لندن: کینسر سے صحت یابی کے مرحلے سے گزرنے والی ویلز کی شہزادی کیٹ میڈلٹن نے عزم، حوصلے اور ہمت کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے صرف 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں برطانیہ کی تین بلند ترین چوٹیاں سر کر کے "تھری پیکس چیلنج” کامیابی سے مکمل کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہزادی کیٹ نے یہ چیلنج کینسر کے مریضوں کی معاونت کرنے والی معروف فلاحی تنظیم رائل مارسڈن کے لیے فنڈز جمع کرنے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی غرض سے مکمل کیا۔ اس مہم کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ کینسر کی تشخیص زندگی کا اختتام نہیں بلکہ مناسب علاج، حوصلے اور اہل خانہ کی حمایت سے مریض دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔
شہزادی کیٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے بتایا کہ انہوں نے انگلینڈ کی بلند ترین چوٹی اسکافل پائیک، اسکاٹ لینڈ کی بین نیوس اور ویلز کی اسنوڈون کو 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں سر کر کے یہ منفرد چیلنج مکمل کیا۔ اس کامیابی کو نہ صرف کھیلوں کے حلقوں بلکہ دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے بھی بے حد سراہا۔
چیلنج مکمل ہونے پر شہزادی کیٹ کا پرتپاک استقبال ان کے شوہر برطانوی ولی عہد شہزادہ ولیم، بچوں شہزادہ جارج، شہزادی شارلٹ اور شہزادہ لوئس نے کیا۔ اس موقع پر ان کے والدین، بھائی اور دیگر اہل خانہ بھی موجود تھے، جنہوں نے اس کامیابی پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔
کینسنگٹن پیلس کی جانب سے جاری بیان میں شہزادی کیٹ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد صرف ایک جسمانی چیلنج مکمل کرنا نہیں تھا بلکہ دنیا بھر میں کینسر کے مریضوں کو امید، حوصلہ اور اعتماد دینا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر انسان کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بھی متاثر کرتا ہے، لیکن بروقت علاج، مثبت سوچ اور مضبوط سپورٹ سسٹم کے ذریعے مریض دوبارہ اپنی زندگی کو بھرپور انداز میں گزار سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 44 سالہ شہزادی کیٹ میڈلٹن کو 2024 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ علاج کے دوران انہوں نے کیموتھراپی کا مرحلہ بھی مکمل کیا اور اب وہ بتدریج صحت یاب ہونے کے ساتھ اپنے سرکاری فرائض دوبارہ انجام دے رہی ہیں۔ ان کی حالیہ کامیابی کو لاکھوں کینسر مریضوں کے لیے امید، عزم اور حوصلے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
کینسر کا مقابلہ کرنے والی شہزادی کیٹ نے 24 گھنٹوں میں برطانیہ کی 3 بلند ترین چوٹیاں سر کر لیں
