آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے اور یہ ہر سیاسی جماعت کا حق بھی ہے۔ تاہم تنقید کی بنیاد حقائق اور زمینی حقائق کے درست ادراک پر ہونی چاہیے۔ اگر حقائق سے صرفِ نظر کیا جائے تو سیاسی بیانیہ کمزور اور عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک جلسۂ عام میں پوٹھوہارکے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ترقی کا دائرہ محدود ہے۔ لیکن اگرپوٹھوہارکے خطے کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو تصویر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔پوٹھوہارمحض راولپنڈی کا نام نہیں بلکہ جہلم، چکوال، راولپنڈی اور اٹک پر مشتمل ایک وسیع خطہ ہے، جہاں حالیہ عرصے میں متعدد ترقیاتی منصوبے عوام کی نظروں کے سامنے ہیں۔
راولپنڈی شہر میں راجا بازار، صدر، کچہری چوک اور دیگر اہم شاہراہوں پر جاری تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ گوجرخان میں اربوں روپے مالیت کے منصوبے علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی کی نئی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اسی طرح جہلم، چکوال اور اٹک میں سڑکوں کی بہتری، شہری سہولیات، صفائی کے نظام، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ پٹھوار کا خطہ ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہا ہے۔
یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شاید بلاول بھٹو زرداری تک پہنچنے والی معلومات مکمل یا درست نہ ہوں۔ کیونکہ زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے والا ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ وزیراعلیٰ پنجاب کی نگرانی میں مختلف منصوبوں پر مسلسل کام کر رہی ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
جمہوریت میں اختلافِ رائے حسن سمجھا جاتا ہے، تنقید سیاسی عمل کا لازمی جز ہے، لیکن حقائق کو نظرانداز کرکے بیانیہ تشکیل دینا عوام کے شعور کے ساتھ انصاف نہیں۔ سیاسی مخالفین پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر زمینی حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔پوٹھوہارکی سرزمین آج بھی اپنے بدلتے ہوئے انفراسٹرکچر، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے ذریعے خود گواہی دے رہی ہے کہ یہ خطہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
سیاست میں بیانیے وقتی ہو سکتے ہیں، مگر سڑکیں، تعلیمی ادارے، ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح کے کام وہ حقائق ہوتے ہیں جو ہمیشہ اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔
