کائنات کی وسعتوں میں جب پہلا حرفِ "کُن ” گونجا ہوگا ۔ تو مٹی کے اس ڈھیر نے شاید یہ نہ سوچا ہوگا کہ اسے کسی بلند مقصد کی اینٹ بننا ہے۔ وجود کی اس لامتناہی بے ترتیبی میں انسان کا ظہور محض ایک مادی واقعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی اجتماعیت کا نقطۂ آغاز تھا۔
لفظ بنیان مرصوص کی گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فرد کی حیثیت ایک قطرے کی سی ہے۔ جو تنہا ہو تو تپتے ہوئے صحرا کی ریت میں گم ہو جاتا ہے، لیکن اگر یہی قطرہ سمندر کے وجود میں ڈھل جائے تو لہروں کا تلاطم بن کر چٹانوں کے جگر پاش پاش کر دیتا ہے۔ بنیانِ مرصوص محض ایک لفظ نہیں،
یہ ایک فلسفہ ہے۔ ایک ایسی دیوار کا نقشہ جس میں ہر اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا ہے۔ جہاں دراڑیں پڑنا وجود کے خاتمے کی تمہید ہوتی ہیں اور استحکام، بقا کی پہلی شرط۔
جب ہم ” بنیانِ مرصوص” کہتے ہیں، تو ہم اس سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا تذکرہ کرتے ہیں جس کے اجزاء اپنی انفرادیت کو ایک بڑے مقصد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ عشق کی بھٹی میں تپ کر، خودی کے سانچے میں ڈھل کر،جب روحیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہیں۔ تو وہ گوشت پوست کا انبار نہیں رہتیں، بلکہ ایک ناقابلِ شکست حصار بن جاتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی نظریات کی بنیادیں کھوکھلی ہوئیں، تہذیبوں کے محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ رومی، یونانی اور بازنطینی سلطنتیں اپنی مادی قوت کے باوجود اس لیے مٹ گئیں کیونکہ ان کے ڈھانچے میں وہ باہمی پیوستگی نہ تھی جو اسے ” بنیانِ مرصوص” بناتی۔ اس کے برعکس، صحرائے عرب سے اٹھنے والی وہ لہر جس نے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کو لرزا دیا، وہ محض تلواروں کی چمک نہ تھی، بلکہ اس فکر کا کرشمہ تھا جس نے کالے کو گورے پر، اور عربی کو عجمی پر فوقیت دینے کے بجائے تقویٰ اور اتحاد کو بنیاد بنایا۔وہاں کوئی اجنبی نہ تھا،وہاں کوئی دوسرا نہ تھا۔ سب ایک ہی تسبیح کے دانے تھے۔ جن کا مرکز ایک،جن کا رخ ایک،جن کی منزل ایک۔
آج کا دور مادیت پرستی کا وہ طوفان ہے جہاں انسان اپنی شناخت کی تلاش میں خود کو دوسروں سے کاٹ رہا ہے۔ ہم نے انفرادی کامیابی کو تو معراج سمجھ لیا، لیکن یہ بھول گئے کہ اکیلا درخت کبھی جنگل نہیں بن سکتا۔ ہماری فکر آج حصاروں میں قید ہے۔ ہم نے فرقوں کی، رنگوں کی، اور نسلوں کی دیواریں تو کھڑی کر لیں، مگر وہ دیوار نہ بنا سکے جو دشمن کے سامنے سدِ سکندری بنتی۔
فلسفہِ وجودیت کے پیروکار جب یہ کہتے ہیں کہ "دوسرا جہنم ہے”۔ تو وہ اس عظیم وحدت کی نفی کرتے ہیں جو بنیانِ مرصوص کی جان ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے آئینہ نہ بنیں، اگر ہم ایک دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیں، تو معاشرہ ریت کے اس ڈھیر کی مانند ہو جاتا ہے جسے ہوا کا ایک معمولی جھونکا اڑا لے جاتا ہے۔
آؤ کہ آج ہم، اپنے وجود کی کرچیوں کو سمیٹیں، اور ان کو ارادے کی آنچ پر پگھلائیں۔ نفرتوں کے ملبے سے نکل کر، محبتوں کی ایک ایسی دیوار اٹھائیں ۔ جس کی بنیادیں زمین کی گہرائیوں میں ہوں، اور جس کے کنگرے ستاروں سے باتیں کریں۔ ہم بنیانِ مرصوص ہیں، ہم وہ آہنی زنجیر ہیں، جس کی ہر کڑی ایک عہد ہے، جس کا ہر موڑ ایک گواہی ہے۔ ہم بکھرنے کے لیے نہیں،بلکہ کائنات کو تسخیر کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔
بنیانِ مرصوص بننے کے لیے صرف ظاہری اتحاد کافی نہیں، اس کے لیے باطنی ہم آہنگی ضروری ہے۔ جب تک فکر کی گہرائیوں میں ہم ایک نہیں ہوں گے، ہماری صفوں میں خلل رہے گا۔ یہ ایک ایسی بلند فکری سطح ہے،جہاں انا کا بت پاش پاش ہو جاتا ہے۔ جہاں ” میں” مر جاتی ہے،اور ” ہم” کا جنم ہوتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر کی بصیرت اور سپاہی کی ہمت یکجا ہو جاتی ہے۔ جہاں قلم کی نوک اور تلوار کی دھار ایک ہی منزل کی سمت اشارہ کرتی ہیں۔
آج کے دور میں بنیانِ مرصوص بننے کا مطلب صرف میدانِ کارزار میں کھڑے ہونا نہیں، بلکہ فکری محاذ پر بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہے۔ علم کی روشنی وہ سیمنٹ ہے جو انسانیت کی اینٹوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔
اگر فکر آزاد نہ ہو،اگر سوچ پابندِ سلاسل ہو، تو وہ دیوار کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنے شعور کو ان بلندیوں تک لے جانا ہوگا جہاں ہمیں یہ ادراک ہو کہ ہماری بقا ہماری وحدت میں ہے۔ دشمن ہمیں مٹانے کے لیے ہماری صفوں میں دراڑیں ڈھونڈتا ہے، لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری جڑیں اس مٹی کے ضمیر میں پیوست ہیں۔
بنیانِ مرصوص ہونا ایک دائمی عمل ہے۔ یہ کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں، بلکہ لمحہ لمحہ خود کو تعمیر کرنے کا نام ہے۔ جب ہم اپنی خواہشات کو اجتماعی مفاد پر قربان کرتے ہیں، جب ہم اپنے بھائی کی تکلیف کو اپنی آنکھ کا آنسو سمجھتے ہیں، تب ہم اس عظیم عمارت کا حصہ بنتے ہیں جسے وقت کا سیلاب بھی نہیں بہا سکتا۔ ہم وقت کی پیشانی پر لکھا ہوا،وہ حرفِ حق ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔ ہم وہ چٹان ہیں، جس سے ٹکرا کر لہریں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ ہم وہ سکون ہیں، جو طوفان کے مرکز میں ہوتا ہے۔
آخری بات یہ کہ ” بنیانِ مرصوص” ہونا صرف ایک عزم نہیں، بلکہ ایک تقاضا ہے۔ وہ تقاضا جو ہم سے ہماری بہترین صلاحیتوں کا نچوڑ مانگتا ہے۔ آسمان کے نیلے پن سے لے کر،زمین کی سیاہی تک،جہاں جہاں حق کی آواز گونجے گی۔ وہاں ہم کھڑے ہوں گے،ایک ایسی دیوار بن کر، جسے پار کرنا ناممکن ہے۔ جسے ڈھانا محال ہے، کیونکہ ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔
