ملک بھر میں مون سون بارشوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ چند روز کے دوران ممکنہ قدرتی آفات کے حوالے سے اہم الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی اور بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھلنے کا عمل شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور ملبے کے ریلوں کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے گلیشیئرز سے ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ادارے کے مطابق ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، کھرمنگ، استور، دیامر، اپر اور لوئر چترال، سوات اور دیگر گلیشیائی وادیوں میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور متوقع بارشوں کی وجہ سے ہسپر اور ہوپر نالوں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس سے دریا کنارے آباد علاقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
این ای او سی نے یکم سے 4 جولائی 2026 تک ملک کے مختلف حصوں میں مون سون ہواؤں اور مغربی ہواؤں کے زیر اثر پہاڑی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، سوات، دیر، چترال، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، تورغر اور کوہستان کے علاقوں میں فلیش فلڈ کا خطرہ موجود ہے۔
اسی طرح پنجاب کے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین کے نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں میں بھی مقامی سطح پر اچانک سیلاب آ سکتا ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے دوران نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں، ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے اور سڑکوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ حفاظتی انتظامات، نکاسی آب، ہنگامی مشینری اور ریسکیو وسائل کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے جبکہ دریاؤں اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دریا کناروں اور نشیبی علاقوں میں احتیاط برتیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور موسم، ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق مستند معلومات کے لیے این ڈی ایم اے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور مقامی انتظامیہ کے جاری کردہ الرٹس پر توجہ دیں۔
این ڈی ایم اے کا گلیشیئر پھٹنے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
