Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: زرین زاہد

کائنات کا نظام ازل سے حق اور باطل کی پیہم کشمکش کے گرد گھومتا رہا ہے۔ تاریخ کے ہر موڑ پر باطل جب بھی سر اٹھاتا ہے ، وہ اپنے مکر و فریب، مادی وسائل اور عددی برتری کے زعمِ باطل میں مبتلا ہوتا ہے۔ حق کی اصل طاقت مادیت کے انبار میں نہیں ہے ؛ بلکہ اس قلبی جذبے اور روحانی قوت میں پنہاں ہوتی ہے جسے "یقینِ محکم” کہا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ان مجاہدوں اور راہِ حق کے مسافروں کی صفت بیان کرتے ہوئے ایک ایسی جامع اصطلاح استعمال کی ہے ؛ جو رہتی دنیا تک ہمت، شجاعت اور استقامت کا دائمی استعارہ بن گئی ہے۔

یہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک غازی کے عزم اور ایک مجاہد کے ایمان کا وہ مضبوط ترین پڑاؤ ہے؛ جہاں دنیا کی تمام تر ترغیبات دم توڑ دیتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنی لاریب کتاب قرآنِ مجید کی سورۃ الصف میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں آشکار فرمایا ہے:
” انَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ
ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے؛ جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔“
اس آیتِ کریمہ میں ان نفوسِ قدسیہ کا تذکرہ ہے ؛ جو اپنے نصب العین کی خاطر اس قدر فرض شناسی سے کام لیتے ہیں کہ جذبات کے تمام بندھن توڑ دیتے ہیں۔ وہ مجاہد جو اپنی علیل اور ضعیف ماں، ٹانگوں سے معذور باپ اور حالات کے ستائے مجبور بھائی کو تنہا چھوڑ کر صرف اس لیے نکل پڑتے ہیں کہ پکارِ حق انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ انہوں نے ہر رشتے سے اول اللہ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو رکھا ؛ تو خالق کائنات نے بھی انہیں اپنے محبوب اور پسندیدہ لوگوں کی فہرست میں شامل فرما کر ابدیت بخش دی۔ "بنیانِ مرصوص” ایک ایسا عہدِ وفا ہے کہ جب مجاہد اس کی حقیقت کو پا لیتا ہے ؛ تو اسے ایسی غیبی طاقت عطا ہوتی ہے کہ وہ تنِ تنہا باطل کے سامنے ہمالیہ جیسی استقامت کا مظہر بن جاتا ہے۔ باطل اپنے تمام تر ہتھیاروں کے ساتھ تڑپتا، چیختا اور للکارتا رہ جاتا ہے اور جب حق کی پکڑ میں آتا ہے تو فرار کے راستے ڈھونڈتا ہے؛ مگر یہ دیوار اسے راستہ نہیں دیتی۔

بنیانِ مرصوص محض اینٹ، پتھروں اور گارے سے تعمیر شدہ کسی دیوار کا نام نہیں ؛ بلکہ یہ وہ قلبی اتحاد ہے ،جہاں انفرادی مفادات، ذاتی خواہشات اور گروہی وابستگیاں ختم ہو کر ایک عظیم اجتماعی مقصد کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہ رب العزت کا وہ خاص اشارہ ہے ان جری جوانوں کے لیے جنہوں نے دنیاوی جاہ و حشم، آسائشوں اور گھر بار کے سکون کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا کہ ان کا اللہ سے لو لگانے کا سودا ہو چکا تھا۔ یہ وہ فولادی دیوار ہے جسے نہ تو دنیاوی لالچ کی دیمک چاٹ سکتی ہے اور نہ ہی موت کا مہیب خوف گرا سکتا ہے۔
آج جب میں نے بنیانِ مرصوص کے عنوان پر قلم اٹھایا ہے، تو میرا ذہن ان عظیم بہادروں کی طرف مڑ گیا ہے ؛ جن کی داستانیں تاریخ کے سینے پر روشنائی سے نہیں ؛ بلکہ خونِ جگر سے لکھی گئی ہیں۔ میں ان غازیوں اور شہداء کا ذکر کیسے نہ کروں ؛ جنہوں نے اپنی رخصتی کے دوسرے ہی دن سہاگن کی چمکتی اور اُمید بھری آنکھوں کو الوداع کہا، اپنے جواں سال بھائی کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھایا، مگر وطن کی پکار سن کر دہلیز سے رخصت ہوتی اپنی لاڈلی بہن کی ڈولی کو مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ان کے نزدیک بہن کی جدائی سے بڑا دکھ وطن کی حرمت پر آنے والی آنچ تھی۔

ان کے ارادے چٹانوں سے زیادہ سخت اور فرض کی پکار ہر خونی رشتے سے بلند تھی۔ اسی صفِ اول کے ایک سپاہی کی داستان روح کو تڑپا دیتی ہے ؛ جس نے اپنی اس معصوم نومولود بچی کو جسے اس نے جگر کا ٹکڑا اور اپنی زندگی کا کل اثاثہ قرار دیا تھا،؛ اپنے ہی ہاتھوں میں دم توڑتے دیکھا۔ اس باپ کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ مگر اس کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ فرض کا تقاضا اتنا اٹل تھا کہ اسے اپنی لختِ جگر کو مٹی کی آغوش میں اتارنے کی مہلت بھی نہ ملی؛ کیونکہ سرحد پر دشمن کی ناپاک آہٹ سنائی دے رہی تھی اور اسے اس "سیسہ پلائی دیوار” کی وہ اینٹ بننا تھا؛ جس پر قوم کی سلامتی کا انحصار تھا۔

یہی وہ لوگ ہیں؛ جو "بنیانِ مرصوص” کی حقیقی اور عملی تصویر ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے ذاتی دکھ ہیچ اور قومی وقار و ملی حمیت مقدم ہے۔ آج کے اس پر آشوب دور میں ہمیں بھی اسی جذبے، اسی اتحاد اور اسی یقینِ محکم کی ضرورت ہے۔ اگر ہم فرقوں، لسانیت اور ذاتی مفادات کے حصار سے نکل کر ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی۔ یاد رکھیے! حق کا معرکہ صرف بارود اور گولی سے میدانِ جنگ میں ہی نہیں جیتا جاتا؛ بلکہ یہ کردار، گفتار اور استقامت کے میدان میں بھی لڑا جاتا ہے۔ ہم نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے؛ کہ ہم آج بھی وہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار یعنی "بنیانِ مرصوص” ہیں۔

More posts