انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ جاوید ٹھہریں جنہوں نے اتحاد، یکجہتی اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حالات کے طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم نے ایک مثالی گروہ کی صفت بیان کرتے ہوئے "بنیان مرصوص” کی اصطلاح استعمال کی ہے جس کا مفہوم ایسی عمارت یا دیوار ہے جس کی اینٹوں کو پگھلے ہوئے سیسے سے جوڑ دیا گیا ہو جسے کوئی دراڑ کمزور نہ کر سکے اور کوئی بیرونی قوت ڈھا نہ سکے۔ آج کے پرفتن دور میں جہاں امتِ مسلمہ اور بالخصوص ہمارا معاشرہ لسانی، صوبائی اور فروعی اختلافات کی زد میں ہے "بنیان مرصوص” بننا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اتحاد کی حقیقت اور فلسفہ
بنیان مرصوص صرف ایک استعارہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کی پائیداری اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دے رہی ہو اسی طرح ایک زندہ قوم کا ہر فرد دوسرے فرد کا محافظ اور مددگار ہوتا ہے۔ جب افراد اپنی انا، ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات کو پس پشت ڈال کر ایک بڑے مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت بن جاتے ہیں جس کے سامنے وقت کے بڑے بڑے فرعون سرنگوں ہو جاتے ہیں۔
اسلامی تاریخ میں ہجرتِ مدینہ کے بعد "مواخاتِ مدینہ” بنیان مرصوص کی پہلی اور سب سے روشن مثال تھی۔ انصار اور مہاجرین نے جس طرح ایک دوسرے کے وجود کو قبول کیا اور اپنے وسائل بانٹے اس نے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جس نے صدیوں تک دنیا کی رہنمائی کی۔
آج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے ان میں فکری انتشار سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دشمن ہمیں حصوں میں تقسیم کر کے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ کہیں ہمیں رنگ و نسل کے نام پر لڑایا جاتا ہے تو کہیں جغرافیائی حدود کے نام پر نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا دعویٰ تبھی سچا ثابت ہو سکتا ہے جب ہم ان تمام مصنوعی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتی ہیں۔
ایک صحافی اور قلم کار کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں معاشرے میں پھیلے ان تضادات کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کروں۔ ہماری تحریریں معاشرے کو جوڑنے کا سبب ہونی چاہئیں نہ کہ توڑنے کا۔ جب ہم ایک مقصد ایک پرچم اور ایک نظریے کے تحت متحد ہوتے ہیں تو کفر کی باطل قوتیں ہمیں نقصان پہنچانے سے قاصر رہتی ہیں۔
سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے لیے صرف عددی برتری کافی نہیں بلکہ کردار کی پختگی اور مقصد سے لگن ضروری ہے۔ اس کے لیے درج ذیل تین بنیادیں ناگزیر ہیں:
نظریاتی ہم آہنگی: ہمارے درمیان اتحاد کی بنیاد مادی فائدہ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی اور نظریاتی مقصد ہونا چاہیے۔
ایثار و قربانی: بنیان مرصوص کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ ہمیں بھی ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر اپنے مفاد کی قربانی دینی ہوگی۔
اندرونی استحکام: عمارت تبھی گرتی ہے جب اس کے اندر دراڑیں پڑ جائیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود انتشار پسند عناصر پر نظر رکھنی ہوگی اور باہمی مکالمے کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔
میرے وطن خاص طور پر بلوچستان کی مٹی نے ہمیشہ بہادری اور وفاداری کی داستانیں رقم کی ہیں۔ یہاں کی ثقافت، زبانیں اور روایات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن دکھ سکھ ایک ہیں۔ جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں یا ترقی کے خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری طاقت صرف اتحاد میں ہے۔ اگر ہم بکھر گئے تو ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے اور اگر جڑ گئے تو وہ چٹان بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر لہریں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔
”ہم بنیان مرصوص ہیں” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہےاپنے آپ سے اپنے وطن سے اور اپنے خالق سے۔ یہ عہد ہے کہ ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے، ہم اپنی صفوں میں اتحاد کا سیسہ پلائیں گے اور کسی بھی بیرونی سازش کو اپنی یکجہتی میں دراڑ نہیں ڈالنے دیں گے۔
آئیے! آج ہم یہ عزم کریں کہ ہم اپنی تحریروں، اپنے عمل اور اپنی سوچ سے اس دیوار کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ جب تک ہم ایک ہیں، ہم ناقابل شکست ہیں۔ ہماری بقا، ہماری ترقی اور ہماری پہچان صرف اور صرف اسی "بنیان مرصوص” کی صفت کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔
