٹی گریڈ محسوس کی گئی۔ اسی طرح دادو اور پشاور میں بھی گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں گرمی کی شدت 49 ڈگری، سیالکوٹ میں 48 ڈگری اور ملتان میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کراچی میں سمندری ہواؤں کے باعث نسبتاً کم شدت ریکارڈ کی گئی، جہاں محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران شہری غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق دیگر طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔ -

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی تنہائی کی قید سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کی قید کے خلاف دائر درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواستوں پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیے کہ عدالت سب سے پہلے یہ طے کرے گی کہ آیا یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں، اس کے بعد ہی کیس کی مزید کارروائی آگے بڑھے گی۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ درخواستیں قانون کے مطابق قابلِ سماعت نہیں، لہٰذا انہیں مسترد کیا جائے۔
دوسری جانب درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، اس لیے عدالت اس معاملے کا جائزہ لے اور متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کا پابند بنائے۔
تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔ -

اقراء کنول اور اریب کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع
لاہور: سیشن کورٹ لاہور نے آن لائن جوا ایپ کی مبینہ تشہیر اور اس کی ترغیب دینے کے مقدمے میں معروف ٹک ٹاکرز اقراء کنول اور اریب کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر اقراء کنول اور اریب عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ریلیف دیا جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ این سی سی آئی اے نے دونوں ٹک ٹاکرز کے خلاف مبینہ طور پر ایک آن لائن جوا ایپ کی تشہیر کرنے اور عوام کو اس کے استعمال کی ترغیب دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اقراء کنول اور اریب نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الگ الگ عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد انہیں عارضی ریلیف دیتے ہوئے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔
اب کیس کی آئندہ سماعت 7 جولائی کو ہوگی، جہاں عدالت مقدمے کے ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کرے گی۔ -

تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا رائے سازی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی جانے والی گفتگو اور بیانیے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے،پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا سیاسی سرگرمیوں کا سب سے مؤثر میدان بن کر سامنے آیا، مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی حکمت عملی کے مطابق اس پلیٹ فارم کو استعمال کیا، اپنے کارکنوں کو منظم کیا، بیانیے تشکیل دیے اور مخالفین پر تنقید کی، اس ماحول میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو خاصی توجہ حاصل رہی لیکن پھر وقت بدلا، حالات بدلے،عمران خان آئین و قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے اور پھراسکے بعد پاکستان میں جو کردار تحریک انصاف نے نبھایاوہ کسی ملک دشمنی سے کم نہ تھا.
نو مئی کا سانحہ وہ حقیقت ہے جس نے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ قوم کو دکھایا،عسکری اداروں، شہداء کی یادگاروں پر حملے اور پھر مسلسل اداروں کے خلاف الزام تراشیاں،پروپیگنڈے،غرضیکہ پی ٹی آئی جس حد تک جا سکتی تھی گئی اور یہی وجہ بنی کہ آج سوشل میڈیا سے پی ٹی آئی کا وجود غائب ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی کا نام لیوا سوشل میڈیا پر سوائے چند ضمیر فروشوں کے کوئی نہیں رہا،عمران اڈیالہ میں ،پی ٹی آئی رہنما ایوانوں میں،جب پی ٹی آئی رہنما ہی عمران خان سے منہ موڑ گئے تو عوام کب تلک ساتھ دے، انصاف کے نام پر تحریک انصاف نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ ایک ایسی زندہ مثال ہے جو تاریخ میں لکھی جائے گی کہ نام نہادسیاسی جماعت گوگی و پنکی کے ہاتھوں یرغمال بنی اور نہ صرف ملک میں مالی کرپشن کی بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیا اور ملکی استحکام،ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں بھی پیچھے نہ رہی.
ایسے میں عوام ایک طرف پی ٹی آئی سے لاتعلق ہو چکی تو وہیں گزشتہ برس کا معرکہ حق، ،افغان رجیم کی جانب سے پاکستان میں فتنۃ الخوارج کے ذریعے دہشتگردی، پاکستان کا افغان رجیم کے ٹکڑوں پر پلنے والے فتںہ الخوارج کیخلاف آپریشن،امریکہ ایران جنگ نے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، ایسے حالات میں سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کی قیادت کے حق میں اظہارِ یکجہتی کے مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، بھارت کا آپریشن سندور حقیقت میں بھارت کے لئے "آپریشن سندور” بن گیا،چند روز قبل بھارت نے اپنے معرکہ حق میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعلان کیا،افغان رجیم کی سازشوں ،دہشتگردی کا جس بہادری کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جواب دیا وہ سب کے سامنے ہے، امریکا ایران جنگ ہوئی تو دنیا دیکھ رہی تھی کہ انجام کیا ہو گا لیکن انجام پاکستان بنا رہا تھا ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں و کاوشوں سے نہ صرف جنگ بندی ہوئی بلکہ معاہدہ بھی طے پا گیا،بھارت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا رہا لیکن کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا لیکن یہاں پاکستان دنیا کے سامنے امن کا علمبردار بن کر سامنے آیا اور امریکا ایران جنگ کا واحد ثالث بن کر خطے میں امن قائم کیا،
یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر نگاہ دوڑائیں تو ہر طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام پیغامات ،تصاویریں ،عوامی جذبات دیکھنے کوملتے،35 پنکچرز کے بیانئے کی طرح عمران خان کے واحد مقبول شخصیت ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے،عمران خان نام کی کوئی چیز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتی ،میرا اللہ جس کو چاہے عزت دے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ دنیا بھر میں گونج رہا ہے،آج پاکستانی معاشرہ حقیقت کو دیکھ اور تسلیم کر رہا ہے، معرکہ حق کی فتح قوم کے سامنے ہے،قوم کبھی ریاست کو کمزور کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ ملک کا دفاع کرنے والوں کو سلیوٹ کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج پاکستانی قوم کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں،ایکس،فیس بک، ٹک ٹاک غرضیکہ جس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جائیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا چمکتا دمکتا نام ہر طرف نظر آئے گا، سوشل میڈیا کی طاقت آج مسلح افواج کے لئے ہے اور پاکستانی عوام جہاں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے،سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی پاکستانی قوم کا بچہ بچہ اسی جذبے کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے،پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست انجام کو پہنچ چکی اور پاکستانی قوم ایک بار پھر کلمہ کے نام پرحاصل کئے گئے وطن عزیز پاکستان اور پاکستانیت کی طرف لوٹ چکی، نفرت اور تفریق کو ترک کر رہی ہے اور شہرت کا نام نہاد بیانیہ دفنانے میں مصروف ہے۔

