وینزویلا میں ایک ہفتہ قبل آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2 ہزار 295 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہیں۔ حکام کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی بے گھر ہیں اور ملبے تلے لاپتہ افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
24 جون کو شمالی اور وسطی وینزویلا میں صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے تھے، جنہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق اب تک 11 ہزار 267 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ مرکزی زلزلوں کے بعد اب تک 782 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ ان کی شدت اور تعداد میں بتدریج کمی آ رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بڑے آفٹر شاک کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
جارج روڈریگیز نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ زلزلے کے خطرات میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ ان کے مطابق امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مسلسل ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
منگل کے روز ملبے سے ایک کمسن بچی کو زندہ نکال لیا گیا، جس کے بعد زندہ بچائے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مزید زندہ افراد کے ملنے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں، اس کے باوجود ریسکیو اہلکار اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکومت اب ہنگامی امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طویل مدتی بحالی، متاثرہ خاندانوں کی رہائش، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور انسانی امداد کی فراہمی پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ متعدد علاقوں میں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جبکہ ہزاروں خاندان عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
وینزویلا زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 2,295 ہو گئی، امدادی کارروائیاں دوسرے ہفتے میں داخل
