Baaghi TV

Category: بلاگ

  • امریکہ، وینزویلہ ،مسلم دنیا کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ، وینزویلہ ،مسلم دنیا کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ اور وینزویلہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت، مفاد اور وسائل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی دعوے اکثر ثانوی بن کر رہ جاتے ہیں۔ وینزویلہ کے معاملے نے نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ پوری دنیا، بالخصوص مسلم دنیا کے لیے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ وینزویلہ کے وسیع تیل ذخائر، اندرونی سیاسی انتشار اور معاشی کمزوری نے بیرونی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کیا۔ جب ریاستیں داخلی طور پر کمزور ہو جائیں تو بیرونی طاقتیں جمہوریت، انسانی حقوق یا سلامتی کے نام پر فیصلے مسلط کرنے میں دیر نہیں لگاتیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستی خودمختاری محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ مسلم دنیا کے لیے اس بحران میں واضح سبق ہے کہ خودمختاری کا تحفظ صرف عسکری طاقتیں ہی نہیں کرتیں بلکہ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور مؤثر سفارت کاری بھی ضروری ہے۔ قدرتی وسائل اگر شفاف نظام اور قومی اتفاق کے بغیر ہوں تو وہ نعمت کے بجائے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی ادارے، خصوصاً اقوام متحدہ، ایسے مواقع پر مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ دنیا ایک ایسے نیو ورلڈ آرڈر کی طرف بڑھ چکی ہے جہاں اصول کم اور طاقت کا توازن زیادہ اہم ہے۔ یک قطبی نظام بتدریج ختم ہو رہا ہے اور عالمی سیاست اب معیشت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے گرد گھوم رہی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا وینزویلہ جیسا ماڈل مستقبل میں کسی اور ملک پر آزمایا جا سکتا ہے؟ زمینی حقائق اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔ جہاں سیاسی انتشار، معاشی کمزوری اور اسٹریٹیجک اہمیت اکٹھی ہو، وہاں بیرونی دباؤ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا اس بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھیں، داخلی اتحاد کو مضبوط بنائیں اور علاقائی و عالمی سطح پر خوددار اور متوازن پالیسی اپنائیں۔ بصورت دیگر تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہیں، وقت ان کے بارے میں فیصلے خود کر لیتا ہے۔

  • اب نہیں تو کب؟ تحریر:رقیہ غزل

    اب نہیں تو کب؟ تحریر:رقیہ غزل

    دو روز پہلے آسمان روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ شہر آتش بازی کی بارش میں نہائے ہوئے تھے، پٹاخوں کی گونج، مسکراتے چہرے اور مبارک بادوں کے شور میں ایک اور سال رخصت ہوا اور ہم نئے سال میں داخل ہو گئے۔ ہر طرف یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ جیسے قوم واقعی خوشحالی کے سنگِ میل پر کھڑی ہو، تمام دکھ پیچھے رہ گئے ہوں اور آگے صرف امید ہی امید ہو۔ دعوے بھی پورے اعتماد سے کیے جا رہے تھے کہ تاریخی آتش بازی میں ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے مگر جب بارہ بجنے کا شور تھما، فضا ساکت ہوئی اور یکم جنوری کا سورج طلوع ہوا تو دل نے ایک ایسا سوال کیا جس کا جواب کسی تقریر، کسی دعوے اور کسی آتش بازی میں موجود نہیں تھا: کیا واقعی ہم نئے سال میں داخل ہوئے ہیں یا صرف پرانی محرومیوں پر نیا کیلنڈر ٹانگ دیا گیا ہے؟

    یہ سوال کسی ماضی کی کہانی نہیں بلکہ اسی لمحے کی تصویر ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں سے آج بھی یہی آواز آ رہی ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر سب کچھ واقعی درست سمت میں ہے تو پھر عام آدمی کی آنکھ میں سکون کیوں نہیں؟ اگر خوشحالی دستک دے چکی ہے تو گھروں کے چولھے اب بھی ٹھنڈے کیوں ہیں؟ اور اگر ترقی ہو رہی ہے تو اس کی آواز صرف پٹاخوں اور تشہیری نعروں میں ہی کیوں سنائی دیتی ہے؟

    پورا سال عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، حالات نازک ہیں، قربانی ناگزیر ہے اور کمر کسنا وقت کی ضرورت ہے مگر جیسے ہی نیا سال شروع ہوتا ہے، قربانی کا بوجھ وہیں کا وہیں رہتا ہے اور مراعات کا پلڑا اچانک بھاری ہو جاتا ہے۔ کفایت شعاری عوام کے لیے اور فیاضی اختیار کے ایوانوں میں،اسی ترتیب کو اب نظم و ضبط اور معاشی حکمتِ عملی کا نام دیا جا رہا ہے۔ عوام کے حصے میں صرف قصے آتے ہیں، وہ قصے جن میں ہر روز ایک نئی ہوش ربا داستان شامل ہو جاتی ہے، گویا ہم جدید دور کی ’الف لیلیٰ‘ کا حصہ بن چکے ہوں۔دنیا نے ہماری آتش بازی کے رنگ نہیں دیکھنے، اسے وہی نظر آتا ہے جو عالمی اداروں کی رپورٹیں دکھا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کی بدعنوانیوں میں اضافہ ہوا ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم گہری ہو رہی ہے اور غربت مزید پھیل رہی ہے۔ جس معاشی استحکام کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ وقتی ہے اور اس کا بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔ یوں بیانیے اور حقیقت کے درمیان فاصلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ترقی کے دعوے ہیں اور دوسری طرف عالمی اداروں کی وارننگ۔ آئینہ کچھ اور دکھا رہا ہے اور زبان کچھ اور بول رہی ہے، اور اس تضاد کی شدت عوام کی روزمرہ زندگی میں پوری طرح عیاں ہے۔

