Baaghi TV

آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر،تجزیہ:شہزاد قریشی

آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر

امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ جنگ نہیں، مذاکرات وقت کی ضرورت

تیل، تجارت اور تنازع ایران امریکہ کشیدگی کے عالمی

ہرمز میں تناؤ، دنیا میں بے چینی
امریکہ ایران کشمکش نقصان سب کا، فائدہ کسی کا نہیں

جنگ کے سائے میں عالمی معیشت
مشرقِ وسطیٰ پھر بارود کے ڈھیر پر

آبنائے ہرمز سے اٹھتے خطرات اور دنیا کا مستقبل

مذاکرات یا محاذ آرائی؟ امریکہ اور ایران کے سامنے بڑا سوال

تجزیہ شہزاد قریشی

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والے تنازع نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے جب بھی اس آبی راستے میں تناؤ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی امریکی اور ایرانی مؤقف میں سختی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ تنازع ختم کیوں نہیں ہوتا؟ امریکہ خطے میں اپنے مفادات، اتحادی ممالک اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اس حد تک گہری ہو چکی ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہونے والی پیش رفت بھی اکثر میدانِ سیاست یا میدانِ جنگ میں جا کر متاثر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی جنگ بندیوں اور معاہدوں کے باوجود کشیدگی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار قابلِ ذکر رہا ہے۔ پاکستان نے ماضی قریب میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر امید پیدا کی کہ شاید خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے، لیکن بنیادی اختلافات، خصوصاً آبنائے ہرمز اور سکیورٹی معاملات پر، اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اگر امریکہ اور ایران تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا نقصان صرف انہی دو ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ خلیجی ممالک، ایشیائی معیشتیں، یورپی منڈیاں اور ترقی پذیر ممالک سب متاثر ہوتے ہیں۔ تیل اور گیس مہنگی ہوتی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تجارتی راستے متاثر ہوتے ہیں اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کے شعلے بھڑکانا آسان لیکن انہیں بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اگر دونوں ممالک مذاکرات، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر آبنائے ہرمز کا ہر نیا بحران عالمی معیشت کے لیے ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بندوق کی زبان کو خاموش کر کے مذاکرات کی زبان کو فروغ دیا جائے، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام، عالمی معیشت اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

More posts