Baaghi TV


خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، 7 افراد جاں بحق، 19 زخمی

‎خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں، تیز آندھی اور فلش فلڈ نے مختلف اضلاع میں شدید تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہو گئے۔ شدید بارشوں سے گھروں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
‎صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 مرد، ایک خاتون اور 4 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 7 مرد، ایک خاتون اور 11 بچے شامل ہیں۔ مختلف حادثات بارش، آندھی، مکانوں کے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث پیش آئے۔
‎پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فلش فلڈ سے مجموعی طور پر 38 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 36 مکانات جزوی جبکہ 2 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق خیبر، دیر زیریں، دیر بالائی، مردان، شانگلہ، باجوڑ اور لوئر چترال ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
‎دوسری جانب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 3 جولائی تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مزید موسلا دھار بارش، گرج چمک، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان موجود ہے۔ محکمہ کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اچانک سیلاب آنے کا خدشہ برقرار ہے۔
‎محکمہ موسمیات نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان، صوابی، خیبر، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت متعدد اضلاع میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
‎پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران ندی نالوں، دریا کناروں اور کمزور عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو 1122 اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

More posts