    اسی تضاد کی سب سے نمایاں مثال قومی اثاثوں کی نجکاری ہے اور اس ضمن میں سب سے حساس اور دل دہلا دینے والا نام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ہے۔ پی آئی اے محض ایک ادارہ نہیں بلکہ قومی تاریخ، وقار اور شناخت کی علامت رہی ہے۔ برسوں کی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور ناقص فیصلوں کے ذریعے اسے دانستہ کمزور کیا گیا اور اب اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے کہ اس کا واحد حل نجکاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو علاج سے محروم رکھا جائے اور پھر اسے فروخت کے لیے پیش کر دیا جائے تو کیا اسے اصلاحات کہا جا سکتا ہے؟پی آئی اے کے پاس آج بھی قیمتی زمینیں، اسٹریٹجک روٹس، تربیت یافتہ عملہ اور خطے میں ایک پہچان موجود ہے مگر نجکاری کے بیانیے میں یہ سب ثانوی بنا دیا گیا ہے۔ بولیوں کی شفافیت پر سوالات، کم قیمت لگنے کا تاثر اور قومی مفاد کی مبہم تشریح اس خدشے کو بڑھاتی ہے کہ یہ قومی اثاثہ بھی اونے پونے داموں منتقل کر دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فیصلوں میں نقصان ہمیشہ عوام کا ہوا اور فائدہ چند مخصوص گروہوں کو پہنچا۔

    اسی معاشی فضا میں یہ سوال بھی شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر پاکستان واقعی ترقی کی راہ پر ہے تو کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ کر واپس کیوں جا رہی ہیں؟ غیر ملکی سرمایہ کاری سکڑ کیوں رہی ہے؟ اور کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار کیوں ہے؟ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں استحکام اور اعتماد ہو۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جن نوجوانوں نے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا انھیں بھی اب روکا جا رہا ہے۔ نہ یہاں روزگار میسر ہے اور نہ باہر جانے کی راہ آسان۔ ایک پوری نسل درمیان میں لٹک چکی ہے۔دوسری طرف سڑکوں پر غریب لوگوں کو ہیلمٹ اور ٹریفک چالانوں کے ہزاروں روپے کے بوجھ نے
    نچوڑ کر رکھ دیا ہے مگر کسی کو ترس نہیں آتا۔ ناجائز ٹیکسوں کے دباؤ میں پہلے ہی پسے عوام پر اب کوڑا ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا ہے۔ صحت کا نظام وینٹی لیٹر پر ہے، مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کو دیوار سے لگا چکی ہے، اور آٹا، دال، دوائیں اور ایندھن آج بھی خواب بنتے جا رہے ہیں۔

    ایسے میں کروڑوں روپے کی آتش بازی اور نمائشی تقریبات خوشی کا تاثر نہیں دیتیں بلکہ بے حسی کا اعلان محسوس ہوتی ہیں۔ یہ سب کسی قدرتی آفت یا ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ کا حاصل ہے ،وہ سوچ جس میں ریاست وسائل سے نہیں بلکہ نیت سے خالی دکھائی دیتی ہے۔

    تشہیری منصوبوں پر ساری توانائیاں صرف کر رہی ہے تاکہ ایک بہتر تصویر پیش کی جا سکے، یقینا منصوبے اچھے ہیں مگر تب جب عوام خوشحال ہوںجبکہ یہاں توگزشتہ برس یہ حال رہاکہ فیصل آبادکی کپڑا مارکیٹوںمیں شدید مندی رہی اور یہی حال ہر جگہ رہا بلکہ اسکولوں اور کالجوں میں داخلوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اسی بنیاد پر اب تعلیمی نجکاری کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔مسئلہ صرف نجکاری نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جو ہر چیز کو محض منافع کے ترازو میں تولتی ہے اور مسائل کا حل نہیں بلکہ جان چھڑاؤ اور وقت ٹپاؤ جیسی حکمت عملیوںپر عمل پیرا ہونا فخر سمجھتی ہے۔

    پٹاخوں کی روشنی میں سب سے واضح منظر یہ ہے کہ ریاستی وسائل خاموشی سے نیلام ہو رہے ہیں اور عوام کو تماشائی بنا کر مصروف رکھا گیا ہے۔’تجھے ہونا تھا فرشتوں سے بھی افضل،مگر ہائے انسان! تو درندوں سے بھی بدتر نکلا‘مرگِ احساس واقعی بدترین مرگ ہے، اور ہم اسی عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ نئے سال کے آغاز میں جو سوال پیدا ہوئے تھے، وہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں جو نہ سوچتا ہو، نہ خواب دیکھتا ہو، نہ حق اور باطل میں فرق کرتا ہو، اور خاموشی اختیار کر کے نہ صرف اپنے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر دے۔اگر ملک کو واقعی آگے بڑھنا ہے تو یہ سفر نعروں، چراغاں اور آتش بازی سے نہیں بلکہ شعور، سوال اور جواب دہی سے طے ہو گا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم صرف کرنے والوں سے نہیں بلکہ برداشت کرنے والوں سے بھی طاقت پاتا ہے۔ اور آخرکار یہی حقیقت بچ رہتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے اور اب بھی اپنے حقوق نہیں پہچانو گے تو کب پہچانو گے ؟

