وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پشاور اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بدھ کی رات 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد کے علاوہ پشاور، کرم، مردان، بونیر، سوات، شانگلہ، چارسدہ اور لوئر دیر سمیت خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ کئی مقامات پر جھٹکے چند سیکنڈ تک جاری رہے، جس سے شہریوں میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔ بعض علاقوں میں لوگ احتیاطاً کھلے مقامات پر جمع ہو گئے اور صورتحال معمول پر آنے تک گھروں میں واپس جانے سے گریز کرتے رہے۔
زلزلہ پیما مرکز کے ترجمان کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.3 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 174 کلومیٹر تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں واقع تھا، جہاں سے اکثر گہرے زلزلے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے اثرات پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا اور اب تک کسی بڑے نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔
ریسکیو 1122 نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ زلزلے کے بعد غیر ضروری خوف و ہراس سے گریز کریں، افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ ادارے نے کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال، عمارت کو نقصان یا زخمی ہونے کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق ہندوکش ریجن میں آنے والے گہرے زلزلوں کے جھٹکے پاکستان کے مختلف حصوں میں اکثر محسوس کیے جاتے ہیں، تاہم زیادہ گہرائی کی وجہ سے ان سے بڑے پیمانے پر تباہی کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود شہریوں کو قدرتی آفات سے متعلق حفاظتی تدابیر سے آگاہ رہنے اور ہنگامی حالات میں احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں 5.3 شدت کا زلزلہ
