Baaghi TV

پچاس برس کی سیاست، گوجرخان کو آخر ملا کیا؟تحریر : قمرشہزاد مغل

گوجرخان کو برسوں سے راجوں کی تحصیل کہا جاتا ہے۔ مگر آج ایک سوال پورے وقار کے ساتھ کھڑا ہے راج تو بہت ہوئے، مگر رعایا کے حصے میں آیا کیا؟ یہ دھرتی وطن کو غازی بھی دیتی ہے، شہید بھی دیتی ہے، گیس بھی دیتی ہے، ٹیکس بھی دیتی ہے، ووٹ بھی دیتی ہے۔ مگر جب اس کے اپنے بچے تعلیم مانگتے ہیں، مریض علاج مانگتے ہیں، نوجوان روزگار مانگتے ہیں اور مائیں صاف پانی مانگتی ہیں تو جواب میں انہیں وعدے، اعلانات اور سنگِ بنیاد ملتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ گوجرخان کی بڑی سرکاری شناختیں گزشتہ صدی کی یادگاریں ہیں۔ گورنمنٹ مسلم ہائی سکول 1919ء، گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول 1930ء کی دہائی، سرور شہید کالج 1960ء، خواتین ڈگری کالج 1978ء اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال 1979ء میں قائم ہوئے۔ اس کے بعد سوال صرف ایک ہے گزستہ پچاس برس کی سیاست نے گوجرخان کو ایسا کون سا تحفہ دیا جسے آنے والی نسلیں فخر سے یاد کریں؟ اگر جواب خاموشی ہے تو یہ خاموشی ہی سب سے بڑا الزام ہے۔ آج بھی غریب کا ہونہار بچہ اعلیٰ تعلیم کے لیے راولپنڈی کی طرف دیکھتا ہے، کیونکہ گوجرخان میں کوئی بڑی سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں۔ نجی جامعات کے دروازے صرف ان کے لیے کھلے ہیں جن کی جیب بھاری ہے۔ غریب کے بچے کے لیے تعلیم حق نہیں، ایک مہنگا خواب بن چکی ہے۔

صحت کے شعبے کی تصویر اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ تقریباً نصف صدی قبل قائم ہونے والا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان آج بھی جدید آئی سی یو، وینٹی لیٹر، کیتھ لیب، مکمل نوزائیدہ نگہداشت اور مؤثر ٹراما سہولتوں سے محروم ہے۔ ایمرجنسی کے نام پر اکثر مریض راولپنڈی ریفر کر دیے جاتے ہیں۔ یہ ریفر صرف ایک طبی اصطلاح نہیں بہت سے خاندانوں کے لیے امید سے مایوسی تک کا سفر ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان چند کلومیٹر کا یہی فاصلہ کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تحصیل کے عوام کو بروقت علاج ہی میسر نہ ہو تو ترقی کے دعوے کس کام کے؟ پھر روزگار کی کہانی دیکھیے۔ جی ٹی روڈ پر واقع، اسلام آباد اور راولپنڈی کے دروازے پر کھڑا گوجرخان آج بھی کسی بڑے صنعتی زون کا منتظر ہے۔ نوجوان روزگار کی تلاش میں روزانہ میلوں کا سفر کرتے ہیں یا پردیس کی راہوں میں اپنی جوانیاں کھپا دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر مقام، وسائل اور افرادی قوت سب موجود تھے تو صنعت کیوں نہ آئی؟ المیہ صرف یہ نہیں کہ وسائل نہیں، المیہ یہ ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود عوام محروم ہیں۔ مسا کسوال اور اہدی کی گیس ملک کے دوسرے علاقوں کو روشن کرتی ہے، مگر خود گوجرخان کے کئی علاقے لوڈشیڈنگ کی اذیت سہتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کے مسائل عوام کی زندگی مزید مشکل بنا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو خطہ پورے ملک کو وسائل دے رہا ہو، کیا وہ خود بنیادی سہولتوں کا حق دار نہیں؟ یہ تضاد صرف انتظامی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ یہ تحریر کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ اس سیاسی رویے کے خلاف ہے جس میں ہر انتخاب سے پہلے وعدوں کے چراغ جلتے ہیں اور انتخاب کے بعد امیدوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ عوام کو نعروں سے نہیں، اداروں سے ترقی ملتی ہے، تصویروں سے نہیں، منصوبوں سے، تقریروں سے نہیں، عملی کارکردگی سے۔ ہر الیکشن میں سڑکوں پر قافلے نکلتے ہیں، جلسوں میں دعوے گونجتے ہیں، بینر بدل جاتے ہیں، چہرے مسکراتے ہیں، وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر انتخابات گزرنے کے بعد وہی ٹوٹی سڑکیں، وہی خستہ ہسپتال، وہی بے روزگار نوجوان اور وہی مایوس والدین رہ جاتے ہیں۔ سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوام کی تقدیر بدلنا ہوتا ہے۔ اگر نسلیں بدل جائیں مگر مسائل نہ بدلیں، تو پھر احتساب صرف حکومتوں کا نہیں، سیاسی سوچ کا بھی ہونا چاہیے۔ گوجرخان کے عوام کو اب یہ سوال ہر امیدوار، ہر جماعت اور ہر منتخب نمائندے سے پوچھنا ہوگا، کیا آپ نے گوجرخان کو صرف ووٹوں کا گودام سمجھا، یا اسے ترقی کا بھی حق دار مانا؟ کیونکہ تاریخ تقریروں کی گونج نہیں سنبھالتی، تاریخ جدید ہسپتال، یونیورسٹیاں، صنعتیں، روزگار اور خوشحال نسلیں یاد رکھتی ہے۔ اور اگر نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ایک شہر اپنے بیمار کو علاج، اپنے نوجوان کو روزگار، اپنے طالب علم کو اعلیٰ تعلیم اور اپنے شہری کو صاف پانی نہ دے سکے، تو پھر مسئلہ عوام کی قسمت نہیں، حکمرانی کی ترجیحات ہوتی ہیں۔ گوجرخان اب خاموش نہیں، سوال بن چکا ہے۔ اور یاد رکھیے، جب شہر سوال بن جائیں تو تاریخ کے پاس جواب مانگنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی

More posts