  • عالمی تھانیدار اور وینزویلا.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    عالمی تھانیدار اور وینزویلا.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    پوری دنیا کے کان ایک بار پھر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ اس دنیا میں کہیں کوئی بڑی چوری یا ڈاکا پڑا ہے۔ بلکہ عالمی تھانیدار نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ اب ملکوں کے نقشے اسی کے حکم سے بنیں اور بگڑیں گے۔ ملکوں کو مرضی سے چلانے کے لیے تو طاقت ور تھانیدار پہلے ہی بہت معروف تھے۔مگر تازہ اعلان کچھ زیادہ ہی بے باک ہے کہ بھیا! ہم نے وینزویلا پر فوجی حملہ کرکے اس کے صدر کو بیوی سمیت گرفتار کر رکھا ہے۔ تھانیدار کا ایسا اعلان اس دنیا میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اب کوئی یہ بھی نہ سمجھ بیٹھے کہ وینزویلا کا صدر "مادورو” کوئی نیک آدم زاد ہے یا کوئی فرشتہ صفت حکمران۔ آمریت پسند، سیاسی حریفوں سے بدترین سلوک کئی ایک تلخ حقائق ہیں۔ مگر تھانیدار صاحب! آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ کسی بھی ملک گھسیں اور صدر کو گرفتار کرکے ساتھ لے آئیں۔ مادورو کے بارے جان کر اگر آپ کو بھی انصاف یہی عالمی معیار لگ رہا ہے تو برخوردار اپنے صدر کو تیار رکھیں، اگلی باری آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔ اس معیار کے مطابق تو آدھی دنیا کو اب تک واشنگٹن کے حوالات میں ہونا چاہیے تھا۔

    واشنگٹن کے تھانیدار کا کہنا ہے کہ یہ مادورو منشیات فروش اور اسمگلر ہے۔ اور بات بھی ٹھیک ہے۔ یہ نا سمجھ بیٹھے گا کہ واشنگٹن کی نیت نیک ہے۔ زیادہ دور نہیں اپنے پڑوسی افغانستان کو دیکھ لیجیے، جس کےلیے یہاں سے ہی نعرہ لگا تھا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔ مگر نتائج آپ کے سامنے ہیں،راکھ، لاشیں، اور وہی پرانے سوداگر۔
    لیکن واشنگٹن کے عزائم صاف ہیں، وہ نیک نہیں، رسید بک ساتھ لاتا ہے۔ "اپنا کام بنتا، بھاڑ میں جائے (باقی) جنتا”۔

    لیکن وینزویلا کا جرم کیا ہے آخر؟؟ جب آپ کے پاس تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہوں۔ مگر آپ واشنگٹن کے دائرہ اثر سے باہر نکلنے کی ضد کریں تو یہ جرم ہے، اور ایسا سنگین جرم ہے کہ جس کی واشنگٹن تھانے میں ذرہ برابر بھی معافی نہیں۔

    کئی برسوں سے وینزویلا نے ضد پال رکھی تھی۔ یہ وہی ضد ہے جو کسی دور میں شاویز نے پالی تھی۔2002 میں اسے فوج کے ذریعے ہٹایا گیا، مگر عوامی حمایت نے اسے 48 گھنٹوں کے دوران ہی واپس لا بیٹھایا۔
    تب سے یہ سلسلہ جاری ہے، کبھی پابندیاں، کبھی رجیم چینج، کبھی اپوزیشن کو ہیرو بنا کر پیش کرنا۔ مگر مادورو نے بھی سوشلسٹ نعرے، امریکا مخالف بیانات اور اس سے بھی بڑا جرم کیوبا اور ایران سے دوستیاں بڑھانے کی کوششیں جاری رکھی۔وہ بھی پرانے دوستوں کے نقش قدم پر چل رہا تھا ،مگر وہ آمرانہ اقتدار کے لطف میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ۔۔۔

    گزشتہ انتخابات میں مادورو کی شکست کے ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر وہ قابض رہا۔ لیکن اب عالمی تھانیدار کا فرمان آیا ہے کہ "منصفانہ انتقالِ اقتدار تک امریکہ وینزویلا کو چلائے گا”۔ وہ بھی زبردستی قابض تھا اور آپ بھی، تو دونوں میں فرق کیا رہا؟ مگر آپ نے اگر ایسا ہی کرنا ہے تو یہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور آزادی و خودمختاری کی باتیں صرف فرضی اور کتابی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے تک تو آپ امن کے داعی بنے پھرتے تھے۔ امن کا نوبل انعام لینا چاہتے تھے۔ ہر جگہ جا جا کر جنگ بندی کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ اب خود کیوں جنگ پر اتر آئے؟۔ ان جنگ بندی کی کوششوں کو پھر صرف ڈھونگ ہی سمجھا جائے۔

  • ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں شور بہت ہے، مگر سوچ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ زبانیں متحرک ہیں لیکن ضمیر خاموش، انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں مگر خود احتسابی کا آئینہ گرد آلود پڑا ہے۔ یہ سوال اب محض فلسفیانہ نہیں رہا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ سوال ہماری اجتماعی بقا سے جڑ چکا ہے۔

    آج کا انسان معلومات سے بھرا ہوا مگر شعور سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسکرین پر لمحہ بھر میں رائے قائم کر لی جاتی ہے، بغیر یہ سمجھے کہ ہر سچ آدھا نہیں ہوتا اور ہر جھوٹ مکمل نہیں۔ ہم نے سوچنے کی محنت چھوڑ دی ہے اور مان لینے کو عقل مندی سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں زوال کی پہلی سیڑھی اترتی ہیں۔

    ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم مسائل کا شکار ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے مسائل کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ مہنگائی، ناانصافی، تعصب، بے روزگاری،یہ سب اب خبروں کا حصہ نہیں بلکہ معمول کی گفتگو بن چکے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ ظلم پر چونکنا چھوڑ دے تو سمجھ لیجیے کہ وہاں ظلم مضبوط ہو چکا ہے۔ہم اکثر قیادت کو کوستے ہیں، نظام کو گالیاں دیتے ہیں، مگر یہ سوال پوچھنے سے کتراتے ہیں کہ کیا ہم خود اس نظام کا حصہ نہیں؟ ایک رشوت لیتا ہے، دوسرا خاموش رہتا ہے؛ ایک جھوٹ بولتا ہے، دوسرا اسے شیئر کر دیتا ہے۔ یوں برائی اکیلی نہیں رہتی، اسے اجتماعی تحفظ مل جاتا ہے۔

    تعلیم کا حال یہ ہے کہ ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں مگر دانش کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے تعلیم کو روزگار کا زینہ تو بنا لیا، مگر کردار سازی کا ذریعہ نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ کہ ہنر مند تو پیدا ہو رہے ہیں، مگر دیانت دار انسان ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں اور کردار نصاب سے نہیں، تربیت سے بنتا ہے۔مذہب، جو ہمیں جوڑنے آیا تھا، ہم نے اسے تقسیم کا ہتھیار بنا لیا۔ ہر فرقہ، ہر گروہ، ہر جماعت خود کو حق کا ٹھیکیدار سمجھنے لگی ہے۔ ہم نے خدا کو بھی اپنی انا کے دفاع کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ اصل دینداری تو عاجزی سکھاتی ہے، نفرت نہیں۔

    سنجیدہ قلم کار بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہے۔ وہ جنگ جو انسان اپنے ضمیر سے لڑتا ہے۔ اگر یہ جنگ ہار جائے تو بڑے سے بڑا انقلاب بھی کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ تبدیلی نعروں سے نہیں، نیت سے آتی ہے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اصلاح کا آغاز اوپر سے نہیں، خود سے ہوتا ہے۔ جب ایک فرد سچ بولنے کا حوصلہ کرے، انصاف پر سمجھوتہ نہ کرے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے تو وہی فرد معاشرے میں خاموش انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہے۔ یہ وقت دوسروں کو بدلنے کے خواب دیکھنے کا نہیں، خود کو بدلنے کی جرات کا ہے۔ اگر ہم نے آج سوچنا نہ سیکھا تو کل سوچنے کا حق بھی کھو دیں گے۔

    آخر میں سوال وہی ہے:
    ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ
    ہم کہاں کھڑا ہونا چاہتے ہیں؟

    فیصلہ ہمیں کرنا ہے،بطور فرد، اور بطور قوم۔

  • یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    قومی سلامتی اور یوٹیوب کی سیاست یہ کیسا المیہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی سیاست کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے کی روایت پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جماعت اور اس کے ہم نوا چند یوٹیوبرز نے ایک کالم کو بنیاد بنا کر وہ بحث چھیڑ دی ہے جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ریاستی مفاد کے بھی سراسر خلاف ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ یہاں قومی سلامتی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ریاست کی بقا کا ضامن ہے۔ مگر افسوس، ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے مائیک نے ہر اس شخص کو دانشور بنا دیا ہے جس کے پاس کیمرہ، انٹرنیٹ اور کچھ منٹ کی جذباتی تقریر موجود ہو۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور ذمہ دار ملک میں قومی سلامتی کے اداروں کو اس طرح سرِبازار موضوعِ تماشا نہیں بنایا جاتا۔ امریکہ ہو یا یورپ، ترکی ہو یا چین وہاں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے مگر اداروں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ وہاں یہ شعور موجود ہے کہ ادارے کمزور ہوں تو ریاست بھی کمزور ہو جاتی ہے۔پاکستان میں مگر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے یہی حلقے انہی اداروں کو سلام پیش کرتے نہیں تھکتے تھے، آج اقتدار ہاتھ سے نکلتے ہی وہی ادارے تنقید کا آسان ہدف بن گئے۔ یہ تضاد محض سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ کسی کالم یا تجزیے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا، پھر اس پر یوٹیوب عدالتیں لگانا، دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سوال اٹھائے جائیں یا نہیں،

    سوال یہ ہے کہ کس نیت، کس فورم اور کس حد تک؟ قومی سلامتی کے معاملات جذبات نہیں، ہوش مانگتے ہیں۔ یہ لائکس، سبسکرائبرز اور ویوز کا ایندھن نہیں ہوتے۔ جو لوگ آج غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں، وہ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایسے بیانیے دشمن قوتیں کتنی تیزی سے استعمال کرتی ہیں۔ ریاست اور سیاست میں فرق نہ کرنا ہی ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ سیاست حکومت کے لیے ہوتی ہے، مگر سلامتی ریاست کے لیے۔ جو قوم اس فرق کو مٹا دیتی ہے، تاریخ اس کے ساتھ نرمی نہیں برتتی۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلاف کو سیاسی دائرے میں رکھا جائے اور قومی اداروں کو سیاسی اکھاڑے سے باہر رکھا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی اداروں کی تضحیک جمہوریت نہیں، خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستان کو اس وقت شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن کندھوں پر اس ملک کی سلامتی کا بوجھ ہے، انہیں کمزور کرنے کا مطلب اپنے ہی مستقبل کو غیر محفوظ کرنا ہے۔
    بقول شاعر
    یہ خاک و خوں کا سفر یوں ہی رائیگاں نہ گیا
    وطن کی آن پر جب بھی آنچ آئی، ہم نے جان دی

  • مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا سفر،تحریر:پروفیسر سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا سفر،تحریر:پروفیسر سیف اللہ قصوری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحات محض تقاریب نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ تھی، جہاں ماضی کی جدوجہد، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی سمت ایک ہی فکری دھارے میں بہتی دکھائی دی۔ یہ اجتماع محض عہدوں کی تقسیم نہیں تھا بلکہ ایک نظریے کی تجدید، ایک تحریک کی یاد دہانی اور ایک قومی عزم کی تجدیدِ نو تھا۔

    اس موقع پر دل بے اختیار اللہ رب العزت کے شکر سے لبریز ہو گیا کہ اس نے ہمیں ایک روشن اور باوقار ماضی عطا کیا، ایک بامقصد اور متحرک حال سے نوازا اور ہم اس سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ایک ایماندار، خوددار اور نظریاتی مستقبل بھی عطا فرمائے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو برصغیر کے مسلمانوں کی حالتِ زار 1906ء میں بھی کچھ مختلف نہ تھی، جب نواب سلیم اللہ خان کے گھر ڈھاکہ میں مسلم قیادت اکٹھی ہوئی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔

    قرآنِ حکیم کا یہ فرمان اُس دور کی پوری تصویر پیش کرتا ہے "یاد کرو جب تم تعداد میں کم اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے، تمہیں ہر وقت اس بات کا خوف رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک لیں گے، پھر اللہ نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری مدد فرمائی”۔یہی کیفیت اُس وقت مسلمانوں کی تھی اور افسوس کہ آج امتِ مسلمہ مجموعی طور پر ایک مرتبہ پھر اسی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے وقتی مفادات کے بجائے نظریے کو تھاما، اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہوئی۔ہم آج 2025 کو رخصت اور 2026 کا استقبال کرنے جا رہے ہیں۔ پورے یقین، ایمان اور مشاہدے کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ 2025 میں مرکزی مسلم لیگ کو جو عزت، پذیرائی اور عوامی قبولیت ملی، وہ کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، خاموش اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ یہ سفر عزتوں، فتوحات اور غلبۂ حق کا سفر ہے، جو ان شاء اللہ رکے گا نہیں بلکہ مزید وسعت اختیار کرے گا۔

    میرا ایمان گواہی دیتا ہے کہ اس خطے میں مرکزی مسلم لیگ محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اللہ کی مشیت کے ایک مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے سیاست کو کبھی اقتدار کی ہوس، ذاتی مفادات یا وقتی فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ہم نے دہائیوں تک خاموشی سے دعوت کا کام کیا، خدمت کی، مظلوموں کا سہارا بنے، سیلابوں، زلزلوں اور دیگر آفات میں بلاامتیاز عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ پینتیس برس تک یہ جدوجہد بغیر کسی صلے اور شہرت کے جاری رہی، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ یہ تحریک ملکی سیاست کے مرکز میں لا کھڑی ہوئی۔

    پاکستان کے گزشتہ 78برسوں کی تاریخ کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کو جتنے زخم اندرونی حکمران طبقات نے دیے، شاید بیرونی دشمن بھی اتنے کاری وار نہ کر سکے۔ اقتدار کی ہوس، خاندانی سیاست، ذاتی مفادات اور بدعنوانی نے قومی مفادات کو مسلسل پامال کیا، حتیٰ کہ ملک دولخت ہو گیا۔ یہ سب کچھ نظریاتی انحراف کا نتیجہ تھا۔ایسے نازک موڑ پر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ ایک ایسی قیادت کو ابھارا جائے جو لالچ، حرص اور ذاتی مفادات سے پاک ہو، جو نظریاتی قوت سے مالا مال ہو۔ مرکزی مسلم لیگ اسی نظریاتی سیاست کی علامت ہے۔ ہم کسی فرد، کسی خاندان یا کسی مخصوص گروہ کی سیاست نہیں کرتے۔ ہم ایک نظریے کی دعوت دیتے ہیں، اور وہ نظریہ ہے: لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ محمدٌ رسولُ اللّٰہ ﷺ۔ یہی اسلام کا جوہر ہے اور یہی نظریۂ پاکستان کی اساس ہے۔

    پاکستان کو آج مزید جماعتوں، مزید نعروں یا مزید چہروں کی ضرورت نہیں، بلکہ نظریاتی استقامت اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ یہی نظریہ سب کے لیے ہے۔ اس ملک میں بسنے والے تمام مذاہب، مسالک اور برادریوں کے افراد اس نظریاتی ریاست میں برابر کے شہری ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحاد، رواداری، ہم آہنگی اور ملی وحدت کو فروغ دیا ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست سے خود کو دور رکھا ہے۔1980ء کی دہائی میں، جب ایک طرف جہادِ افغانستان کا آغاز ہوا تو دوسری جانب فرقہ واریت کا زہر بھی معاشرے میں پھیلایا گیا۔ مسلمان، مسلمان کے خلاف صف آراء ہو گیا۔ اس نازک اور خطرناک دور میں مرکزی مسلم لیگ اور اس سے وابستہ قیادت نے دفاعِ پاکستان کونسل اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے اتحادِ امت کا عملی نمونہ پیش کیا اور خونریزی و انتشار کے آگے مضبوط بند باندھا۔

    آج ہم پورے اعتماد سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مرکزی مسلم لیگ کی سیاست آگے بڑھے گی، ملک میں فرقہ واریت، نفرت اور انتشار میں کمی آئے گی، اور ایک نظریے پر متحد قوم کی تشکیل کا عمل تیز ہو گا۔ پاکستان کو آج ایک بار پھر علامہ اقبالؒ کے تصورِ خودی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی اشد ضرورت ہے، جو تمام شہریوں کو ایک قوم کی لڑی میں پرو سکے۔مرکزی مسلم لیگ کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ ہم نے کبھی عوام کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ ہم نے لوٹ مار کے بجائے وسائل جمع کیے اور انہیں مصیبت زدہ عوام تک پہنچایا۔ یہی خدمت، یہی اخوت اور یہی مؤاخات پاکستان کی نشاۃِ ثانیہ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ہم سودی نظام کے بجائے اسلامی اخوت، زکوٰۃ و عشر، اور باہمی تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر قوم ایک دوسرے کا سہارا بن جائے تو مہینوں نہیں بلکہ چند برسوں میں پاکستان خود کفیل، مستحکم اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

    برصغیر کی تقسیم کے وقت انگریز اور ہندو گٹھ جوڑ نے پاکستان کے ساتھ تاریخی ناانصافی کی۔ مسلم اکثریتی ریاستوں کو غاصبانہ اور منافقانہ طریقوں سے ہتھیا لیا گیا۔ بھارت نے کبھی پاکستان کی آئینی حیثیت کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ جوناگڑھ، مناوادر، حیدرآباد دکن، گورداسپور اور دیگر علاقوں پر قبضہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ہم پرامن ہیں، مگر اپنے حق سے دستبردار نہیں۔ یہ مطالبات ہم دنیا کے ہر فورم پر دلیل، وقار اور امن کے ساتھ پیش کرتے رہیں گے۔یہی نظریاتی استقامت، یہی اخلاقی سیاست اور یہی خدمتِ خلق وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر منزلِ مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔

  • تحفظ آئین یا تحفظ اقتدار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحفظ آئین یا تحفظ اقتدار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحفظِ آئین یا تحفظِ اقتدار؟ ایک بنیادی تضاد پاکستان میں آج کل “تحفظِ آئین” ایک مقبول نعرہ بن چکا ہے۔ جلسوں میں، بیانات میں اور ٹاک شوز میں آئین کی بالادستی کا شور ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت سے موجود ہے کہ جو لوگ آج آئین کے محافظ بنے کھڑے ہیں، وہ خود ماضی میں اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رہے تو اُس وقت انہیں آئین کیوں یاد نہ آیا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آئین کو سب سے زیادہ نقصان انہی ادوار میں پہنچا جب سیاسی قوتیں اقتدار میں تھیں۔ آئین کبھی ذاتی مفاد کے لیے موڑا گیا، کبھی خاموشی اختیار کر لی گئی، اور کبھی “مصلحت” کے نام پر اس کی خلاف ورزی کو نظرانداز کیا گیا۔ اقتدار کے مزے لیتے ہوئے آئینی اصولوں پر سمجھوتے معمول بنے رہے۔ جب وسائل، اختیارات اور طاقت میسر تھی تو آئین محض ایک دستاویز بن کر رہ گیا؛ مگر جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے گیا، وہی آئین یکدم مقدس کتاب بن گیا۔ یہ طرزِ عمل دراصل اصول پسندی نہیں بلکہ سیاسی سہولت کاری ہے، جس میں آئین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے—کبھی ڈھال کے طور پر اور کبھی تلوار کے طور پر۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آج کون آئین کی بات کر رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کون اقتدار میں رہتے ہوئے بھی آئین پر کھڑا رہا؟

    اگر ماضی میں آئین کو مضبوط کیا جاتا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھا جاتا اور ذاتی اقتدار کو آئینی تقاضوں پر قربان کیا جاتا، تو آج “تحفظِ آئین” کے نعرے کی شاید اتنی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ قوم کو اب نعروں سے نہیں، کردار سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ آئین کا اصل محافظ وہ ہے جو اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، ہر حال میں آئین کی بالادستی تسلیم کرے۔ بصورتِ دیگر یہ سوالیہ نشان مزید گہرا ہوتا جائے گا کہ آئین واقعی محترم ہے یا صرف اقتدار چھن جانے کے بعد یاد آنے والی ایک سیاسی دستاویز۔

  • یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    تاریخ کے کچھ دن محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے، وہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، فکری اساس اور نظریاتی شناخت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ 30 دسمبر بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں نے ڈھاکہ کی سرزمین پر آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر غلامی کی تاریکیوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔ یہی شمع وقت کے طویل سفر کے بعد پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی، اور آج اسی تسلسل کی فکری و نظریاتی وارث کے طور پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ قوم کے سامنے موجود ہے۔مرکزی مسلم لیگ نے 30 دسمبر کو اپنے یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جس فکری ولولے، نظریاتی شعور اور تنظیمی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، وہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نظریۂ پاکستان محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کرنے والی زندہ حقیقت ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ اس یقینِ محکم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ جس طرح آل انڈیا مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں منتشر مسلمانوں کو ایک قیادت، ایک نصب العین اور ایک پرچم تلے جمع کیا، اسی طرح آج مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں قوم کو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر متحد کرنے، انتشار و افتراق کی سیاست کے خاتمے اور احیائے نظریۂ پاکستان کی عملی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر یومِ تاسیس کے موقع پر ملک کے طول و عرض میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر پروقار تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں یوتھ لیگ، ویمن لیگ، مرکزی کسان لیگ، ملی لیبر، شعبہ اساتذہ اور دیگر ذیلی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اجتماعات فکری بیداری اور نظریاتی تجدید کے مراکز تھے۔یومِ تاسیس کی تقریبات سے مرکزی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاست کو ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اشرافی تسلط سے پاک کر کے خدمت، اصول اور نظریے کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔
    سیف اللہ قصوری، حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، قاری یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک، شفیق الرحمان وڑائچ، انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم، محمد سرور چوہدری، حمیدالحسن، فیصل ندیم، یاور آفتاب اور دیگر رہنماؤں کے خطابات نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی امید، نیا حوصلہ اور نئی فکری توانائی پیدا کی۔ ان مواقع پر انٹرا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نمائندوں سے حلف بھی لیا گیا، جو جمہوری روایات سے وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔

