Baaghi TV

ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:مریم خضر

تاریخ کے سنہرے اوراق کو جب جب بھی پلٹا گیا تب تب ہی یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے خواب جو دشمنان اسلام دیکھتے رہے تھے، وہ فضا میں کرچیوں کی مانند ایسے بکھرے ہیں کہ جس کی چبھن کو یاد کر کے آج بھی دشمن کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ اگر بات کی جائے اس میدان کی جو "جنگ بدر” میں سجا تھا۔ مسلمانوں کی اتنی قلیل تعداد اور کفار کثیر تعداد کے ہوتے ہوئے بھی بری طرح سے شکست سے دوچار ہوا تھا۔ کفار طاقت کے نشے میں چور ہو کر ایسے لشکر سے ٹکرایا جو مدد خدا اور قوت ایمانی کے بل بوتے پر لڑ رہا تھا۔ حتی کہ معزز فرشتوں کی صفیں بھی اس دن اتری تھیں مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے۔ باطل حق کے سامنے پاش پاش ہو گیا۔ پھر 1965 میں دشمن نے بزدلی کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے رات کے وقت وطن عزیز پر دھاوا بول دیا۔ اسے لگا تھا کہ وطن عزیز کے محافظ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوں گے۔ اور وہ صبح کی چائے لاہور میں نوش فرمائیں گے۔ لیکن اسے کیا خبر تھی کہ اس قوم کی مائیں بچپن میں ہی اپنے بچوں کو گھٹی میں وطن سے وفاداری اور شہادت کا درس دیتی آئی ہیں۔ پاکستان جنگی ساز و سامان اور اسلحہ میں دشمن سے کئی گنا کم تھا۔ لیکن ہماری قوم کے جیالوں میں جذبہ ایمانی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ بھارت نے "چونڈہ” کے محاذ پر قابض ہونے کی کوشش کی تو ہمارے نوجوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر ان کے ان گنت ٹینکوں کو اڑا دیا تھا اور فتح و نصرت اپنے نام کر لی تھی۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دیے تم نے

حال ہی میں دوبارہ دشمن نے "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ کئی بار ناکامیوں کا سامنے کرنے کے باوجود دشمن متعدد بار یہ کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس ملک کو مٹا دیا جائے۔ دشمن کی آنکھ میں اسلام کے نام پر بنی یہ ریاست کھٹکتی ہی رہتی ہے۔ لیکن ہماری بہادر فوج نے دشمن کے دانت اس انداز میں کھٹے کئے ہیں کہ اب وہ رہتی دنیا تک یہ زخم یاد کر کے بلبلاتا رہے گا۔ بھارت کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جذبہ ایمانی سے سرشار ہمارے نوجوانوں نے بہادری کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ پوری دنیا داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔ جانبازوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وطن عزیز کی حفاظت کی ہے۔ فضا میں کارنامے سر انجام دیتے ہوئے دشمن کے ان گنت جنگی جہازوں کو مار گرایا ہے۔ تاک تاک کر نشانے لگائے ہیں کہ کوئی بھی نشانہ خطا نہ ہونے پائے۔ دشمن کے وہ جنگی جہاز جن کی دھوم اور شہرت پوری دنیا میں تھی۔ وہ زمین پر سجدہ ریز ہوئے پڑے تھے۔ دشمن کا غرور خاک میں مل گیا تھا۔ پاکستان کی افواج کی فضا میں ہونے والی کاروائی کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔ لیکن یہ سب صرف اس وقت تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ مستقبل میں جب بھی کوئی دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی کوشش کرے گا تب ہی اسے یہ باور کروایا جائے گا کہ اس کا پالا کس قوم سے پڑا ہے۔ ایسی قوم کہ جو تلواروں کے سائے میں پل کر جوان ہوئی ہے۔ جو شہادت کو تمغہ سمجھ کر اپنے سینے پر سجاتی ہے۔ جس کے لیے وطن عزیز سب سے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ہم "بنیان مرصوص”رہے تھے، رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی کہ "سیسہ پلائی دیوار” جس کو کوئی بھی گرا نہ سکے۔ نوجوان ماؤں اور بہنوں کے آنچل کی لاج رکھتے ہیں۔ قائد سے کیے ہوئے وعدے کی پاسداری کرتے ہیں۔ جو وطن عزیز ان گنت قربانیوں کے صلے میں ملا اس کی قدر دل کی گہرائیوں سے کرتےہیں۔ دشمن ہمیشہ سے ہی وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں مشغول رہتا ہے۔ لیکن اسے کیا معلوم ہے کہ ان جڑوں کی آبیاری میں خون سینچا گیا ہے۔ کیا بھلا کبھی خون کا رنگ بھی پھیکا پڑا ہے؟ بات کی جائے فلسطین کی تو وہاں بھی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ گئی ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے کلمہ حق کی بلندی کے لیے وہ سب کچھ کیا جو ایک مسلمان کرتا ہے۔ انہوں نے باطل کو جس انداز میں للکارا ہے۔ دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر جس طرح وہ بہادر نوجوان کھڑے ہوئے ہیں یہ کام صرف جذبہ ایمانی ہی کروا سکتا ہے۔ زندگی ان پر تنگ ہو گئی لیکن پھر بھی وہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے جذبے سرد نہیں پڑے۔ بلکہ مزید ابھر کر وہ سامنے آئے ہیں۔ اللہ رب العزت پاکستان کی افواج کو سلامت رکھے۔ یہ وہ فوج ہے جس نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنے سر لے لی ہے۔ اللہ رب العزت اس فوج سے دنیا کی امامت کا بہترین کام لے۔ آمین ثم آمین

More posts