    یومِ تاسیس کی تقریبات کی کوریج کے لیے مرکزی ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کی زیر نگرانی سنٹرل میڈیا سیل نے ایک منظم، ہمہ گیر اور مؤثر مہم چلائی، جس نے الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھرپور اثر چھوڑا،ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ طہٰ منیب کی قیادت میں مرکزی صدر خالد مسعود سندھو، حافظ طلحہ سعید، قاری یعقوب شیخ، عفت سعید، عطاء اللہ غلزئی اور دیگر رہنماؤں کے خصوصی پوڈکاسٹس ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے، جنہوں نے نوجوان نسل میں نظریاتی شعور کو تازہ کیا،ولولہ انگیز ترانے، فکری گرافکس، بامعنی پوسٹرز، مرکزی صدر کا خصوصی کالم اور سینئر صحافیوں و معروف اینکر پرسنز کے پیغامات نے یومِ تاسیس کو ایک تحریک بنا دیا۔

    ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ مرکزی پروگرام میں پیش کی گئی قرارداد درحقیقت قوم کے ضمیر کی آواز تھی۔ اس قرارداد میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان مسلمانوں کی شعوری، نظریاتی اور قربانیوں سے مزین جدوجہد کا ثمر ہے،مرکزی مسلم لیگ خود کو آل انڈیا مسلم لیگ کی فکری، سیاسی اور اخلاقی وارث سمجھتی ہے،شخصیات نہیں، اصول ہماری سیاست کا محور ہوں گے،کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کی غیر مشروط حمایت کی جائے گی،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،سود سے پاک معیشت، عوامی ریلیف اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا عملی ایجنڈا اپنایا جائے گا،یہ قرارداد اس عزم کا اظہار تھی کہ پاکستان کو ایک باوقار، مضبوط اور ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر استوار اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ نے تحریکِ بقائے پاکستان کے آغاز کا اعلان کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جماعت محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ قوم کی فکری تشکیلِ نو، نظریاتی بیداری اور جدید چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ جدوجہد کا عزم رکھتی ہے۔خطے کے بدلتے حالات، بالخصوص بنگلہ دیش کی صورتحال، اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، اور جن بنیادوں پر یہ ملک وجود میں آیا تھا، وہی بنیادیں آج بھی قوم کو جوڑنے کی قوت رکھتی ہیں۔ یومِ تاسیس مرکزی مسلم لیگ مستقبل کا وعدہ ہے، یہ وعدہ کہ پاکستان کو نظریاتی کمزوری، معاشی غلامی اور فکری انتشار سے نکال کر ایک خوددار، خودمختار اور بااصول ریاست بنایا جائے گا۔یہی وہ خواب ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو دیکھا گیا تھا، اور یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے مرکزی مسلم لیگ آج بھی میدانِ عمل میں موجود ہے۔

  • ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام نے انسان کو توہمات، جادو، نجوم اور غیب فروشی سے سختی سے روکا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی واضح اور دو ٹوک ہدایت ہے کہ نجومیوں، کاہنوں اور غیب بتانے والوں کے پاس نہ جایا کرو۔ احادیثِ مبارکہ میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے گویا اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے انحراف کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، جو ایک اسلامی نظریے پر قائم ہونے والی ریاست ہے، یہاں آج یہ مناظر عام ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں باقاعدہ نجومی بٹھائے جاتے ہیں، اینکر حضرات سنجیدہ چہروں کے ساتھ آنے والے سال، سیاسی مستقبل، حکومتوں کی عمر اور حتیٰ کہ قومی سلامتی تک کے سوالات ان سے پوچھتے ہیں۔ یہ سب کچھ براہِ راست اس عقیدے کی نفی ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآنِ کریم واضح اعلان کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم کسی کے پاس نہیں سوائے اللہ کے۔ اس کے باوجود ہم خود کو مسلمان کہلوانے کے باوجود ان لوگوں کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں جو ستاروں، تاریخِ پیدائش یا فرضی حساب کتاب کے ذریعے مستقبل کا سودا بیچتے ہیں۔ یہ صرف دینی گمراہی نہیں بلکہ فکری دیوالیہ پن بھی ہے۔ زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس روش کو عام آدمی نہیں بلکہ بڑے سیاستدان، نام نہاد دانشور اور میڈیا کے بااثر چہرے فروغ دے رہے ہیں۔ جب قوم کی رہنمائی کرنے والے خود اس قسم کی لغزشوں میں مبتلا ہوں تو عام آدمی سے کیا شکوہ کیا جائے؟

    یوں لگتا ہے کہ ہم نے تدبر، محنت، منصوبہ بندی اور اللہ پر توکل کی جگہ قسمت کے فال ناموں اور نجومیوں کے تجزیوں کو اپنا لیا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مستقبل کی فکر اللہ پر چھوڑ کر حال کو بہتر بنایا جائے، اعمال درست کیے جائیں، انصاف، دیانت اور محنت کو شعار بنایا جائے۔ مگر ہم ایک ایسی سمت جا رہے ہیں جہاں ناکامی کا الزام کبھی ستاروں پر ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی کسی نجومی کے “کہے” پر قوم کی امیدیں باندھ دی جاتی ہیں۔ یہ روش نہ صرف گناہ ہے بلکہ قوموں کی تباہی کی علامت بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے، علما حق بات کہنے میں مصلحت کا شکار نہ ہوں، اور عوام خود بھی یہ طے کریں کہ وہ غیب کے سوداگر بنیں گے یا اللہ پر کامل یقین رکھنے والی قوم۔ سوال یہ نہیں کہ نجومی کیا کہتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو کب سنجیدگی سے لیں گے؟

  • آل انڈیا مسلم لیگ   سے  مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    آل انڈیا مسلم لیگ سے مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    30 دسمبر کا دن برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کو وہ سیاسی شعور عطا کیا جس نے بالآخر قیامِ پاکستان کی صورت ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا مقصدصرف اقتدار کا حصول نہیں تھا بلکہ اپنی شناخت، وقار کو زندہ رکھنا تھا جو اسلامی تہذیب ، دینی ثقافت اور اسلاف کے تمدن سے مستعار تھا۔

    مسلم لیگ کی قیادت نے اس دور میں جس بصیرت، قربانی اور اصول پسندی کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہماری سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے دلیل، قانون اور اخلاقی قوت کے ذریعے ایک ناممکن کو ممکن بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کا نام آج بھی نظریۂ پاکستان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    افسوس کے ساتھ ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد رفتہ رفتہ سیاست نظریے سے ہٹ کر مفادات، گروہ بندیوں اور وقتی مصلحتوں کی نذر ہوتی چلی گئی۔ مسلم لیگ کا وہ فکرجو قوم کو ایک نصب العین پر جمع کرتا تھا، پس منظر میں چلا گیا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظریات دب تو سکتے ہیں، ختم نہیں ہوتےوہ نئے ناموں اور نئی صفوں کے ساتھ دوبارہ ابھرتے ہیں۔

    اسی تناظر میں مرکزی مسلم لیگ کو دیکھا جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ جماعت مسلم لیگ کے اسی اصل نظریاتی ورثے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلامی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے۔وہی تصور جو مسلم لیگ کی بنیاد میں شامل تھا۔آج اگر ہم مرکزی مسلم لیگ کو دیکھیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جماعت مسلم لیگ کی اصل روح یعنی مسلمانوں کی اجتماعی خدمت، اتحاد، خودداری اور قومی بقاکو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو محض اقتدار کی دوڑ نہیں بلکہ خدمتِ خلق، عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کا ذریعہ سمجھتی ہے، جو کہ مسلم لیگ کے ابتدائی نظریے سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ نے قدرتی آفات، سیلابوں، زلزلوں اور سماجی بحرانوں میں جس منظم، بے لوث اور فوری کردار کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیں مسلم لیگ کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب قیادت عوام کے درمیان رہ کر ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی تھی۔ یہ عملی خدمت دراصل اسی فکری تسلسل کا اظہار ہے جس کی بنیاد مسلم لیگ نے رکھی تھی۔

    سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی، اصلاح اور خدمت ہے۔ اگر مسلم لیگ نے ہمیں آزادی کا راستہ دکھایا، تو مرکزی مسلم لیگ اسی آزادی کو بامقصد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ایک ایسی ریاست کی تشکیل جہاں سیاست اخلاقیات سے جڑی ہو اور قیادت عوام کی خادم ہو۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ناموں سے آگے بڑھ کر نظریات کو دیکھیں۔ مسلم لیگ ایک نظریہ تھی، اور مرکزی مسلم لیگ اسی نظریے کی عملی تصویرہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے غلامی کے دور میں قوم کو آزادی دلائی، اور دوسری آزادی کے بعد قوم کو خوددار، باخبر اور متحد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
    ہمیں نیا یا پرانا پاکستان نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہیے، 78 برسوں میں پاکستان میں جو مسائل سامنے آئے، وہ صرف اور صرف ہمارے ذاتی مقاصد اور ملک کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے چلانے کی وجہ سے آئے ،مسائل کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد کریں ،ہم ان مقاصد کی طرف آ جائیں جس مقصد کے لیے یہ پاکستان بنایا گیا تھا تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو، ہم طبقاتی اور لسانی کشمکش سے باہر نکل کر نظریے کی بنا پر ایک قوم بن کر اس ملک کو سنوار سکتے ہیں ۔ ایک قوم بن کر وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لیے کام کریں، تاکہ یہاں سے غربت ،افراتفری ،دہشت گردی ختم ہو،پاکستان امن کا گہوارہ بنے،معاشی طور پر مضبوط ہو اور آگے بڑھتے ہوئےعالم اسلام کی قیادت کرے.
    یومِ تاسیس مسلم لیگ کے موقع پر اگر ہم اس فکری ربط کو سمجھ لیں، تو یہی شعور ہماری سیاست کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے—وہی سمت جس کا خواب علامہ اقبال اورقائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